عید پر گھر بیٹھے ہلکی پھلکی مزاحیہ پاکستانی فلمیں دیکھیں

اداس ماحول اور اپنے سے دوری کو دیکھتے ہوئے ہم نے عید کی مناسبت سے آپ کے لیے ہلکی پھلکی مزاحیہ فلموں کا انتخاب کیا ہے۔

(تصاویر: یوٹیوب/سکرین گریب)

 پاکستان سمیت دنیا بھر کے سینما گھر کرونا وائرس کی وبا کی وجہ سے بند پڑے ہیں اور یوں اس سال عید پر کوئی پاکستانی فلم بھی نمائش کے لیے پیش نہیں کی جا رہی ہے۔

تاہم اب سٹریمنگ سروسز کی وجہ سے کم از کم گھر پر فلم دیکھنے کا مزہ تو لیا ہے جاسکتا ہے کیونکہ ٹی وی چینلز پر فلم دیکھنا جس میں درجنوں وقفے اور سینکڑوں اشتہارات برداشت دو سے ڈھائی گھنٹے کی فلم پانچ سے چھ گھنٹے میں دیکھنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔

شکر ہے ہمارے پاس اب نیٹ فلکس موجود ہے جبکہ چند فلمیں یو ٹیوب پر بھی موجود ہیں۔ اس لیے اس کرونا وائرس سے متاثرہ عید پر جب آپ گھر میں ہی رہنے پر مجبور ہیں تو ہم آپ کو بتاتے ہیں ۔۔۔۔۔ پاکستانی فلمیں جو آپ گھر بیٹھے اپنے موبائل ، ٹیبلٹ یا سمارٹ ٹی وی پر دیکھ سکتے ہیں۔

اداس ماحول اور اپنے سے دوری کو دیکھتے ہوئے ہم نے عید کی مناسبت سے آپ کے لیے ہلکی پھلکی مزاحیہ فلموں کا انتخاب کیا ہے۔

1۔ طیفا ان ٹربل

بنیادی طور پر یہ فلم ایکشن کامیڈی تھی جس کے زیادہ تر عکس بندی پولینڈ میں کی گئی۔ یہ علی ظفر کی پاکستان میں پہلی فلم ہے جس میں ان کے ساتھ مایا علی بطور ہیروئین نظر آئیں۔ یہ مایا علی کی بھی پہلی فلم ہی تھی۔

اسے یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ عید یا کسی اور بڑے موقع پر ریلیز نہ ہونے کے باوجود نا صرف انتہائی کامیاب رہی بلکہ ملکی و عالمی سطح پر کُل ملا کر 50 کروڑ کا ہندسہ بھی باکس آفس پر مار لیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

طیفا ان ٹربل کی کہانی لاہور کے ایک جوان کی ہے جو پولینڈ سے ایک لڑکی کو اغوا کرنے کے لیے جاتا ہے۔ اس فلم میں اندرونِ لاہور کے مناظر کو عمدگی سے فلمایا گیا ہے، اس کے ساتھ ہی ساتھ آپ پولینڈ کے دلکش مناظر کا لطف بھی اٹھا سکتے ہیں۔

اگر آپ نے یہ فلم نہیں دیکھی تو پہلی فرصت میں اسے نیٹ فلکس پر دیکھ لیں۔

2۔ لوڈ ویڈنگ

مہوش حیات اور فہد مصطفٰی کی یہ کامیڈی فلم اس لحاظ سے منفرد ہے کہ اس میں ملک کے بہت سے سماجی مسائل جیسے جہیز، پولیو کے قطرے پلانا وغیرہ کو بہت مزاحیہ انداز میں اجاگر کیا گیا۔ اس فلم کے دیگر اہم کرداروں میں ثمینہ احمد اور فائزہ حسن شامل ہیں۔

اس فلم کی موسیقی بھی اعلیٰ ہے جیسے ’منڈے لاہور دے‘ اور ’گڈ لک‘ جبکہ اس میں  پنجاب کے فطرتی ماحول کو بہت خوبصورتی سے فلمایا گیا ہے۔

پاکستانی فلمی صنعت کی کامیاب ترین جوڑی پروڈیوسر فضہ علی میرزا اور ہدایتکار نبیل قریشی کی یہ فلم یوٹیوب پر ایچ ڈی کوالٹی میں دستیاب ہے اور مفت میں دیکھی جاسکتی ہے۔

3۔ نامعلوم افراد ٹو

جنوبی افریقہ میں فلمائی گئی یہ فلم بھی یوٹیوب پر مفت دستیاب ہے۔ فلم میں جاوید شیخ، فہد مصطفٰی ، محسن عباس، ہانیہ عامر اور عروہ حسین ہیں تاہم مرکزی کردار تینوں مردوں کا ہی ہے۔

یہ فلم ایک عرب شیخ کے سونے سے بنے کموڈ اور اس میں موجود ہیروں کی چوری کی کہانی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں اس فلم کو نمائش کی اجازت نہیں ملی تھی۔

