کرونا کے بعد پاکستانی معیشت کہاں پر کھڑی ہے ؟  

کرونا کی وجہ سے جہاں بر آمدات متاثر ہوں گی وہاں در آمدات میں بھی خاطر خواہ کمی ہو گی ۔ 2019 ء میں ہماری در آمدات جو کہ 52.7 ارب ڈالر تھیں وہ اب 40 سے 42 ارب ڈالر کے درمیان رہنے کی توقع ہے ۔

(اے ایف پی)

کرونا سے زندگیوں کو بچانا ایک بڑا چیلنج ہے مگر اس سے بھی بڑا چیلنج  یہ ہو گا کہ دنیا کو واپس اسی ڈگر پر لایا جائے جیسی وہ  پہلے تھی۔معیشت کا پہیہ اسی طرح گھومے جیسے پہلے چل رہا تھا۔

قریب قریب تو یہ ناممکن نظر آتا ہے۔معاشی ماہرین کا خیال ہے کہ فی الحال اسی رفتار پر نہ سہی لڑکھڑاتا  ہوا پہیہ بھی چلانا پڑا تو اس کے لیے 10 کھرب ڈالر کی ضرورت ہو گی۔دنیا کی دوسری بڑی معیشت چین کی مجموعی قومی پیداوار  سال کے پہلے تین مہینوں میں سات فیصد کم ہو چکی ہے۔جرمنی جیسی مضبوط معیشت کے بارے میں بھی خیال کیا جا رہا ہے کہ  وہ تین سے دس فیصد کے درمیان سکڑ جائے گی۔جرمنی معیشت کی بحالی کے لیے اپنے جی ڈی پی کا 10 فیصد یعنی 350 ارب یورو خرچ کرے گا۔

جاپان جو دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے بڑے معاشی بحران کا شکار ہے اس نے بھی ایک کھرب ڈالر مختص کر دیئے ہیں تاکہ زندگی کو پہلے والی پوزیشن پر بحال کیا جائے۔ برطانیہ کو بھی دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑ اہونے کے لیے 400 ارب پاؤنڈ کی ضرورت ہو گی جو اس کے جی ڈی پی کا 15 فیصد ہے۔دنیا کی سب سے بڑی معیشت امریکہ میں بیروزگاری کا تناسب 40 فیصد تک بڑھنے کی پیش گوئی ہے۔امریکہ پہلے ہی دو کھرب ڈالر کا ریلیف پیکج جاری کر چکا ہے اور مزید کی تیاری کر رہا ہے۔یورپی یونین کے وزرائے خزانہ ممبر ریاستوں کے لیے 500 ارب یورو کے امدادی پیکج کا اعلان کر چکے ہیں جبکہ سینٹرل یورپین بنک ممبر ممالک کو750 ارب یورو کے قرضے بھی جاری کرے گا۔آئی ایم ایف نے 100 ارب ڈالر جبکہ عالمی بنک نے 150 ارب ڈالر سے زائد فنڈز معیشتوں کو کرونا سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے مختص کیے ہیں۔

معاشی زبوں حالی کے اس عالمی تناظر میں ہمارا قومی معاشی منظر نامہ کیا ہے اور پاکستان کہاں پر کھڑا ہے ؟ کرونا سے پاکستان کی معیشت کو کتنا نقصان پہنچے گا  اور اس کے ازالے کے لیے کیا حکمت عملی بنائی گئی ہے۔اس حوالے سے انڈیپنڈنٹ اُردو  نے وزارت ِ خزانہ کو سوالات بھیجے جن کے  تفصیلی جوابات دیئے گئے ہیں۔جن کے مطابق:

  • جی ڈی پی کی شرح جو گذشتہ سال 4.7 فیصد تھی، اب منفی 1.5 فیصد تک گر جائے گی۔
  • لاک ڈاؤن کی وجہ سے اپریل جون 2020 ٹیکسوں کی وصولی کی شرح میں 900 ارب روپے کمی کاسامناہے۔
  • غربت کی شرح 24.3 فیصد سے بڑھ کر 33.5 فیصد ہو سکتی ہے۔
  •  بجٹ خسارہ 7.6 فیصد سے بڑھ کر 9.4 فیصد تک چلا جائے گا۔
  • حکومت 30 لاکھ جبکہ پاکستان انسٹیٹوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس ایک کروڑ 80 لاکھ لوگوں کے بیروزگار ہونے کی پیش گوئی کر رہا ہے۔
  • حکومت نے ایک کھرب 24 ارب روپے کا بحالی پیکج دیا، عالمی اداروں سے 5 ارب ڈالر کا ریلیف مل چکا ہے۔

کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جو پچھلے سال 10.3ارب ڈالر تھا وہ کم ہو کر 2.8 ارب ڈالر پر آ گیا ہے۔یعنی اس میں 73.1 فیصد کمی ہو ئی ہے۔اسی طرح مارچ 2020 ء تک ہماری بر آمدات میں 1.1فیصد اضافہ ہوا ہے پچھلے سال یہ 18.1 ارب ڈالر تھیں اس سال 18.3 ارب ڈالر ہیں۔ در آمدات میں اس سال 16.3 فیصد کمی ہوئی ہے یہ پچھلے سال 39.3 ارب ڈالر تھیں جو اس سال کم ہو کر 32.9 ارب ڈالر تک آ چکی ہیں۔ تجارتی خسارے میں بھی 31 فیصد کمی ہوئی ہے گذشتہ سال یہ 21.3 ارب ڈالر تھا جو اس سا ل کم ہو کر 14.7 ارب ڈالر پر آ گیا ہے۔ بیرونی ممالک سے آنے والے زرمبادلہ  میں 6 فیصد اضافہ ہوا ہے جو گذشتہ سال کے 16 ارب ڈالر کے مقابلے میں اس سال 17 ارب ڈالر ہے۔ 

ٹیکسوں کی وصولی کی شرح میں 10.9 فیصد اضافہ ہوا ہے جو 2982.8 ارب  روپے سے بڑھ کر 3307.4 ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں۔ بجٹ کے سالانہ خسارے میں بھی 3.8 فیصد کمی ہوئی ہے جو کہ پچھلے سال کے 1922.5 ارب روپے سے کم ہو کر اس سال 1686.2 ارب روپے پر آ چکا ہے۔ لیکن اس کے باوجود مہنگاہی کی شرح 6.5 فیصد سے بڑھ کر 11.2 فیصد رہی۔ حکومت کا دعوی ہے کہ اس نے مہنگائی کم کرنے کے لیے تین لاکھ ٹن گندم ڈیوٹی فری در آمد کرنے کی اجازت دی۔ چینی کی بر آمد پر باندی عائد کر دی۔ سٹیٹ بنک سے  پیسے نہیں لیے۔ سرکاری اخراجات میں کٹوتی کی۔ بجلی اور گیس  پر سبسڈی دی۔ یوٹیلٹی سٹورز کے لیے حکومت نے 50 ارب کی امداد دی۔ جبکہ دسمبر کے بعد بنیادی اشیائے ضروریہ پر 21 ارب روپے کی سبسڈی اس کے علاوہ ہے۔

زرعی شعبے کو اس سال 912 ارب روپے دئے گئے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 13.2 فیصد زیادہ ہیں۔حکومت کا دعوی ٰ ہے کہ اس نے معیشت کو بہت ممکن حد تک بحال کر دیا تھا کہ کرونا آ گیا۔ کرونا سے پہلے جی ڈی پی میں اضافے کی شرح 3.24 فیصد توقع کی جا رہی تھی  مگر اب عالمی سطح پر کسادبازاری کے بعد زرعی پیداوار تو معمول کے مطابق ہی رہے گی لیکن اس کی خریداری اور تقسیم میں چیلنجز آئیں گے۔لارج سکیل مینو فکچرنگ میں 4.27 فیصد کمی ہو گی۔اسی طرح سروسز سیکٹر جس میں ہول سیل ، ریٹیل ،ٹرانسپورٹ ،سٹورج اور ترسیل وغیرہ شامل ہیں اس میں  لاک ڈاؤن کی وجہ سے 2.14 فیصد  کمی ہو گی  جبکہ گذشتہ سال  اس میں ترقی کی رفتار 4.7 فیصد رہی تھی۔ جبکہ جی ڈی پی کی شرح اس بار منفی 1.5 فیصد رہے گی جو گزشتہ سال 3.29 فیصد تھی۔  

