میری یہی عید کہ میرا بھائی میرے ساتھ ہے

کل والے جہاز کے ساتھ میں بھی کریش ہو چکا ہوں۔ میرا دل چاہتا ہے کہ میرا بھائی کسی طرح گراؤنڈ ہو جائے، جہاز کی نوکری چھوڑ دے اور بس کچھ اور دھندہ کر لے۔

(پکسابے)

میں شفٹ پہ تھا۔ سب کام گھر سے ہو رہا ہے۔ کچھ خبریں ایڈٹ کرنا تھیں، کچھ تیار پڑی تھیں، انہیں ایک نظر دیکھ کے پوسٹ کرنا تھا۔ واٹس ایپ میں ایک میسج آیا۔ لاہور سے آنے والا پی آئی اے کا طیارہ کراچی ائیر پورٹ کے پاس گر گیا ہے۔

ایک منٹ تک کوئی جواب یہاں سے گروپ میں نہیں گیا۔ چیختا ہوا میسج دوبارہ آیا۔ DESKKKKKKKKKKKKK۔ جی میں دیکھ رہا ہوں۔ تین بج کر ایک منٹ پر وہ میسج آیا تھا۔ اب تین بج کر دو منٹ تھے۔ لاہور، کراچی، طیارہ، پی آئی اے بس یہ لفظ میرے دماغ میں گھوم رہے تھے۔ میں سوچ رہا تھا کہ خاور کہاں ہے۔ دماغ کچھ بھی جواب نہیں دے رہا تھا۔ شفٹ انچارج میں تھا۔ ایڈیٹر اور جذبات دو بالکل الگ چیزیں ہیں۔ تین منٹ مزید لگے خود کو یقین دلانے میں کہ خاور، میرا چھوٹا بھائی، نیچے کمرے میں ہے۔ یہیں ہے۔ پاس ہے، عید پہ چھٹی لے کر آیا ہوا ہے۔

اب خبر کنفرم کرنا تھی اور بس بریکنگ نیوز لگ جانی تھی۔ دل کر رہا تھا کسی طرح کوئی تردید آ جائے، کوئی وضاحتی بیان آ جائے، کوئی رپورٹر کہہ دے کہ مسافر جہاز نہیں تھا، کچھ بھی ہو اس میں وہ چہرے نہ ہوں جو میرے بھائی کے ساتھ کام کرتے تھے۔ جس نام دماغ میں آ رہا تھا اس کی خیر مانگتا تھا۔ لئیق، گوگو، بٹ، انیل، حسن، ناصر بھائی، شانی بھائی۔۔۔ سب کی شکلیں دماغ میں گھوم رہی تھیں اور ساتھ خبر کی تردید کا سخت انتظار تھا۔ الٹا تصدیق ہو گئی۔

چار لائنیں لکھیں، ڈرافٹ بنایا، خبر پوسٹ ہو گئی۔ ہاتھ کانپ رہے تھے۔ دل بند ہونے جیسا تھا، دماغ میں اب صرف اپنے بھائی کی شکل گھوم رہی تھی۔ نیچے کیسے جاؤں اسے کیا بتاؤں؟ کاش وہ سو رہا ہو، اسے یہ پتہ نہ لگے، کم از کم اسے میں نہ بتاؤں۔


میں اپنے آس پاس کے لوگ روتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا۔ چھوٹا تھا تو امی کے ساتھ مجلس میں نہیں جاتا تھا، نہ کبھی ان کے پاس بیٹھ کر ٹی وی پہ مجلس دیکھی۔ ان کے ساتھ بیٹھا ہوں تو نوحے تک نہیں لگاتا، وہ روتے ہوئے مجھے اچھی نہیں لگتیں۔ اب کسی اور بات پر بھی روتی ہیں تو کوشش کرتا ہوں موضوع بدل دوں یا اٹھ جاؤں۔ خاور کے پاس جانے میں بھی یہی مشکل تھی۔

جب آپ شفٹ انچارج ہیں تو ڈیسک سے اٹھنا ویسےبھی ناممکن ہوتا ہے اب تو خیر ایمرجنسی چل رہی تھی۔ بس یہی بہانہ بنا کر میں بیٹھا رہا۔ باہر سے آواز آئی کوئی دروازہ کھلا، کوئی اوپر گیا، کوئی نیچے آیا۔ میں اندر بند بیٹھا رہا۔ کام کرتا رہا۔ خبر کی اپ ڈیٹس آ رہی تھیں، وہ دیکھتا رہا۔ نیچے جایا ہی نہیں جا رہا تھا۔

ہمارے والد بھی پی آئی اے میں تھے۔ بہترین سفید پوش زندگی گزاری۔ میں نکما تھا۔ سائنس پسند نہیں تھی۔ ایف اے میں سائنس رکھی، فیل ہوا تو دوسرے سال آرٹس لے لی۔ پاس ہو گیا تو سیدھے فوج میں اپلائی کر دیا۔ ایک بار پہلا ہی ٹیسٹ کلئیر نہیں ہوا تو چھ ماہ بعد دوبارہ دیا۔ آئی ایس ایس بی سے ریجیکٹ ہو گیا۔ دو ٹھپوں کے بعد رعب دار سرکاری نوکری کا آپشن سی ایس ایس تھا یا پی آئی اے۔ مقابلے بازی میں زندگی کبھی لگی نہیں، سی ایس ایس ذہین بچے کرتے ہیں، یہ سوچ کے وہ راستہ بھی چھوڑ دیا۔

بی اے کے بعد پی آئی اے میں فلائٹ سٹیورڈ کے لیے اپلائے کر دیا۔ انہی دنوں نائن الیون ہوا تھا۔ ایک مرتبہ شاید داڑھی کی وجہ سے ریجیکٹ ہوا، دوسری مرتبہ اوور ویٹ تھا۔ تیسری بار پھر دل نہیں کیا۔ کچھ باپ سفارش والا آدمی ہی نہیں تھا، کچھ اس کے پاس واقعی سفارش والی طبیعت بھی نہیں تھی۔ تو بس پی آئی اے کو خدا حافظ کہہ کر زندگی آگے بڑھا لی۔

بہت سے کام کیے، ایم اے کے بعد فارما میں لگا تو موبائل لے لیا۔ اس وقت وہ ایک نئی چیز ہوتی تھی۔ خاور کے وہ دوست بھی لے چکے تھے جو تھوڑے افورڈنگ پوزیشن میں تھے۔ یہ دو کپڑوں میں رہنے والا سادہ سا بچہ تھا۔ کوئی بھی پوچھتا کہ یار تو کب لے گا موبائل، تو اس کا جواب ہوتا 'کمپنی دے گی۔' ابھی وہ پڑھ رہا تھا۔ ایم بی اے پورا کیا تو سٹیورڈ کی جاب دوبارہ نکلی۔ اخبار میں اشتہار دیکھا تو اس کے لیے دو فارم میں خود ہی لے کے آ گیا۔ ابو کہنے لگے کہ یار یہ تو ہو نہیں سکتا، یہ تو بالکل انڈر ویٹ ہے، دبلا پتلا سا، گھر میں 24 گھنٹے پڑا رہتا ہے، عینک بھی لگی ہوئی ہے، اس نے کدھر سلیکٹ ہونا ہے، ایویں ہزار روپے فارم پہ ضائع کیے۔

میں کوئی مثالی بڑا بھائی نہیں ہوں۔ کبھی اسے پیسے بھی نہیں دیے نہ کوئی خاص لاڈ پیار، بس دوستی ہے، جیسے بھائیوں کی ہوتی ہے۔ تو بس اسے کہا کہ یار جا تصویریں کھچا اور فارم بھر، جوڑ توڑ کرتے ہیں کوئی۔ کم از کم اب تک اتنے ٹیسٹ دے کے جو سیکھا ہے وہ تو میں تجھے سکھا دوں گا، باقی اللہ وارث ہے۔ اس دن کے بعد باقاعدہ جیسے دنبہ پالتے ہیں ویسے اس کو کھلانا پلانا شروع کیا گیا۔ ملک شیک چڑھوائے، کیلے کھلائے، آئی سائٹ کے لینز لگانا سکھائے، جن کپڑوں میں جسم بھرا ہوا لگے، ان پر بات کی۔ تیار کر کے ٹیسٹ کے لیے بھیج دیا۔

ایک ٹیسٹ، دوسرا ٹیسٹ، تیسرا ٹیسٹ، نتیجے کا انتظار، دو تین مہینے، دعائیں اور خاور پی آئی اے میں سلیکٹ ہو گیا۔

سلیکشن، ٹریننگ، شروع کی فلائٹ میں الٹیاں، سب کچھ گزار کے پہلی تنخواہ آئی تو اس نے مجھے 'رام دین' گفٹ کی، ممتاز مفتی کی کتاب تھی، اوپر لکھا تھے 'اتنے سارے پیسے بھیا۔۔۔۔ سمجھ میں نہیں آ رہا کیا کروں۔' وہ کتاب کوئی لے گیا۔ اب کمپنی میں آنے کے بعد خاور نے موبائل بھی لیا۔ اس کی سم بھی بھیا کا ہی ایک نمبر ہے، اب تک ہے۔

پھر اس نے ٹرانسفریں بھگتائیں، کراچی رہا، اسلام آباد رہا، فائنلی لاہور آیا تو میں بھی وہیں چلا گیا۔ ساتھ رہنے لگے۔ یہ نوکری دور سے اچھی لگتی ہے، جب خاور ساتھ رہا تو اندازہ ہوا۔ لمبی لمبی فلائٹیں، ٹوٹل جسمانی کام، جہاز میں رہنے کی وجہ سے بالوں، جسم، سب میں ہر وقت کی خشکی، نیند کا فکس کوئی ٹائم نہیں، آج صبح چار بجے پک اپ ہے، کل شام کو چھ بجے ہے۔ سونا بس انہی گھنٹوں میں ہے جو آفیشلی آرام کے ہیں۔

ہر فلائٹ پہ مسافروں کی بک بک، آپ کی مستقل پیشنس، سال میں ایک ٹکٹ خرید کے جہاز کو ابا کی ملکیت سمجھنے والوں کے جھگڑے، وی آئی پی لوگوں کے نخرے، پی آئی اے کی اندرونی سیاست، مہینے میں پندرہ دن باہر کے کھانے، ہر روز نیا بستر، نیا موسم، نئے لوگ، لمبی فلائٹوں کی تھکن، چھوٹی فلائٹوں میں کھانا دینے اور لپیٹنے کی ٹینشن، مطلب بس دور کے سہانے ڈھول تھے جو میں نے دیکھے اور وہ غریب بجانا شروع ہو گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دس جولائی 2006 کو پی آئی اے کا ایک فوکر ملتان سے ٹیک آف کرتے ہی تباہ ہوا، ابو کے ایک دوست بھی اس میں فوت ہوئے تو ہم لوگ کافی دن اداس رہے۔ اٹھائیس جولائی 2010 میں جب وہ مارگلہ والا جہاز کریش ہوا تو بھی سب سے پہلے اپنے بھائی کی فلائٹوں کا خیال دماغ میں آیا۔ کل والے جہاز کے ساتھ میں بھی کریش ہو چکا ہوں۔ میرا دل چاہتا ہے کہ یہ کسی طرح گراؤنڈ ہو جائے، یعنی جہاز کی نوکری چھوڑ دے اور بس ساتھ کچھ بھی اور دھندہ کر لے۔ اس میں لیکن تنخواہ کا بہت نقصان ہے۔ زمین آسمان کا فرق ہے۔ پیسہ نہ صرف بیٹوں کو ماؤں سے دور رکھتا ہے بلکہ بھائیوں کی جان بھی آسمانوں میں ٹنگی رہتی ہے۔ رہے گی۔

نہ بھائی ساری دنیا سے الگ نہ ماں بیچاری کوئی ملکہ برطانیہ۔ باپ صابر آدمی ہے، سوچتا مگر وہ بھی یہی ہو گا۔

خبر چلنے کے آدھ پون گھنٹے بعد میں نیچے آیا۔ لاؤنج میں اندھیرا تھا۔ ٹی وی چل رہا تھا۔ خاور اس کے بالکل سامنے ریموٹ اٹھائے پلاسٹک کی کرسی پہ بیٹھا تھا۔ بےصبری سے چینل گھما گھما کے دیکھ رہا تھا کہ آخر کہیں کوئی ایسی خبر ہو جس میں عملے کا ذکر ملے، شاید کوئی بچ گیا ہو۔ شاید سب بچ گئے ہوں۔ ان سب لوگوں کے ساتھ اس نے کام کیا ہوا تھا۔

فرید بھائی کے ساتھ تو اچھی دوستی تھی۔ وہ جو پائلٹ تھے، ان کے ساتھ بھی اس نے کئی فلائٹیں کی تھیں۔ خاور سے میں نے پوچھا کہ تیرے کوئی جاننے والے تھے۔ سر ہلا دیا، بے بس سر اس کے چوڑے کندھوں پہ بس ایک بار ہلا باقی وہ رو ہی رہا تھا، کیا اس نے کہنا تھا اور کیا میں نے پوچھنا تھا۔ میں اس کے پیچھے کھڑا ہو گیا۔ ہاتھوں کو اس کے بازوؤں پہ رکھا اور اسے دبا کر محسوس کرنے گا۔

میرا بھائی میرے پاس تھا۔ میرے گھر میں تھا۔ میرے ساتھ تھا۔ میں اس وقت رو نہیں سکا تھا، ڈیوٹی تھی، میں اب رو رہا ہوں ان کے لیے جو چلے گئے۔

عید ہے، صبح نو بجے ہیں، میں اب رو رہا ہوں۔ شکر ہے میرا بھائی میرے پاس ہے۔ پہلا نمبر بڑے والے کا ہوتا ہے، میں یقینا پہلے جانا پسند کروں گا۔ کوئی فائدہ نہیں کسی انکوائری کا، کسی کمیٹی کا، کسی تبدیلی کا۔ یا بے حسی کی ڈوز بڑھائیں یا ادھر سے بھاگ جائیں۔ جو درخت جڑیں نہیں چھوڑتا اسے موسم کی سختیاں برداشت کرنا پڑتی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