آئینہ توڑنے اور بدلنے سے کیا ہو گا؟

تمام تر ناکامیوں کے باوجود ابھی تک کوئی اشارہ ایسا نہیں ملا کہ عمران سرکار اپنے طریقہ کار اور حکمت عملی میں کوئی بنیادی تبدیلی کرنے جارہی ہے۔

انقلابی شاعر احمد فراز کے بیٹے شبلی فراز جو پیشے کے اعتبار سے سرمایہ کار بینکر ہیں اور اب تک سینیٹ میں قائد ایوان کے منصب پر فائز تھے اب وفاقی وزیر اطلاعات کے منصب پر فائز ہو گئے ہیں۔(اے ایف پی)

کرونا (کورونا) کی ہلاکت خیزیاں جاری ہیں۔ پچھلے ایک ہفتے میں چھ ہزار سے زائد نئے مریض سامنے آئے ہیں اور اسی ایک ہفتے کے اندر ڈیڑھ سو سے زائد پاکستانی اس وبا سے موت کی وادی میں کوچ کر گئے ہیں۔

اب رفتار اتنی تیز ہے کہ پنجاب میں ٹیسٹنگ منجمد ہونے کے باوجود جمعرات اور جمعے کے درمیان صرف 24 گھنٹوں میں نئے مریضوں کی تعداد ایک ہزار کے قریب تھی۔  لیکن اسلام آباد کی اونچی پہاڑی پر بیٹھے ہمارے وزیر اعظم کی سوئی خراب گراموفون کی طرح آج بھی لاک ڈاؤن کے بیانیے میں پھنسی ہوئی ہے۔ اس ذہنی خلل کے ساتھ ساتھ بجائے بہتر قومی بیانیہ ترتیب دینے کے، میڈیا اور حزب اختلاف پر تابڑ توڑ حملے جاری ہیں۔ ایسے میں وزیر اعظم نے میڈیا میں اپنی حکومت کا تاثر تبدیل کرکے اپنا چہرہ نئے آئینے میں دیکھنے کے لیے نیا میڈیا متعارف کرایا ہے۔ اس نئے آئینے کا مستقبل البتہ پرانے آئینے سے مختلف نہ ہو گا۔

اس ہفتے کرونا کے خلاف لڑائی میں سب سے بری خبریں پنجاب سے آئی ہیں اور وہ خبر یہ ہے کہ کوئی خبر نہیں آئی۔ باوجود اس بات کے کہ تمام قرائن یہ بتاتے ہیں کہ کرونا پاکستان میں تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے، پنجاب کے اندر روزانہ ٹیسٹنگ  کو بڑھانے کی بجائے کم کیا گیا ہے۔ شروع میں اس کی تردید کرنے کی کوشش کی گئی لیکن جب ناقابل تردید حقائق سامنے آئے تو وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے تسلیم کیا کہ واقعی ٹیسٹنگ کم کی گئی ہے۔ کئی دنوں میں یہ ٹیسٹنگ صوبہ سندھ کے مقابلے میں دو سے تین گنا کم رہی۔ نتیجہ اس کا یہ نکلا کہ پنجاب سے سرکاری تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد کم ہو کر صوبہ سندھ کی تعداد سے بھی کم ہو گئی ہے۔