کرونا سے معیشت کو ہونے والے نقصانات کے تناظر میں حکومت نے آئی ایم ایف سے درخواست کی ہے کہ وہ ٹیکس وصولی کا ہدف جو 4.8 کھرب روپے کا تھا اس میں لاک ڈاؤن سے ہونے والے نقصانات کے بعد کمی کرے کیونکہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے صرف اپریل سے جون 2020 کی سہ ماہی میں ٹیکسوں کی وصولی کی مد میں 700 سے 900 ارب روپے کی کمی کا سامنا ہے۔ صرف اپریل 2020 میں ٹیکسوں کی وصولی میں 16.4 فیصد کی کمی دیکھی گئی ہے، گذشتہ سال اس مہینے میں یہ 289.9 ارب روپے تھی جو اس سال اپریل میں کم ہو کر 242.5 ارب روپے  رہ گئی ہے۔اس  سال مئی تک ٹیکسوں کی وصولی میں 3.9 کھرب روپے کی کمی ہو گی۔ اس طرح ٹیکسوں کی وصولی میں کمی اور کرونا کے مدادی پیکج کی وجہ سے بجٹ کا خسارہ 7.6 فیصد سے بڑھ کر 9.4 فیصد تک چلا جائے گا۔

پاکستان کی برآمدات جو کہ 2019 میں 24.8 ارب ڈالر تھیں اس سال 21 سے 22 ارب ڈالر رہنے کی توقع ہے۔ بیرونی ممالک سے کارکن جو زرمبادلہ بھیجتے ہیں وہ گذشتہ سال 21.8 ارب ڈالر تھا جو اس سال بھی 20 سے 21 ارب ڈالر رہنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین  سرفراز ظہور چیمہ نے انڈیپنڈنٹ اُردو کو بتایا کہ خلیجی ممالک میں 40 لاکھ سے زائد پاکستانی ہیں۔سعودی عرب نے کرونا کی وجہ سے بعض  کارکنوں کی تنخواہ میں 40 فیصد کٹوتی کر دی ہے اسی طرح دبئی اور سعودیہ سے بڑی تعداد میں نوکریاں ختم ہو نے کا خطرہ ہے  جس سے وہاں سے آنے والے زرمبادلہ میں 50 فیصد تک کمی ہو سکتی ہے۔

کرونا کی وجہ سے جہاں بر آمدات متاثر ہوں گی وہاں در آمدات میں بھی خاطر خواہ کمی ہو گی۔ 2019 ء میں ہماری در آمدات جو کہ 52.7 ارب ڈالر تھیں وہ اب 40 سے 42 ارب ڈالر کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔ جس سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جو گذشتہ سال 13.8 ارب ڈالر تھا وہ کم ہو کر 4.5 ارب ڈالر تک آ جائے گا۔ سروسز کی برآمدات جو کہ پچھلے سال 5.3 ارب ڈالر تھیں وہ ہماری سروسز کی درآمدات کا تقریباً نصف ہیں جو 11.4 ارب ڈالر ہیں۔

آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل رضا باقر نے انڈپینڈنٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے صرف اپریل کے مہینے میں ہماری  ٹیکسٹائل  کی بر آمدات نصف رہ گئی ہیں جو الارمنگ ضرور ہے تاہم مثبت بات یہ بھی ہے کہ پاکستان ٹیکسٹائل میں ہائی ویلیو پراڈکٹس بر آمد نہیں کرتا ہماری  پراڈکٹس لو ویلیو  ہیں جن میں تولیے، بیڈ شیٹیں ،جرابیں وغیرہ شامل ہیں۔ کرونا کے تناظر میں ان کے آرڈرز بڑھنے کے امکانات ہیں اور ہمیں نئی مارکیٹس بھی مل سکتی ہیں۔  

درآمدات میں 50 فیصد حصہ  ٹرانسپورٹ اور ٹریول کا ہے جبکہ بر آمدات میں ٹیلی کمیونیکیشنز ، کمپیوٹرز ،انفارمیشن سروسز سمیت متعلقہ شعبوں کا حصہ بھی 50 فیصد کے قریب ہے یہ دونوں شعبے کرونا کے تناظر میں بری طرح متاثر ہوں گے۔

جب معیشت زبوں حالی کا شکار ہو گی تو ملک میں غربت بڑھے گی۔ ا  س وقت غربت کی شرح 24.3 فیصد ہے جو بڑھ کر 33.5 فیصد تک بھی  جاسکتی ہے۔ کرونا کی وجہ سے صنعتی شعبے سے دس  لاکھ اور سروسز سے وابستہ 20 لاکھ لوگوں کے بیروزگار ہونے کا خدشہ ہے۔ جبکہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کے مطابق زراعت ، صنعت اور سروسز کے شعبے سے ایک کروڑ 80 لاکھ لوگ بیروزگار ہو جائیں گے۔

ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے انڈیپنڈنٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے  کہا کہ کرونا سے ہماری معیشت اور پیداواری صلاحیت بری طرح متاثر ہو چکی ہے۔ تیل کی قیمتیں مسلسل کم رہیں تو خلیجی ممالک میں موجود ہماری ورک فورس بیروزگار ہو جائے گی۔ہماری بر آمدات کم ہوئیں تو یہاں فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدوروں کا کیا بنے گا ؟ انہوں نے کہا کہ ان حالات میں اگر ہم اپنی دیہی معیشت کو بچا سکے تو یہ بھی ایک بڑی کامیابی ہو گی کیونکہ وہاں سے آٹا ، چینی ، چاول اور دیگر اشیائے خوردونوش آتی ہیں۔ ہمیں سرحدوں کی کڑی نگرانی کرنا ہو گی اگر ہماری خوراک سمگل ہو گئی تو یہاں غذائی بحران کا بھی خدشہ ہو گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حکومت نے ایک کھرب 24 ارب روپے بحالی کے لیے مختص کیے ہیں۔ جن  میں سے 190 ارب روپے ایمرجنسی رسپانس کے لیے ، 480 روپے کاروباروں اور معیشت کی بحالی کے لیے جبکہ 570 ارب روپے عوام کی  فوری امداد کے لیے ہیں جن میں سے 200 ارب روپے مزدوروں ، 150 ارب روپے ضرورت مند خاندانوں اور پناہ گاہوں کے لیے ،پیٹرول اور ڈیزل میں ریلیف کے لیے 70 ارب روپے ، یوٹیلٹی سٹورز کے لیے 50 ارب روپے اور بجلی اور گیس پر سبسڈی کے لیے 100 ارب روپے مختص کے گئے ہیں۔

سود کی شرح 13.25 فیصد سے کم کر کے 9 فیصد کر دی گئی ہے۔ بینکوں سے قرضوں کی واپسی کو ایک سال کے لیے مؤخر کر دیا گیا ہے۔ بنکوں کو ایک کھرب روپے دیئے جائیں گے تاکہ روزگاروں کے لیے آسانی پیدا ہو سکے۔ سٹیٹ بنک در آمد اور بر آمد کنندگان کو قرضے فراہم کرے گا۔ پاکستان میں نئی سرمایہ کاری کے لیے 7 فیصد پر قرضے دیئے جائیں گے۔کنسٹرکشن کے شعبے کے لیے بھی ایک وسیع پیکج متعارف کرایا گیا ہے کنسٹرکشن کے منصوبوں میں  فکسڈ ٹیکس متعارف کرایا گیا ہے۔ بلڈرز اور ڈویلپرز ود ہیلڈ ٹیکس سے مستثنیٰ ہوں گے۔ ایک فیملی گھر کیپٹل گین ٹیکس سے مستثنی ٰ ہو گا۔نیا پاکستان ہاؤسنگ سکیم سے 90 فیصد ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے۔

حکومت کو ابھی تک 5 ارب ڈالر کی امداد مل چکی ہے جبکہ جی 20 ممالک سے قرضوں کی مدمیں 1.8ارب ڈالر کا ریلیف ملا ہے۔ آئی ایم ایف نے 1.4 ارب ڈالر ، ورلڈ بنک نے 1.79 ارب ڈالر ، ایشئن ڈویلپمنٹ بنک نے 1.75 ارب ڈالر ،جی 20 اور پیرس کلب نے 1.8 ارب ڈالر دیئے ہیں۔ ان اداروں نے پاکستان سمیت 70 ممالک کو قرضوں کی قسطوں اور ان پر سود کی ادائیگی میں چھوٹ دی ہے۔ اس طرح پاکستان کو مئی سے دسمبر 2020 ء تک 1.8 رب ڈالر کی قسطیں دینے سے بھی خلاصی مل گئی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت