ابنِ صفی کی عمران سیریز اب ریڈیو ڈرامے کی شکل میں 

جاسوسی ادب کے معروف ادیب ابنِ صفی کے ناول اب ریڈیائی شکل میں انٹرنیٹ پر ایک ایپلیکیشن کے ذریعے دستیاب ہیں۔

اس ڈیجیٹل دور میں ابن صفی کے صاحبزادے اور ان کے کچھ مداحوں نے ابن صفی کے ناولوں کوریڈیائی ڈرامے کی شکل میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ (عمران سیریز)

برِ صغیرِ پاک و ہند کے سِرّی ادب میں اگر کوئی نام عالمی سطح پر پیش کیا جاسکتا ہے تو وہ بلاشبہ اسرار احمد المعروف ابنِ صفی کے علاوہ کوئی دوسرا ہو ہی نہیں سکتا۔

ابنِ صفی جن کا دعویٰ تھا کہ ان کی کہانیوں کی لائبریری میں کوئی جگہ نہیں کیونکہ ان کی کتابیں لوگ بیڈ روم میں پڑھتے ہیں۔

ابنِ صفی نے جاسوسی ادب میں 'جاسوسی دنیا' اور 'عمران سیریز' کے نام سے جو سلسلے شروع کیے، وہ آج بھی جاری ہیں اور ان کے تخلیق کردہ کرداروں کو چُرا کر درجنوں مصنف آج بھی لکھ رہے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ الہ آباد میں ہونے والی ایک ادبی بیٹھک میں تکرار جاری تھی کہ کیا فحش گوئی کے بنا بھی فکشن کی تخلیق ممکن ہے؟ اس چیلنج کو ایک نوجوان اسرار احمد نے قبول کیا جسے آج ہم ابن صفی کے نام سے جانتے ہیں۔ ان کا پہلا ناول ’دلیر مجرم‘ تھا اور وہ اس وقت بھارت میں مقیم تھے۔ بعد ازاں وہ پاکستان منتقل ہوگئے۔

تاہم اس ڈیجیٹل دور میں ابن صفی کے صاحبزادے اور ان کے کچھ مداحوں نے ابن صفی کے ناولوں کو ریڈیو ڈرامے کی شکل میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے کا پہلا ناول اب انٹرنیٹ پر مہیا کردیا گیا ہے۔ اس کی ایک ویب ایپلیکیشن بھی جاری کی گئی ہے، جو https://purasrar.app پر دستیاب ہے۔

اس معاملے کے پس منظر کے حوالے سے ابنِ صفی کے صاحبزادے احمد صفی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ گذشتہ سال امریکہ کی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا برکلی میں ان کے والد کے اعزاز میں ایک تقریب منعقد کی گئی تھی جس میں ان کی بھانجی شیما صدیقی بھی شریک تھیں۔

شیما صدیقی بچپن ہی سے پاکستان سے باہر سکونت پذیر رہی ہیں جس کی وجہ سے وہ اردو نہیں پڑھ سکتیں البتہ بول اور سمجھ لیتی ہیں۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا برکلی میں اپنے نانا کے کام کی پذیرائی دیکھ کر انہوں نے خیال پیش کیا کہ مغربی دنیا میں بسنے والے ان جیسے نوجوانوں کے لیے ان ناولوں کو صوتی شکل میں پیش کیا جانا ضروری ہے کیونکہ ابن صفی کے ناول پی ڈی ایف کی شکل میں ویب سائٹ پر پہلے ہی موجود ہیں۔

دوسری جانب زین مکھی نے ان سے رابطہ کیا جو خود ایک پروڈیوسر ہیں۔ ابتدائی طور پر خیال یہ تھا کہ ان ناولوں کو صوتی انداز میں پیش کیا جائے گا، یعنی ایک آواز جو پورا ناول مِن و عَن پڑھا کرے گی۔

تاہم کافی غور و خوض کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ ان ناولوں کو ڈرامائی تشکیل دی جائے گی جس میں ہر کردار کی علیحدہ آواز ہوگی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایک سوال کے جواب میں احمد صفی کا کہنا تھا کہ یہ خیال غلط ہے کہ ان کے والد ابنِ صفی اپنی کرداروں کو پردے پر دکھانے کے خلاف تھے۔ انہوں نے بتایا کہ 1977 میں پی ٹی وی کے لیے عمران سیریز کی عکس بندی بھی ہوئی تھی اور علی عمران کا کردار محمد قوی ادا کر رہے تھے، تاہم اسی دوران مارشل لا لگ گیا اور پی ٹی وی کی ادارتی پالیسی بدل گئی جس کے بعد وہ ڈراما کبھی نشر ہی نہیں ہوا۔

اس ضمن میں ان کا مزید کہنا تھا کہ عمران سیریز پر فلم بنانے کا خیال بھی پیش کیا جاچکا ہے اور اس پر کام ہو رہا ہے، ممکن ہے کہ جلد ہی اس سلسلے میں بھی کوئی اچھی خبر مل جائے۔

احمد صفی نے کہا کہ عمران سیریز اور جاسوسی دنیا میں سے کس کو چننا ہے اس کا انتخاب بھی مشکل تھا مگر قرعہ فال عمران سیریز کے نام نکلا اور اس بابت انہوں نے خرم علی شفیق کی مدد طلب کی جو ابن صفی پر لکھی گئی تین کتابوں کے مصنف ہیں۔

خرم علی شفیق نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ انہوں نے ڈرامائی تشکیل کرتے ہوئے ابن صفی کے تحریر کردہ جملے ہرگز تبدیل نہیں کیے، صرف کچھ پہلوؤں کو نمایاں کرنے کے لیے ضروری اضافہ کیا ہے۔ وہ بھی صرف اس حد تک جہاں سمجھانے کے لیے ضروری تھا، جیسے ایکشن سین، ایک سین سے دوسرے سین میں جاتے ہوئے۔

ابن صفی پر مہارت رکھنے والے خرم علی شفیق کا کہنا تھا کہ انہیں سب سے زیادہ مشکل ان جگہوں پر آئی جہاں مکالمے نہیں تھے اور صرف ایکشن تھا۔

ابن صفی کے ناول کی صوتی ڈرامے میں تشکیل کے اس عمل کی ذمہ داری زین مکھی کی ہے جو اس کے پروڈیوسر بھی ہیں۔

زین مکھی نے اس سلسلے میں بتایا: ’اگر دیکھا جائے تو علی عمران ایک بہت بڑا اور انتہائی دلچسپ کردار ہے۔ جیسے وہ شراب و دیگر خرافات سے دور رہتا ہے، انتہائی معصوم اور کھلنڈرا نظر آتا ہے مگر صورتِ حال کے مطابق پینترا بھی بدلتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں ’آڈیو سٹوریز‘ پر بہت کام ہو رہا ہے اور وہ بھی اسی سلسلے میں کام کرنا چاہتے تھے۔ ابتدائی طور پر ان ناولوں کو مختلف ایف ایم ریڈیو چینلز پر نشر کرنا تھا، تاہم لاک ڈاؤن کی وجہ سے یہ مؤخر ہوا اور اسی دوران انہیں ایپ بنانے کا خیال آیا۔

زین مکھی نے بتایا کہ عمران سیریز کے ہر ناول کی چار اقساط ہیں اور ہر قسط کا دورانیہ 15 سے 20 منٹ کا ہے۔ اس طرح 12 ناولوں کا ایک سیزن ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ بالترتیب اب تک پانچ ناولوں کو آڈیو ڈرامے کی شکل دے چکے ہیں جن میں ’خوفناک عمارت‘، ’چٹانوں میں فائر‘، ’پراسرار چیخیں‘، ’بھیانک آدمی‘ اور ’جہنم کی رقاصہ‘ شامل ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس ایپ پر ہر صارف اپنی پسند کا ناول صرف ایک بار خرید کر بار بار سن سکتا ہے۔

زین مکھی نے مزید بتایا کہ ان ناولوں کو ریڈیائی  ڈرامے میں ڈھالنے کے لیے ہدایات شمشاد علی خان نے دی ہیں اور انہوں نے اس میں انسپیکٹر فیاض کا کردار بطور صداکار بھی ادا کیا ہے۔

شمشاد علی خان نے اس ضمن میں ہمیں بتایا کہ چونکہ وہ ایک طویل عرصے سے ریڈیو سے منسلک رہے ہیں اور اس کام کے لیے ایک تجربے کار شخص کی ضرورت تھی اس لیے نگاہِ انتخاب ان پر ٹھہری، اگرچہ وہ ابتدائی طور پر اس میں بطور ہدایت کار شامل نہیں ہوئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر جب جاسوسی دنیا کو صوتی ڈرامے میں ڈھالنے کا فیصلہ ہوا تھا تو انہیں کرنل فریدی کا کردار ملا تھا مگر بعد میں فیصلہ عمران سیریز کے حق میں ہوگیا۔

انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں کاسٹنگ ان کے مشورے سے کی گئی ہے اور علی عمران کی آواز کے لیے ریڈیو پاکستان کے ایک پروڈیوسر باسط فریاد کو منتخب کیا گیا ہے۔

32 سالہ باسط فریاد نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ وہ اپنے گھر میں ابن صفی کی کتابیں دیکھتے تھے مگر پڑھنا بعد میں شروع کیا اور یوں دلچسپی کا سامان ہوگیا۔ باسط فریاد نے بتایا کہ ان کی آواز پاکستان کے متعدد نجی چینلز میں بطور وائس اوور آرٹسٹ استعمال کی جاتی ہے جن میں کئی ڈرامے بھی شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جب انہیں ایک بار کردار سمجھ میں آگیا تو پھر کوئی مشکل پیش نہیں آئی اور انہیں خاص کر اس وقت بہت مزہ آتا ہے جب علی عمران کا کردار مضحکہ خیز حرکتیں کرتا کرتا اچانک تفتیشی موڈ میں آجاتا ہے۔

عمران سیریز میں مشہور کردار روشی کی آواز ربیعہ کرن کی ہے جو ایک نجی چینل سے وابستہ ہیں۔ ربیعہ نے بتایا کہ پہلے پہل جب انہیں یہ کردار ملا تو انہوں نے منع کیا تھا کیوںکہ وہ ایک کل وقتی ملازمت بھی کرتی ہیں تاہم ایک ساتھی دوست کے اصرار پر انہوں نے آڈیشن دینے کے لیے جب سکرپٹ پڑھا تو بہت مزہ آیا اور اب وہ ریکارڈنگ کے لیے اپنے کام سے چھٹی بھی کرلیتی ہیں۔

روشی کا کردار اگرچہ ایک اینگلو برمیز کا ہے تاہم انہوں نے اس میں اردو ہی بولی ہے اور اس سلسلے میں ان کا کہنا تھا کہ ہدایت کار کی جانب سے تلفظ اور ادائیگی پر بہت زیادہ دھیان دیا جارہا ہے جس سے اس عمل میں کافی وقت لگتا ہے۔

پروڈیوسر زین مکھی نے بتایا کہ ان کی ایپ اس وقت ویب ایپلیکیشن کے طور پر موجود ہے اور بہت جلد ہی یہ گوگل پلے سٹور اور ایپل ایپ سٹور سمیت دیگر پلیٹ فارمز پر بھی دستیاب ہوگی۔

زیادہ پڑھی جانے والی آرٹ