کرونا ٹریکنگ ایپ نے اپنے پارٹنرز کو دھوکہ دینے والوں کا بھانڈا پھوڑ دیا

کہا جا رہا ہے کہ جنوبی کوریا میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد کے لیے بنائی گئی اس ایپ نے مریضوں کی نجی زندگیوں کی غیر معمولی حد تک جاسوسی شروع کر دی۔

انکشافات کے باوجود مقامی افراد نے بڑی حد تک اپنی نجی زندگیوں میں مداخلت کی مخالفت نہیں کی جیسا کہ کورین باشندوں کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ اپنے تحفظ کو اپنی رازداری پر فوقیت دینے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ (فائل تصویر: روئٹرز)

جنوبی کوریا میں کرونا (کورونا) وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد کے لیے بنائی گئی موبائل ایپ، جو شہریوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھتی ہے، کا غیر متوقع سائیڈ افیکٹ سامنے آیا ہے جس نے ان پارٹنرز کو بے نقاب کر دیا ہے جو کسی رشتے میں اپنے ساتھی کو دھوکہ دے رہے تھے۔

چینل 4 کی دستاویزی فلم 'دا کنڑی ڈیٹ بیٹ دی وائرس: واٹ کین بریٹن لرن؟' میں دکھایا گیا ہے کہ جنوبی کوریا وسیع پیمانے پر باخبر رہنے اور سراغ لگانے کے عمل کی وجہ سے بڑی حد تک کرونا کی وبا پر قابو پانے میں کامیاب رہا ہے اور اسی وجہ سے اس کی دنیا بھر میں ستائش کی جا رہی ہے۔

اگرچہ جنوبی کوریا چین کے بعد اس وائرس کا شکار ہونے والے پہلے ممالک میں سے ایک تھا لیکن اس کے باوجود وہاں برطانیہ میں 33 ہزار ہلاکتوں کے مقابلے میں صرف 260 اموات واقع ہوئی ہیں۔

جنوبی کوریا کی حکومت کی اس کامیابی کا کلیدی جزو ایک جدید ترین ٹریکنگ ایپ تھی جس کے ذریعے کسی بھی شخص کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جا سکتی ہے۔ اس ایپ سے معلوم کیا جا سکتا ہے کہ کووڈ -19 سے متاثرہ کسی بھی شخص سے کون کون رابطے میں رہا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم چینل 4 کے میزبان کرشنن گرومورتی کا ماننا ہے کہ ایک موثر ٹول کے طور پر اس ایپ نے مریضوں کی نجی زندگیوں کی غیر معمولی حد تک جاسوسی شروع کر دی۔

دستاویزی فلم میں شریک ایک مقامی شخص نے بتایا کہ کس طرح ایپ ایک الرٹ جاری کرے گی، مثال کے طور پر یہ بتا سکتی ہے کہ ایک 58 سالہ بینکر فلاں علاقے سے گزرا، انہوں نے کن اوقات میں کس ہوٹل کا دورہ کیا اور بعد میں کس سنیما میں وقت گزرا۔

انہوں نے مزید کہا: 'کچھ لوگ ان نقطوں کو یہ سوچتے ہوئے جوڑ سکتے ہیں، ایک منٹ رکیے، میں کسی ایسے شخص کو جانتا ہوں جو 58 سال کا ہے، جو اس علاقے میں رہتا ہے اور وہ ایک بینکر بھی ہے۔'

'آپ کے پاس ایسے کیسز ہیں جہاں لوگ ہوٹل اور موٹلز جیسی جگہوں پر موجود تھے جہاں انہیں نہیں ہونا چاہے تھا۔ کچھ معاملات ایسے بھی ہوئے جب یہ بات سامنے آئی کہ کوئی شخص اپنے پارٹنر کو دھوکہ دے رہا تھا۔'

تاہم ان انکشافات کے باوجود مقامی افراد نے بڑی حد تک اپنی نجی زندگیوں میں مداخلت کی مخالفت نہیں کی جیسا کہ کورین باشندوں کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ اپنے تحفظ کو اپنی رازداری پر فوقیت دینے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔

پانچ مئی کو برطانیہ کی حکومت نے بھی اسی قسم کی ٹریسنگ ایپ کا مقامی ورژن متعارف کرایا تھا۔

ایپ کو اس وقت پورے برطانیہ میں چلانے سے پہلے آئل آف ویٹ جزیرے پر آزمایا جارہا ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا