کرونا وائرس لے گیا چاند کیسے کیسے

کرونا وائرس کی وجہ سے پاکستان میں جان دینے والوں میں ڈاکٹر تو ہیں ہی لیکن پولیس اہلکار، فوجی اور صحافی بھی لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ ہر شخص کی اپنی کہانی ہے۔

فروری 2020 سے پاکستان میں کرونا (کورونا) وائرس کی آمد کے بعد سے اموات کا ایک سلسلہ چل پڑا ہے۔

ان اموات کے جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان میں بھی اس نے رنگ، نسل یا شعبے میں امتیاز نہیں رکھا ہے۔ ہر شخص کی اپنی کہانی ہے۔

جان دینے والوں میں ڈاکٹر تو ہیں ہی لیکن پولیس اہلکار، فوجی اور صحافی بھی لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

ڈاکٹر اسامہ ریاض


یہ نوجوان فزیشن پاکستان میں طبی عملے کے وہ پہلے رکن تھے، جو کرونا وائرس کا شکار بنے۔

گلگت بلتستان میں ڈاکٹر اسامہ اس 10 رکنی ٹیم کا حصہ تھے جنہیں شروع کے دنوں میں بیرون ملک سے آنے والوں کی سکریننگ کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔

ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر اسامہ رات گئے تک اپنی جان کی پروا کیے بغیر اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتے رہے اور اس وائرس کا شکار ہوئے۔


 کانسٹیبل فہیم خان

خیبرپختونخوا پولیس بھی کرونا وائرس کی وبا سے متاثرین کی تلاش اور اپنے علاقوں کو محفوظ رکھنے میں پیش پیش تھی۔

صوبے کے پہلے اہلکار جو وائرس کا شکار ہوئے وہ 36 سالہ کانسٹیبل فہیم تھے جو نوشہرہ میں بم ڈسپوزل سکواڈ کے ساتھ منسلک تھے۔

ماضی میں بتایا جاتا ہے کہ وہ انسداد دہشت گردی کی کئی کارروائیوں کا حصہ بھی تھے۔ دہشت گرد تو ان کا بال بیکا نہ کرسکے لیکن ایک وائرس نے بالآخر ان کی جان لے لی۔


ظفر رشید بھٹی

سرکاری خبررساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کے سابق صدر اور سینیئر صحافی ظفر رشید بھٹی وائرس سے کئی روز تک لڑنے کے بعد اسلام آباد میں زندگی کی بازی ہار گئے۔

یہ وہ صحافی تھے جنہوں نے تمام زندگی مزدوروں کے حقوق کے لیے عملی جدوجہد کی تھی۔

اب تک ملک بھر میں 40 سے زائد صحافیوں میں اس وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہو چکی ہے۔

 


پروفیسر ڈاکٹر محمد جاوید

خیبر پختونخوا کے سرکاری ہسپتال حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں کام کرنے والے ای این ٹی سپیشلسٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد جاوید کرونا وائرس کی وجہ سے 25 اپریل کو انتقال کر گئے۔

ڈاکٹر جاوید میں تقریباً دو ہفتے پہلے کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی، وہ ایک ہفتہ وینٹی لیٹر پر رہنے کے بعد جان کی بازی ہار گئے۔

ضلع چارسدہ کے علاقے ابازئی سے تعلق رکھنے والے 53  سالہ ڈاکٹر محمد جاوید تقریباً 20 سال سے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس ہسپتال سے وابستہ تھے۔

ڈاکٹر جاوید تین بھائیوں میں سب سے بڑے تھے۔ انہوں نے سوگواران میں بیوی، 13 سالہ بیٹی اور 10 سالہ بیٹا چھوڑا ہے۔


ڈاکٹر میمونہ رانا

ملک سے باہر بھی پاکستانیوں نے اس وائرس کے خلاف ہراول دستے کا کام کیا اور یورپ میں سب سے زیادہ متاثرہ ملک برطانیہ میں بڑی تعداد میں پاکستانی نژاد برطانوی شہریوں نے جان دی۔

ان میں لندن میں مقیم ڈاکٹر میمونہ رانا بھی شامل ہیں۔ ان کے ٹرسٹ کے سربراہ کے مطابق وہ ایسی خاتون تھیں، جو ہر وقت ہر کسی کی مدد کے لیے تیار رہتی تھیں۔

ٹرست سربراہ کے مطابق: ’میمونہ نے وہ کام، جو انہیں سب سے زیادہ پسند تھا، یعنی دوسری کی مدد کرتے ہوئے جان دے دی۔‘


ڈاکٹر فرقان الحق

دوسروں کی مشکل میں مدد کرنے والے پاکستانی طبی عملے پر وہ برا وقت بھی آیا جب کراچی کے ڈاکٹر فرقان کو کسی ہسپتال میں جگہ نہ ملنے پر جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔

ان کے اہل خانہ کے مطابق جب انہیں ایمبولینس میں منتقل کیا جا رہا تھا تو وائرس کے خوف سے ایمبولینس کے عملے میں سے کسی نے بھی ان کی مدد نہیں کی بلکہ ان کی اہلیہ اور چار بیٹیوں نے مل کر ڈاکٹر فرقان کو بٹھایا۔

اس افسوس ناک موت پر وفاق اور صوبائی حکومت میں سیاسی بیان بازی تو بہت ہوئی لیکن یہ نہیں معلوم ہوا کہ کوئی انکوائری بھی کروائی گئی یا نہیں۔


ڈاکٹر رابعہ طیب


قائد اعظم میڈیکل کالج، بہاولپور کی تازہ گریجویٹ ڈاکٹر رابعہ طیب طب کے پیشے میں ابھی اپنا پہلا قدم رکھ بھی نہیں پائی تھیں کہ اس ظالم وبا نے انہیں بھی آن لیا۔

انہوں نے ایک دو روز میں ہاؤس آفیسر کے طور پر ہسپتال جانا تھا لیکن کوویڈ 19 نے انہیں اس کی اجازت نہیں دی۔ وہ 27 اپریل کو ہولی فیملی ہسپتال، راولپنڈی میں دم توڑ گئیں۔


میجر محمد اصغر شہید

37 سالہ میجر محمد اصغر پاکستانی فوج کے پہلے اہلکار ہیں جن کی کرونا کی وجہ سے موت کی ادارے نے تصدیق کی۔

انہوں نے سوگواران میں بیوی، ایک بیٹا اور دو بیٹیاں چھوڑی ہیں۔

میجر اصغر کا تعلق پنجاب 34 رجمنٹ سے تھا اور وہ ایف سی کے 143 سی ایس ونگ میں تعینات تھے۔

وہ طورخم بارڈر پر ڈیوٹی سر انجام دے رہے تھے۔ بنیادی طور پر ان کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے تھا تاہم وہ کراچی میں رہائش پذیر تھے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان