اٹھارویں ترمیم سے چھیڑ چھاڑ: بےوقت کی راگنی

کئی قانونی ماہرین اور تجزیہ نگار اس مسئلہ کو دوسرے زاویے سے دیکھتے ہیں۔ ان کے خیال میں یہ اختیارات کا نہیں بلکہ وسائل کا مسئلہ ہے۔

اٹھارویں ترمیم میں طاقت کے بل پر کوئی بھی تبدیلی وفاق اور اس کی اکائیوں پر حملہ ہو گا ،جس کے سنگین قومی نتائج ہو سکتے ہیں۔(پی آئی ڈی)

کرونا (کورونا) وبا سے مقابلہ کرتے ہوئے یکایک وفاقی حکومت پر انکشاف ہوا ہے کہ اس بیماری سے لڑنے کے لیے اس کی کوششوں میں اٹھارویں ترمیم سخت روڑے اٹکا رہی ہے۔ اس لیے اس وبا سے نمٹنے سے پہلے اٹھارویں ترمیم سے نمٹنا ضروری ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کا صوبہ خیبرپختونخوا میں حکومت کا ساتواں سال ہے۔ ان برسوں میں اٹھارویں ترمیم سے ملنے والی صوبائی خودمختاری اور مالی وسائل سے صوبائی حکومت نے بھرپور استفادہ کیا۔ اس دور میں انہیں کبھی یہ احساس نہیں ہوا کہ اس ترمیم سے وفاق مالی طور پر کمزور ہوگیا ہے۔ انہیں کبھی خیال نہیں آیا کہ انہیں اپنے حصے کے محاصلات میں رضاکارانہ طور پر کمی کا اعلان کر دینا چاہیے تاکہ وفاقی مشکلات کم ہو سکیں۔

اب بھی تین صوبوں میں پی ٹی آئی بلاشرکت غیر حکمران ہے لیکن ان دو سالوں میں کسی وقت بھی رضاکارانہ طور پر ان صوبائی اکائیوں نے اپنی خودمختاری یا محاصل کی وصولی میں کمی کی خواہش کا اظہار نہیں کیا تو اس وقت اس قومی بحران کے درمیان ایسی کیا آفت آن پڑی ہے کہ وفاقی حکومت نے اس وبا کا مقابلہ کرنے کی بجائے اس بےوقت کی راگنی کو چھیڑ دیا ہے۔

اٹھارویں آئینی ترمیم میں تبدیلی یا اس کا خاتمہ کبھی بھی پی ٹی آئی کے منشور کا حصہ نہیں رہا ہے۔ اس یکایک توجہ کی بہت ساری وجوہات ہیں لیکن بظاہر اس کی فوری وجہ وفاقی حکومت کی کرونا وبا سے مقابلہ کرنے کی کمزور اور ناقص پالیسی سے عوام کی توجہ ہٹانا مقصود ہے۔ اس مخلوط حکومت کے پاس تو سادہ اکثریت بھی مانگے تانگے کی ہے تو وہ تیسری طاقت کا زور بازو استعمال کیے بغیر کس طرح دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت سے اٹھارویں ترمیم کو ختم یا تبدیل کرسکے گی؟ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت میڈیا پر کرونا وبا پر وفاقی حکومت کی غیرتسلی بخش کارکردگی اور گومگو کی پالیسی پر تنقید سے توجہ ہٹا کر اسے اٹھارویں ترمیم کی جانب موڑنا چاہتی ہے۔

اگر یہ ترمیم کسی طریقے سے بھی وفاقی حکومت کی کرونا وبا سے مقابلہ کرنے کی مالی یا دیگر صلاحیتوں پر اثر انداز ہو رہی ہے تو حکومت کو اس کی تفصیلات سے قوم کو آگاہ کرنا چاہیے لیکن بظاہر حکومت اس وقت کسی خاص مالی مشکل کا شکار نظر نہیں آ رہی۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے کرونا سے نمٹنے کے لیے حکومت پاکستان کو اربوں ڈالرز کی امداد دی ہے اور بہت ساری بین الاقوامی ادائیگیوں کو بھی موخر کر دیا گیا ہے۔

سود کی شرح کو چار فیصد کم کرنے سے وفاقی حکومت کی سود کی ادائیگیوں میں بھی اربوں روپوں کی کمی آئی ہے۔ اسی طرح تیل کی گرتی ہوئی قیمت اور حکومت کا پیٹرول پر ٹیکس میں اضافے سے بھی مالی وسائل میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ ان بڑھتے ہوئے مالی وسائل سے حکومت کو موجودہ بحران کے درمیان عوام کی فلاح کے لیے کسی قسم کے منصوبے میں مالی وسائل کی کمی بظاہر نظر نہیں آرہی۔ تو پھر اٹھارویں ترمیم نے وفاقی حکومت کا کیا بگاڑا ہے جو وہ اس اتفاق رائے سے بننے والی قانون سازی کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ گئی ہے۔

اٹھارویں ترمیم میں یقینا کچھ خامیاں ہوں گی جو قومی اتفاق رائے سے مناسب قانون سازی کر کے دور کی جاسکتی ہیں اور اس کے لیے پارلیمان کا راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔ مگر یہ یاد رہے کہ یہ ترمیم پاکستان کی تمام سیاسی قوتیں چاہے وہ قوم پرست ہوں یا مذہبی یا ترقی پسند، ان سب کے اتفاق رائے سے وجود میں آئی۔

اس ترمیم نے قومی یکجہتی بڑھاتے ہوئے نہ صرف قوم پرستوں کو قومی دھارے میں شامل کیا بلکہ پنجاب کے بارے میں باقی صوبوں کی منفی اور اختلافی سوچوں کو ختم کرنے میں بھی مدد دی۔ اس ترمیم پر پارلیمانی کمیٹی جس میں بشمول پی ٹی آئی ہر پارٹی کی نمائندگی تھی، تقریباً دس ماہ طویل بحث کے بعد قانونی شکل دی گئی۔ کچھ حلقوں کے بےبنیاد پروپیگینڈے کے برعکس اس ترمیم کی تیاری کے سلسلے میں اس عرصے پر محیط بحث میں 981 تجاویز پر غور کیا گیا اور یہ وہ واحد آئینی دستاویز ہے جو مکمل اتفاق رائے سے دونوں ایوانوں میں منظور کی گئی۔ یاد رہے کہ 1973 کے آئین میں بھی بعض اراکین اسمبلی نے اختلاف کیا تھا۔

پی ٹی آئی کی موجودہ وفاقی حکومت سے پہلے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے ذریعے بھی اس ترمیم پر حملہ کرنے کی کوشش کی گئی اور قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اس پر کوئی بحث نہ ہونے کو بنیاد بنایا گیا۔ اس طرح ثاقب نثار نے جان بوجھ کر اس ترمیم پر پارلیمانی کمیٹی میں سیر حاصل اور لمبی بحث کو نظر انداز کر دیا۔ پارلیمانی نظام میں کمیٹیوں کا کردار بہت اہم ہوتا ہے کیونکہ ان میں اس شعبے کے ماہرین شامل ہوتے ہیں اور اگر کوئی بھی قانون کمیٹی میں کثرت رائے سے منظور کر لیا جائے تو عموماً ایوانوں میں یہ مزید بحث کے بغیر منظور کر لیا جاتا ہے۔ ایسا ہی اٹھارویں ترمیم کے ساتھ بھی ہوا۔

اٹھارویں ترمیم نے مرکز کو کیا نقصان پہنچایا ہے جس کی وجہ سے کچھ طاقتیں اس کے درپے ہو گئی ہیں۔ اگر ہم کچھ اختیارات کی صوبوں کو منتقلی سے مرکز کو کمزور سمجھتے ہیں تو یہی قوتیں صوبائی حکومتوں سے اختیارات بلدیاتی حکومتوں کو منتقل نہ ہونے پر شوروغوغا کیوں کرتی ہیں۔ اگر یہ مرکز کے اختیارات کم ہوتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے تو وہ صوبائی اختیارات کو کم کیوں کرنا چاہتے ہیں؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کئی قانونی ماہرین اور تجزیہ نگار اس مسئلے کو دوسرے زاویے سے دیکھتے ہیں۔ ان کے خیال میں یہ اختیارات کا نہیں بلکہ وسائل کا مسئلہ ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہماری طاقتور اسٹیبلشمنٹ کو اٹھارویں ترمیم سے سخت اختلافات ہیں کیونکہ ان کے خیال میں اس کی وجہ سے وفاقی حکومت ان کےلیے مزید وسائل مہیا کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہے اور اس سے ان کی دفاعی قوت پر منفی اثر پڑا ہے۔ جس طرح ہمارے دوسرے سیاسی اور معاشی مسائل پر اسٹیبلشمنٹ کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کرتی رہی ہے اسی طرح انہوں نے اٹھارویں ترمیم کے بارے میں تحفظات کو بھی کبھی نہیں چھپایا۔

اس وجہ سے اب اٹھارویں ترمیم پر کسی بھی بحث یا ذکر کو اسٹیبلشمنٹ کی خواہش سمجھا جاتا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کو اس طرح کے سیاسی مسائل میں میگا فون ڈپلومیسی سے گریز کرنا چاہیے اور سیاسی قیادت سے ان معاملات پر اندرون خانہ اپنے تحفظات کے بارے میں گفت و شنید کرنی چاہیے۔ اس سے وہ میڈیا میں براہ راست تنقید کا نشانہ بننے سے بچ سکتی ہے اور اس سوچ کی بھی نفی ہوگی کہ اسٹیبلشمنٹ آئین کو اپنی خواہشات کے مطابق ڈھالنا چاہتی ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ طاقتور حلقوں کو شاید اٹھارویں ترمیم سے نظریاتی اختلاف تو نہیں ہے لیکن اس کی وجہ سے ان کے مالی وسائل میں کمی آئی ہے یا شاید ان کی خواہشات کے مطابق اضافہ نہیں کیا گیا، اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ وفاقی حکومت ایسے معاشی اقدامات اٹھائے جن سے معاشی ترقی کا ایسا دور شروع ہو، جس سے تمام شعبوں میں ان کی ضرورت کے مطابق متناسب سرمایہ کاری کی جا سکے۔

اس کے ساتھ ضروری ہے کہ ہمارے غیر ضروری اخراجات میں کمی کی جائے۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد کئی وفاقی وزارتوں اور اداروں کو ختم ہو جانا چاہیے تھا مگر ان کے نام بدل کر انہیں برقرار رکھا گیا ہے۔ وفاقی حکومت اب بھی ان اداروں پر بھاری اخراجات کر رہی ہے۔ بہت سارے ماہرینِ معاشیات کی رائے میں موجودہ حکومت نے بلاجواز ریکارڈ قرضے حاصل کیے ہیں جس کی وجہ سے سود کی ادائیگیوں میں بھی بےتحاشہ اضافہ ہوا ہے۔ وفاقی حکومت کو ان غیر ترقیاتی قرضوں میں کمی یا توازن لانے کی ضرورت ہے۔

اسی طرح دفاعی اداروں کے اخراجات اور منصوبوں میں حقیقت پسندی کی بنیاد پر کمی لانے کی ضرورت ہے۔ ایسے منصوبے جو قومی دفاع یا قومی سلامتی میں براہ راست کوئی کردار ادا نہیں کر رہے انہیں وقتی طور پر معطل کرنے کی ضرورت ہے اور جب معاشی حالات بہتر ہوں تو ان پر دوبارہ کام شروع کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً نیا جی ایچ کیو بنانے کے منصوبے پر کام کو فوری طور پر معطل کرکے اخراجات میں نمایاں کمی لائی جاسکتی ہے۔ ہمارے پاس پہلے سے ہی ایک بہت بڑا جی ایچ کیو موجود ہے تو اس منصوبے پر کام معطل کرنے سے کوئی واضح دفاعی نقصان نہیں ہوگا۔

کچھ غیرضروری اخراجات جن میں شخصیات کی نمائش (مثلاً شکریہ راحیل شریف مہم) یا غیر ضروری مقامی کارروائیاں شامل ہوتی ہے اور جس کے لیے دفاعی اداروں اور ان کے وسائل کو استعمال کیا جاتا ہے، ان میں بھی نمایاں کمی کرنے کی ضرورت ہے۔ ابھی حال ہی میں ملتان میں ایک پرتعیش میس کی تصاویر سوشل میڈیا کی زینت بنیں جو کسی طرح بھی ایک اچھا تاثر یا وسائل کے مناسب استعمال کی طرف اشارہ نہیں کرتیں۔

اٹھارویں ترمیم میں طاقت کے بل پر کوئی بھی تبدیلی وفاق اور اس کی اکائیوں پر حملہ ہو گا جس کے سنگین قومی نتائج ہو سکتے ہیں۔ ان سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ موجودہ صحت کے بحران کے دوران عوام کو بلاوجہ ایک غیرضروری سیاسی ہیجان میں مبتلا کرنے کی بجائے اس نامناسب مہم کو ختم کر کے تمام وفاقی اکائیوں اور اداروں کو مل بیٹھ کر اپنے مسائل کو حل کرنے اور وسائل میں اضافہ کرنے کی تدابیر پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