اس سے ایک ایسا تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی کہ جیسے پنجاب میں موثر لاک ڈاؤن نہ ہونے کے باوجود کرونا مریضوں کی تعداد کم ہے جبکہ سندھ میں سخت لاک ڈاؤن کے باجود مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ حقیقت البتہ اس کے برعکس ہے۔ دنیا کے کئی پس ماندہ ممالک جہاں ٹیسٹنگ کی سہولیات موجود نہیں ہیں وہاں کرونا مریضوں کی تعداد صفر ہے کیونکہ وہاں یہ جاننے کا کوئی طریقہ موجود نہیں ہے کہ وہاں کس کو کیا بیماری لگی ہوئی ہے۔ اب  آپ کو پتہ تب چلے گا جب بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ ہو گی۔ کیونکہ پچھلے ہفتے کے اعداد و شمار کے مطابق لوگوں میں خاص طور پر پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں کرونا کو سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا اس لیے خدشہ ہے کہ اگلے ہفتے سے خوفناک حقائق کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اس صورت حال کے باوجود وزیر اعظم عمران خان جو مارچ کے مہینے میں جنم لینے والی نوزائیدہ قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاسوں کی سربراہی کرتے ہیں جن میں لاک ڈاؤن سے متعلق فیصلے کیے جاتے ہیں، اسی لاک ڈاؤن کے خلاف اپنی بیان بازی سے باز نہیں آ رہے۔ جمعرات کے دن ایک بار پھر انہوں نے اپنی توپوں کا رخ اس لاک ڈاؤن کی طرف کیا اور کہا کہ پاکستان کی اشرافیہ نے غریب عوام کے مفادات کو نظر انداز کرتے ہوئے ملک بھر میں لاک ڈاؤن لگوایا ہے۔ یہ بیان حیرت انگیز ضرور ہے کیونکہ جو رابطہ کمیٹی لاک ڈاؤن کے فیصلے کرتی ہے، اس کی صدارت وزیر اعظم عمران خان خود کرتے ہیں اور اس میں اکثریت ان کی جماعت کی ہے۔ پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان اور وفاق میں ان کی ہی حکومت ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا سندھ کی حکومت کے پاس کوئی ویٹو پاور ہے جو وفاقی حکومت کو لاک ڈاؤن لگانے اور توسیع دینے پر مجبور کرتا ہے؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سوال تو یہ بھی ہے کہ اشرافیہ کے خلاف مسلسل بھاشن دینے والے وزیراعظم کے دور میں ہی آٹے اور چینی کے سوداگروں کو فائدے بھی پہنچائے گئے اور اب ایک بار پھر ریئل اسٹیٹ کے بڑوں کو نئی ایمنیسٹی  دی جا رہی ہے۔ یوم مئی کے موقع پر پی آئی اے کے ملازمین کی مختلف تنظیموں سے کیے گئے تمام معاہدے منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ لوگ سوال ضرور کریں گے کہ اشرافیہ کےطخلاف بولتے بولتے فوائد اشرفیہ کو کیوں پہنچائے جا رہے ہیں۔

اسی ہفتے ایک بار پھر وزیر اعظم نے وزارت اطلاعات و نشریات کی قیادت میں تبدیلیاں کر دیں۔ ایک سال دس  دن تک معاون خصوصی رہنے والی فردوس عاشق اعوان کو ہٹا دیا گیا اور ان کی جگہ ایک نہیں دو افراد کو وزارت میں لے آئے۔ انقلابی شاعر احمد فراز کے بیٹے شبلی فراز جو پیشے کے اعتبار سے سرمایہ کار بینکر ہیں اور اب تک سینیٹ میں قائد ایوان کے منصب پر فائز تھے اب وفاقی وزیر اطلاعات کے منصب پر فائز ہو گئے ہیں۔ لیکن ان کے ساتھ سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ کو اعزازی حیثیت میں اسی وزارت میں معاون خصوصی کی حیثیت سے مقرر کیا گیا ہے۔ ان تعیناتیوں کے ساتھ الیکشن سے پہلے مختصر کابینہ کے وعدے کرنے والے وزیراعظم کی کابینہ کی نصف سینچری ہو گئی ہے۔

ابھی یہ نہیں بتایا گیا کہ ان دو حضرات کے درمیان کام کی تقسیم کیا ہوگی لیکن اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ جنرل باجوہ جو ماضی میں فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے واحد سہ ستارہ سربراہ بھی رہ چکے ہیں اور ملکی اور غیرملکی میڈیا کے اداروں سے تعلقات کا تجربہ رکھتے ہیں، پردے کے پیچھے اپنے تجربے کو استعمال کریں گے جبکہ شبلی فراز پریس کانفرنسوں اور ٹاک شوز میں اپنی نرم گفتاری کے جوہر جگائیں گے۔

حالیہ تبدیلی کی وجوہات پر گفتگو ابھی جاری ہے۔ حکومت نواز میڈیا کا ایک اہم ادارہ جو فردوس عاشق اعوان کی وہ تمام خوبیاں گنواتا رہتا تھا جن کے بارے میں شاید محترمہ کو خود بھی علم نہ تھا، اس نے اس تبدیلی کے پیچھے فردوس عاشق اعوان کی مبینہ کرپشن کی وہ داستانیں بیان کرنا شروع کیں جو ایک عرصے سے، ان کے پیپلز پارٹی کے دور سے، ان کا پیچھا کر رہی ہیں۔

جو اہم سوال ہے وہ یہ ہے کہ وہ سب کچھ جو فواد چوہدری اور فردوس عاشق اعوان حاصل نہ کر سکے، وہ شبلی فراز اور عاصم سلیم باجوہ کی جوڑی کیسے کر پائے گی۔ وزارت اطلاعات سے توقع یہ کی جاتی ہے کہ وہ ملک کے اندر اور باہر حکومت اور ریاست کے بیانیے کو آگے بڑھائے اور مخالف بیانیے کا توڑ کرے۔ اس وقت حکومتی بیانیے کو آگے بڑھانے میں عمران خان سمیت کئی درجن افراد جن میں منتخب اور غیر منتخب ارکان شامل ہیں، وفاقی اور صوبائی سطح پر سرگرم عمل ہیں۔ یہ اتنی بڑی فوج ہے کہ اس کی موجودگی میں بیچاری وزارت اطلاعات کیا کر پائے گی، کہنا بہت مشکل ہے۔ جو بات واضح ہے وہ یہ ہے کہ جارحانہ بیانات کے لیے شہباز گل جیسے لوگ استعمال ہوں گے اور نرم گفتاری کے لیے شبلی فراز اپنے جوہر دکھائیں گے۔ ملکی اور غیرملی میڈیا اداروں سے انتظامی معاملات شاید جنرل ریٹائرڈ باجوہ کے حوالے ہوں گے۔ باجوہ صاحب شاید غیرملکی بیانیے کو بہتر بنانے کے لیے اپنا تجربہ استعمال کریں گے۔

اہم معاملہ البتہ یہ ہے کہ اطلاعات کی مشینری آپ کی مصنوعات کی مشہوری کرتی ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ جو مصنوعات آپ کے پاس سرے سے موجود ہیں نہ ہوں آپ کا اطلاعات کا شعبہ ان کی تشہر کرسکے۔ جب طرز حکمرانی پیندے کو چھو رہی ہو، حکومت سکینڈلوں کی زد میں ہو، مسلسل وعدہ خلافی اور یوٹرنز کا دور دورہ ہو، آپ کی اپنی وزارت خزانہ تصدیق کرے کہ آپ کی معیشت منفی دو فیصد شرح نمو کی طرف گامزن ہے، ملک کی آدھی آبادی خط غربت کی طرف جارہی ہو، محاصل کا ہدف بری طرح سے ناکامی سے ہمکنار ہو، سب سے بڑے صوبے میں آئے دن ایسی انتظامی تبدیلیاں ہو رہی ہوں جن کا نہ کوئی سر ہو اور نہ پیر تو پھر آ پ وزارت اطلاعات میں آئن سٹائن بھی لاکر بٹھادیں تو وہ کیا کر سکتے ہیں؟

