بلوچستان: صدیوں پرانے کاریز نظام نے لوگوں کو بدحالی سے بچا لیا

بلوچستان کے پسماندہ ضلع چاغی میں پانچ سال سے خشک کاریز کو بحال کر دیا گیا، جس کے بعد مقامی لوگ کاشت کاری کر سکیں گے۔

کاریزوں کو زیادہ نقصان اس وقت ہوا جب بلوچستان میں 1997 سے 2005 کے دوران بدترین خشک سالی کے دوران کاریز خشک ہوگئے (تصویر اقبال کاکڑ)

بلوچستان کے ضلع چاغی کے علاقے زیارت بلانوش میں ایک چھوٹی سی نہر کے کنارے درختوں کے سائے میں بیٹھے چند لوگ آپس میں خوش گپیاں کر رہے ہیں۔ ان کی گفتگو کا موضوع فصلوں کی کاشت ہے۔ 

چند سال قبل تک یہاں پانی کی کمی کا مسئلہ درپیش تھا لیکن اب صورت حال تبدیل ہوگئی ہے اور علاقے میں موجود کاریز نظام بحال ہوگیا ہے جو پانی کی کمی دور کرنے کے علاوہ کاشت کاری کا بھی ذریعہ ہے۔

انہی لوگوں میں ایک سید عمر شاہ بھی ہیں جنہیں کاریز کی بحالی میں اپنا روشن مستقبل نظر آرہا ہے۔ عمر کہتے ہیں کہ 'چند سال قبل تک جب کاریز سیلاب سے تباہ ہوگیا تو ہمیں امید نہیں تھی کہ یہ کبھی بحال ہوگا کیونکہ یہاں کے لوگ اس کی سکت نہیں رکھتے اور کوئی امید بھی نہیں تھی۔'

ورلڈ فوڈ پروگرام کے تعاون سے غیر سرکاری تنظیم 'ترقی فاؤنڈیشن' کے زیر اہتمام ضلع چاغی کی چھ یونین کونسلز میں کیش فار ورک کے تحت کاریز اور زرعی بندات سمیت چیک ڈیمز کی تعمیر کا کام مکمل کیا گیا ہے۔ 

تنظیم کے ضلعی سربراہ محمد اقبال کاکڑ کے مطابق، اس پروگرام کے تحت ضلع چاغی کی چھ یونین کونسلز میں 5172 افراد کو اس کام کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔ 

اقبال نے بتایا کہ زیارت بلانوش میں کُل 19 کاریز ہیں جن کو مقامی لوگوں نے بحال کیا، ان میں بعض کاریز سات سال سے غیر فعال تھے۔ 

اقبال کاکڑ کے مطابق، کاریزوں کی بحالی کے علاوہ واٹر چینل، پانی کے تالاب، زرعی بندات اور سیلاب سے بچاؤ کے لیے بندات بھی بنائے گئے ہیں، جس سے یہ علاقہ سیلاب سے بھی محفوظ رہے گا۔ 

یاد رہے کہ بلوچستان میں صدیوں پرانا کاریز کا نظام اب بھی بعض علاقوں میں موجود ہے، جسے 2017 میں اقوام متحدہ کے تعلیم، سائنسی اور ثقافتی ادارے (یونیسکو) نے دنیا میں تاریخی ورثوں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔

کاریز فارسی زبان سے ماخوذ ہے، جس کے معنیٰ زمین کے اندر پانی بہنے کا راستہ ہے۔ یہ کھیت وغیرہ کو پانی دینے کی نالی یا گول نہر ہے، جو کبھی کمیونٹی کا مشترکہ اثاثہ تھا اور لوگ ہر ماہ میں 16 دن پانی کو منصفانہ تقسیم کے ذریعے استعمال کرتے تھے۔ 

کاریزوں کو زیادہ نقصان اس وقت ہوا جب بلوچستان میں 1997 سے 2005 کے دوران بدترین خشک سالی رہی اور اکثر علاقوں میں  کاریز خشک ہوگئے۔ 

