چائے جو مبینہ طور پر کرونا سے بچائے

مڈغاسکر نے ایک ایسی چائے بنانے کا دعویٰ کیا ہے جسے پینے سے کورونا وائرس سے متاثر لوگ سات دنوں میں صحت یاب ہو جائیں گے اور جنہیں کورونا وائرس نہیں ہیں، ان کے لیے بھی یہ چائے مفید ہے۔

جہاں پوری دنیا میں کورونا وائرس کو شکست دینے کے لیے ویکسین کی ریس چل رہی ہے، وہیں وسطی افریقہ کے ملک مڈغاسکر نے ایک ایسی چائے بنانے کا دعویٰ کیا ہے جسے پینے سے کورونا وائرس سے متاثر لوگ سات دنوں میں صحت یاب ہو جائیں گے اور جنہیں کورونا وائرس نہیں ہیں، ان کے لیے بھی یہ چائے مفید ہے۔

چائے کا نام کووڈ آرگینکس رکھا گیا ہے۔ یہ چائے آرتیمیزیا نامی پودے سے تیار کی گئی ہے جو ملیریا کے علاج میں کارگر ثابت ہوا ہے۔ یہ پودا مڈغاسکر میں پہلی دفعہ چین سے 1970 میں ملیریا کے علاج کے لیے درآمد کیا گیا تھا۔

 البتہ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق کورونا کے خلاف مڈغاسکر کی چائے کا کوئی سائنسی ثبوت موجود نہیں۔ مزید یہ کہ میڈیکل ایکسپرٹس نے لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ کوئ ایسی چیز کھائی نہ پی جائی جسے سائنسی طور پر اثرآور ثابت نہ کیا گیا ہو۔

کورونا وائرس کا پھیلاؤ شروع ہونے کے بعد سے مڈغاسکر کی حکومت نے آرتیمیزیا کی چائے نہ صرف اپنے عوام کو خوب پلائی ہے بلکہ خطے کے دیگر ملکوں کو بھی دل کھول کرعطیہ کر رہا ہے۔ مغربی افریقہ کے ملک گِنی بساؤ اور نائجر، اور وسطی افریقہ کے دیگر ممالک کو مڈغاسکر نے اپنی چائے عطیے کے طور پر بھیجی ہے۔

تنزانیہ اور لائبیریا نے اس چائے کو منگوانے کا اعلان کر دیا ہے۔ مڈغاسکر کے صدر اینڈری واجولینا نے عوام کی یقین دہانی کے لیے ایک تقریب بھی رکھی جس میں انہوں نے خود یہ چائے پی اور کہا کہ اس چائے کے کوئی مضر اثرات نہیں ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تقریب میں انہوں نے کہا، ’اس چائے کو پینے سے کسی کی موت نہیں ہوگی۔ ہم دنیا کی تاریخ بدل دیں گے۔‘ انہوں نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ کورونا وائرس کے دو متاثرین اس چائے کو پینے سے صحت یاب ہوگئے۔

اس چائے کا فارمولا مڈغاسکر انسٹیٹیوٹ آف اپلائڈ ریسرچ میں تیار کیا گیا لیکن اسے فی الحال بین الاقوامی سطح پر ٹیسٹ نہیں کیا گیا ہے۔

مڈغاسکر کی دو کروڑ میں سے زیادہ تر آبادی غربت کی لکیر کے نیچے شمار ہوتی ہے۔ ابھی تک مڈغاسکر میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد بہت کم ہے اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں کورونا وائرس سے کوئی اموات نہیں ہوئی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی صحت