یہ فلم بہت ہی تیز رفتاری سے آگے بڑھتی ہے اور کہیں بھی بور نہیں ہوںے دیتی۔ پاکستانی معیار کے حساب سے اس میں کچھ نسبتاً بےباک مناظر ہیں جن میں جنوبی افریقہ کے ساحل پر فلمایا ہوا ایک گانا ہے جس کی وجہ سے یہ فلم نمائش کے چند سن بعد پنجاب میں عتاب کا شکار ہوئی تھی تاہم وسیع پیمانے پر احتجاج کے بعد اسے دوبارہ نمائش کی اجازت مل گئی تھی۔

نامعلوم افراد کی پہلی قسط کی طرح اس میں آئٹم نمبر تو ہے مگر مہوش حیات کا نہیں بلکہ صدف کنول کا۔

 4۔ رانگ نمبر

اگرچہ اس فلم میں دانش تیمور کا ڈبل رول ہے مگر اس میں رنگ سوہائے علی ابڑو اور جاوید شیخ نے بھرے ہیں۔ اس فلم میں کراچی کے متوسط طبقے ، ان کی چھوٹی چھوٹی خوشیاں اور غم، وہاں چلنے والے ہلکے پھلکے رومانس بھی فلمائے ہیں۔

جاوید شیخ نے اس فلم میں ایک قصائی کا کردار کیا ہے جو بہت ہی دلچسپ ہے، جبکہ موسیقی بھی لبھانے والی ہے۔اگر آپ پاکستانی فلمیں نہیں بھی دیکھتے تو یقیناً آپ نے ایک گانا ضرور سنا ہوگا ’سیلفیاں رے سیلفیاں‘ ، سوہائے علی ابڑو پر فلمایا ہوا یہ گایا اسی فلم کا ہے۔

یہ فلم آپ کو قہقہہ لگانے پر مجبور نہ بھی کرے تو آپ کے چہرے پر کئی مواقع پر ہلکی سی مسکراہٹ ضرور بکھیرے گی۔

یہ فلم بھی  نیٹ فلکس پر موجود ہے۔

5۔ جانان

پاکستان کے خوبصورت علاقے سوات میں فلمائی گئی دیدہ زیب مناظر سے بھرپور فلم بنیادی طور پر تو ایک رومانوی کہانی ہی ہے تاہم اس کی خصوصیت اس کے مناظر ہیں۔

اداکار بلال اشرف ، ارمینا رانا خان ، ہانیہ عامر اور علی رحمان اس کے مرکزی کردار ہیں اور یہ فلم عمران خان کی سابق اہلیہ ریحام خان نے پروڈیوس کی تھی۔

اس فلم کی کہانی بہت سادہ ہے جس میں ایک لڑکی جو کینیڈا میں رہنے والی لڑکی گیارہ سال بعد اپنی کزن کی شادی کے سلسلے میں واپس آتی ہے۔ اس کا آبائی گھر سوات میں ہے اور اسےگھبراہٹ ہے کہ وہ روایتی طور طریقے کیسے نبھائے گی۔ اس فلم میں کچھ سماجی مسائل کی جانب سے نشاندہی کی گئی ہے۔ مجموعی طور پر یہ گھر بیٹھے سوات کی سیر کرنے کے لیے اچھی فلم ہے۔ اس فلم کی ہدایت کار اظفر جعفری ہیں جنہوں نے بعد میں ’پرچی‘ اور ’ہیر مان جا‘ بھی بنائی تھی۔

جانان کو نیٹ فلکس پر دیکھا جاسکتا ہے۔

6۔ چلے تھے ساتھ

پاکستان کے شمالی علاقوں میں فلمائی جانے والی یہ فلم خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے۔ اس فلم میں ایک مقامی لڑکی کو ایک ایسے چائنیز لڑکے سے محبت ہوجاتی ہے جو پاکستان کی سیاحت پر آیا ہوا ہے۔

سائرہ یوسف جو اس وقت سائرہ شہروز تھیں یہ ان کی پہلی فلم تھی۔

اس فلم کی سب سے خاص بات گلگت، ہنزہ، علی آباد ، کریم آباد ، درّہ خنجراب اور سوست کے فطری خوبصورتی والے علاقوں میں اسے انتہائی خوبصورتی سے عکس بند کیا گیا ہے۔ برف پوش پہاڑ، جھرنے، آبشاریں، جھیل، وادیاں یہ سب بہت ہی دلکش و دلفریب مناظر پیش کرتی ہیں۔

یہ فلم آپ کو شمالی علاقوں کی جانب کھینچتی ہے اور گھر بیٹھے وہاں کی سیر کا موقع بھی دیتی ہے۔ اس فلم کے کے مرکزی کرداروں میں سائرہ یوسف ، منشا پاشا ، اسامہ طاہر، بہروز سبزواری  اور چائنیز اداکار کینٹ لیونگ شامل ہیں۔ اس فلم عطاء آباد جھیل کے واقعہ اور اس کے وہاں کی مقامی آبادی پر پڑنے والے اثرات کی بھی عمدگی سے عکاسی کی گئی ہے۔

یہ فلم بھی نیٹ فلکس پر موجود ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی فلم