کاریز کس طرح کام کرتا ہے

کاریز کی تعمیر کے لیے پہاڑ کے دامن میں ڈھلوان پر پہلا کنواں کھودا جاتا ہے جسے ماخذ کنواں بھی کہا جاتا ہے، پھر اس میں ایک سرنگ بنائی جاتی ہے  اور فاصلوں پر مزید کنوئیں بھی کھودے جاتے ہیں۔ یہ سلسلہ ایک دوسرے کے ساتھ منسلک رہتا ہے۔ اس طرح کنوؤں کو ایک دوسرے سے سرنگ کے ذریعے ملا دیا جاتا ہے۔

پہلے کنویں، جس میں چشمے پھوٹتے ہیں، سے پانی آہستہ آہستہ اوپر کی سطح پر بڑھ کر زمین تک پہنچ جاتا ہے اور یوں اسے کاشت کاری کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سرنگوں میں روشنی اور ہوا کا راستہ بھی بنایا جاتا ہے تاکہ پانی فلٹر ہوسکے اور اگر اس کی صفائی وغیرہ کرنی ہو تو کام کرنے والے سانس لے سکیں۔ کاریز کو قدرتی طور پر پانی فلٹر کرنے کا نظام بھی کہا جاتا ہے کیونکہ زیر زمین سے سطح تک پہنچتے پہنچتے یہ خود فلٹر ہوتا جاتا ہے۔

کاریز کے ماہرین کے مطابق کاریز بنانے کا کام چونکہ سخت ہوتا ہے اس لیے چند لوگ ہی اس میں ماہر ہوتے تھے جو اب انتہائی کم رہ گئے ہیں۔

ضلع مستونگ جو کبھی کاریزوں کی بہتات کے باعث پہچانا جاتا تھا اور جہاں حد نگاہ تک باغات ہی باغات تھے، اب صحرا میں تبدیل ہو رہا ہے اور کاریز برقی ٹیوب ویلوں کی بہتات کے باعث خشک ہوچکے ہیں۔  

غیر سرکاری تنظیم ترقی فاؤنڈیشن کے مطابق، یونین کونسل آمری کے کلی حاجی ملک خدائے رحیم جوہر کاریز گاؤں میں 80 گھرانے آباد ہیں، جن میں 480 افراد ہیں۔ اس علاقے میں 92 فیصد آبادی کا انحصار زراعت اور لائیو سٹاک پر ہے۔ علاقے میں شدید خشک سالی کے باعث واحد کاریز خشک ہو گیا جس سے علاقہ مکین خوراک اور مالی طورپر بدحال ہوگئے۔ 

تنظیم کے مطابق، علاقے میں ورلڈ فوڈ پروگرام کے تعاون سے کیش فار ورک کے تحت نہ صرف مقامی افراد کے ذریعے پانچ سال سے خشک کاریز کو بحال کیا گیا بلکہ انہیں مالی مدد بھی دی گئی اور اب علاقے میں 100 کنال پر مشتمل اراضی پر کاشت کاری ممکن ہوگئی ہے۔ 

تنظیم کے عہدے دار محمد اقبال کاکڑ کے مطابق، اس پروگرام کے تحت جہاں کاریز بحال کیے گئے وہیں کمیونٹی کی خواتین کو ڈریس ڈیزائننگ، پولٹری فارمنگ، لائیو سٹاک اور کچن گارڈننگ کے ساتھ ساتھ کرونا وائرس کے حوالے سے صحت اور صفائی کی بھی تربیت دی گئی۔ 

بلوچستان کا ضلع چاغی ایک پسماندہ ضلع ہے جہاں کے لوگوں کو ذریعہ معاش ایران کی سرحد سے جڑا ہے جو لاک ڈاؤن کے باعث بند ہے اور نتیجتاً مقامی لوگوں کو شدید مشکلا ت کا سامنا ہے۔ 

کرونا وائرس کی وبا اور لاک ڈاؤن میں معاشی بدحالی کے دوران ضلع چاغی کے چھ یونین کونسلز میں کاریزوں کی بحالی کے منصوبے نے مقامی افراد کے روزگار کا مسئلہ مستقل حل کردیا ہے اور اب وہ کاشت کاری کرکے اپنا گزر بسر کرسکیں گے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان