پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد نے کرونا (کورونا) وائرس کے حوالے سے کہا ہے کہ ایسا لگتا ہے وفاق اور صوبائی حکومتیں عوام کے خلاف سازش کر رہی ہیں۔
چیف جسٹس گلزار احمد نے یہ بات کرونا وائرس کے حوالے حکومتی اقدامات پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران کہی۔
واضح رہے کہ 10 اپریل کو چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے ناکافی اقدامات پر ازخود نوٹس لیا تھا۔
سماعت کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’کوئی یکساں حکمت عملی نہیں ہے۔ ایک وزیر کچھ کہہ رہا ہوتا ہے تو دوسرا کچھ کہتا ہے، وفاقی حکومت کی پالیسی صرف 25 کلو میٹر تک محدود ہے۔‘
پیر کو ہونے والی اس سماعت میں کمرہ عدالت نمبر ایک میں سماجی دوری کے اصول پر عمل کرتے ہوئے صحافی ایک دوسرے سے فاصلے پر بیٹھے جبکہ سیکرٹری صحت، ڈی سی اسلام آباد اور اٹارنی جنرل کے علاوہ تمام صوبوں کے ایڈوکیٹ جنرلز ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں حاضر تھے۔
چیف جسٹس کا وفاقی و صوبائی حکومتوں کی رپورٹس دیکھنے کے بعد کہنا تھا کہ ’کام کرنا ہے تو نیک نیتی اور شفافیت سے کریں۔‘
’پولیس کو شہریوں سے بدتمیزی کی اجازت نہ دی جائے، لاہور قرنطینہ سے پیسے لیے بغیر کسی کو جانے نہیں دیا جاتا جو ہسپتال جاتا ہے وہ واپس نہیں آ سکتا۔‘
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ’ہسپتال سے لاش وصول کرنے کے لیے بھی پیسے دینے پڑتے ہیں۔ کرپشن کس حد تک جڑوں میں بیٹھ چکی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ نیب، ایف آئی اے اور اینٹی کرپشن کیا کر رہے ہیں؟ احتساب کا ایک اور ادارہ بنایا تو کرپشن کی رفتار مزید تیز ہوجائے گی۔ راشی لوگ شرافت کے لبادے میں نہ جانے کیا کچھ کر رہے ہیں، لوگوں میں انسانیت ختم ہوگئی صرف گوشت کا ٹکڑا رہ گیا۔ کیا گندم غائب کرنے والے انسان کہلائے جا سکتے ہیں؟
چیف جسٹس نے کہا کہ اسلام آباد میں کتنے شاپنگ مالز ہیں؟ شاپنگ مالز میں کتنی دکانیں کرائے پر ہیں؟ کتنے ملازمین کام کرتے ہیں، شاپنگ مالز سے وابستہ تمام کام رک گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سمجھ نہیں آرہی ملک میں کیا ہو رہا ہے ملک میں مکمل طور پر استحصال ہو رہا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس موقع پر پانچ رکنی بینچ میں شامل جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ وفاقی حکومت اور صوبوں کے درمیان تعاون نہ ہونے کی وجہ غرور اور انا ہے۔ ایک ہفتے کا وقت دیتے ہیں کرونا کے حوالے سے یکساں پالیسی بنائی جائے۔ یکساں پالیسی نہ بنی تو عبوری حکم جاری کریں گے۔
اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ’صوبائی حکومت وفاق کے معاملات پر اثر انداز نہیں ہو سکتیں۔ چاروں صوبے اور وفاق اپنی پالیسی سازی میں مکمل آزاد ہیں۔ کام کچھ نہیں کیا لیکن ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈال رہے ہیں۔‘
عدالت کے سوالات اور اعتراضات پر اٹارنی جنرل خالد جاوید نے عدالت کو بتایا کہ یہ معاملہ مرکز اور صوبوں کے درمیان تناؤ کا نہیں ہے۔ اس معاملے پر مرکز اور صوبے مل بیٹھ کر فیصلے کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس صورتحال میں سب تعاون کر کے چل رہے ہیں۔ اس لیے بہتر ہوگا عدالت سیاسی معاملات سیاست دانوں کو ہی حل کرنے دے۔ سیاسی قیادت اس حوالے سے فیصلے کر رہی ہے۔
اٹارنی جنرل کے دلائل پر جسٹس قاضی امین نے استفسار کیا کہ کیا عدالت یہ نہیں پوچھ سکتی کہ صورتحال خراب کیوں ہو رہی ہے؟ کیا شہریوں کی اموات پر سوال پوچھنا ہماری آئینی ذمہ داری نہیں؟
جس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ عدالت اس بارے میں ضرور پوچھ سکتی ہے لیکن وفاقی حکومت چاہتی ہے کہ معاملات افہام و تفہیم سے حل ہوں۔ چاہتے ہیں کہ معاملہ اس حد تک نہ جائے کہ عدالت کو مداخلت کرنی پڑے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم کسی سیاسیمعاملے میں نہیں پڑیں گے۔
جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ کوئی صوبہ پالیسی کے ساتھ نہیں آیا۔ ’حکومت نے مساجد کھول دیں، تاجر کہہ رہے ہیں آپ نمازیں پڑھائیں ہمیں بھوکا مار دیں۔ آپ کے معیار الگ الگ ہیں۔ جس شعبہ سے ڈرتے ہیں اسے کھول دیتے ہیں۔ کیا مساجد سے کرونا وائرس نہیں پھیلے گا؟ 90 فیصد مساجد میں ریگیولیشنز پر عمل نہیں ہو رہا ہے اگر فاصلہ رکھنا ہے تو سب جگہ پر رکھنا ہوگا۔‘
عدالت نے کیس کی سماعت دو ہفتے کے لیے ملتوی کرتے ہوئے این ڈی ایم اے سے غیر ملکی امداد کی تقسیم کی تفصیل طلب کرلی۔
’بتایا جائے کہ جتنی غیرملکی امداد آ رہی ہے کہاں خرچ ہو رہی ہے؟ کہاں جارہی ہے؟‘