بیچاری وزارت اطلاعات  اور اس سے منسلک اہم اداروں کے ساتھ  راقم کو کم از کم پانچ سال کام کرنے کا موقع ملا ہے۔ اپنے تجربے کی بنیاد پر میں کہہ سکتا ہوں کہ وزارت اور اس سے منسلک ادارے ابھی بھی 50 اور 60 کی دہائی کی سوچ، تنظیمی ڈھانچے اور طریقہ کار پر چل رہے ہیں جبکہ دنیا آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے دور میں ہے۔ وزارت کے اہم عہدیدار جدید ذرائع ابلاغ سے کوسوں دور ہیں اور ابھی تک دھاگہ بندھی فائلوں اور سمریاں بنانے میں مصروف ہیں۔ یہی حال اس سے منسلک ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلیویژن کا ہے۔

کسی زمانے میں انہیں اسلم اظہر اور آغا ناصر جیسی جہاندیدہ شخصیات نے اس وقت کے جدید دور سے روشناس کرایا تھا۔ اب وہاں ماضی کے مزار پائے جاتے ہیں۔ تخلیقیت اور جدید ہنر ناپید ہے۔ اس پوری وزارت اور اس سے منسلک اداروں میں افقی اور عمودی بنیادی تبیدیلیوں کے بغیر وہاں صرف وزارتی سطح پر اکھاڑ پچھاڑ سے کوئی بنیادی تبدیلی نہیں ہو سکتی۔

اصل بات یہ ہے کہ کیا عمران سرکار اپنے طریقہ کار اور حکمت عملی میں کوئی بنیادی تبدیلی کرنے جارہی ہے۔ اس کا ابھی تک کوئی اشارہ نہیں ملا۔ آٹے اور چینی کی حتمی رپورٹ کو مزید تین ہفتوں کے لیے موخر کیا گیا ہے۔ شہباز شریف کے گرد گھیرا مزید تنگ کیا جارہا ہے۔ اب نواز شریف کو مختلف مقدمات میں دوبارہ ملوث کیا جا رہا ہے۔ سندھ حکومت کے خلاف بیان بازی رکنے کا نام نہیں لے رہی۔ حالیہ دنوں میں اٹھارویں ترمیم کے خلاف دوبارہ محاذ آرائی شروع کی گئی ہے۔ یہ سب ایسے وقت کیا جا رہا ہے جب این ایف سی ایوارڈ اپنی مدت مکمل کر چکا ہے اور عمران سرکار نئے ایوارڈ کی طرف جاتی ہوئی نظر نہیں آ رہی۔ پارلیمان عضو معطل ہے اور بجٹ سر پر کھڑا ہے۔

انسانی حقوق کمیشن، انسانی حقوق اور پریس کی آزادی سے متعلق سال 2019 کی رپورٹ میں مسلسل تنزلی کی نشاندہی کر رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں جنگ اور جیو کے سربراہ میر شکیل الرحمٰن کی نیب کے ہاتھوں 34 سالہ پرانے کیس میں مسلسل حراست کے ساتھ ساتھ یہ اطلاعات بھی آ رہی ہیں کہ جیو کے سب سے بے باک اینکر شاہزیب خانزادہ کو نکلوانے کے لیے حکومتی دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ ان اطلاعات کا افشا ہونا ایسی صورت حال ہے جس سے یہ نہیں لگتا کہ اطلاعات کی وزارت میں حالیہ تبدیلیوں سے عمران سرکار کو کوئی فائدہ حاصل ہو گا۔

کرونا کی خراب ہوتی ہوئی صورت حال اس معاملے کو مزید پیچیدہ بنائے گی اور حکومت کے لیے پریشانیوں میں مزید اضافہ ہو گا۔ بنیادی بات زمینی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔ اس کے لیے عمران سرکار کو اپنے آپ کو دوبارہ ایجاد کرنا پڑے گا۔ ایسا کرنے کے ساتھ ہی حکومت کو اپنی شکل بہتر نظر آئے گی ورنہ آئینے تبدیل کرنے اور آئینے توڑنے سے کچھ حاصل نہ ہو گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