عجیب و غریب دورِ حکومت‎

ہم خود کو مسلسل دھوکہ دے رہے ہیں کہ حالات اچھے ہونے والے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر چیز میں ہم بد سے بدتر ہو رہے ہیں۔

عمران خان کی مایوس  کن کارکردگی کے بعد میں امید کرتا ہوں تمام سیاسی پارٹیوں کے رہنما، کارکن، وکلا اور دانش ور ہماری نئی تحریک کا ہراول دستہ ہوں گے(اے ایف پی)

آج کل ایسا لگتا ہے ہماری اجتماعی عقل کہیں گھاس چرنے چلی گئی ہے اور ہم حالتِ بے یقینی میں ہیں۔ آپ اندازہ لگائیں پچھلے 10 دنوں سے وزیر اعظم کی کابینہ اس بات پر خوشی کے شادیانے بجا رہی ہے کہ چینی بحران کی فرانزک رپورٹ شائع کر دی ہے لیکن اس بات پر بالکل پریشان نہیں کہ رپورٹ انہیں مافیاز میں گھری کرپٹ حکومت قرار دے رہی ہے۔

چینی کا بحران پیدا کرنے کا فیصلہ مرکزی اور صوبائی حکومتوں کا تھا اور فائدہ اٹھانے والے لوگوں میں یا تو پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما، اس کے اتحادی یا پھر اس کے وزیر ہیں۔ وزیر اعظم کے ایک مشیر ایسے ہیں جو ہر سکینڈل کے مرکزی کردار ہیں، چاہے وہ بھارت سے دوائیوں کی درآمد ہو، تعمیراتی شعبے کے لیے ایمنسٹی سکیم ہو، چینی مافیاز ہوں یا پھر بجلی والوں کے مفادات، ہر معاملے میں وہ مبینہ طور پر ملوث ملتے ہیں۔

ایک مشیر ہیں جو ہر چند دن کے بعد لوگوں کو پریس کانفرنس میں بتاتے ہیں کہ ملک میں بہت کرپشن ہے لیکن یہ نہیں بتاتے کہ انہیں بدعنوانوں کو سزا دلوانے سے کون روک رہا ہے۔ اب تک 200 ارب ڈالرز تو نہ آ سکے مگر پچھلے دنوں وہ ایک بہت امیر آدمی کے پیسے انگلستان سے بحفاظت لائے اور ان کے حوالے کر دیے۔

ایسا لگتا ہے کہ قومی بینک کے گورنر ملک کے تنخواہ دار نہیں بلکہ غیرملکی فنڈ مالکان کو جوابدہ تھے۔ پورے 18 ماہ انہیں بھرپور منافع کمانے کا موقع دیا۔ جہانگیر ترین نے اس قوم کو بتایا کہ انہیں نااہلی کی سزا اس لیے دی گئی تاکہ سیاسی توازن برقرار رہے۔ 

نااہلی اور غلط فیصلوں کی وجہ سے معیشت پہلے ہی تباہی کے دہانے پر کھڑی تھی جبکہ رہی سہی کسر کرونا وبا اور ٹڈی دل نے پوری کر دی۔ این ڈی ایم اے سے کوئی پوچھنے والا نہیں کہ ان دونوں قدرتی آفات کی آمد کا ہمیں بہت پہلے سے معلوم تھا لیکن اس کی روک تھام کا ہم نے کوئی انتظام نہیں کیا۔

اب کیا ان تمام باتوں کے بعد اس میں کوئی شک ہے کہ اس وقت ملک کے انتہائی عجیب و غریب حالات ہیں، جو کرپشن کے خلاف ہیں وہی کرپشن کی نئی حدوں کو چھو رہے ہیں۔ نااہلی اور بےعملی کا دور دورہ ہے۔

بات اگر صرف قومی خزانے یا عوام کو لوٹنے تک محدود رہتی تو شاید لوگ یہ سوچ کر خوش رہتے کہ جان محفوظ ہے۔ مگر ریلوے ہو یا پی آئی اے، کسی مسافر کی جان محفوظ نہیں۔ پچھلے 18 ماہ میں ریلوے حادثات میں کم از کم 400 سے زیادہ لوگ اپنی جان سے گئے۔ پی آئی اے کا حادثہ پوری قوم کو عید پر اداس کر گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان واقعات کو سنجیدگی سے لینے کی بجائے ہمیں لولی پاپ دیا جاتا ہے کہ تحقیقاتی کمیٹی بن گئی ہے اور انصاف ہوگا۔ آج تک نہ ریلوے کے کسی افسر کو سزا ملی اور نہ پی آئی اے کے کسی افسر کو ملے گی۔ ہمیں پہلے سے بتایا جا رہا ہے کہ جو اپنی جان سے گئے وہی قصوروار ہیں۔

میں ہمیشہ یہ کہتا ہوں کہ جس ملک میں زندوں کو انصاف نہیں ملتا وہاں مر جانے والوں کے لیے انصاف مانگنا دن میں خواب دیکھنے کے مترادف ہے۔ دوسرا ظلم یہ ہے کہ چوں کہ تحقیق نہیں ہوتی اس لیے آئندہ کے لیے نظام میں تبدیلی بھی نہیں کی جاتی اس لیے یہ حادثات بار بار ہوتے ہیں۔

ہمیں مسلسل بتایا جاتا ہے کہ خارجہ پالیسی میں ہم دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کر رہے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ جاپان اور یورپی یونین کے اجلاس میں کئی علاقائی جھگڑوں کو ختم کرنے کی بات ہوئی، جس میں افغانستان، لیبیا اور شام شامل ہیں مگر کشمیر کا کہیں ذکر نہیں۔

او آئی سی کے سفیروں کے اجلاس میں پاکستان کی اس درخواست کو مسترد کر دیا گیا کہ مسلمانوں کے خلاف بھارت کی ہندوتوا تحریک کے خلاف سفارتی تحریک چلائی جائے۔ دنیا ہمیں مسلسل نظر انداز کر رہی ہے اور ہم قوم کو کہہ رہے ہیں کہ وزیر اعظم کی میڈیا تحریک بڑی کامیاب جا رہی ہے۔

میں بار بار آپ کو یہ یاد دلا رہا ہوں کہ ہوش کے ناخن لیں۔ ہمارے تمام ادارے اور ریاست ناکامی کے دھانے پر کھڑے ہیں۔ ہر مسئلے کا حل ریٹائرڈ فوجی جرنیلوں کو عہدے دینے میں یا فوج کے ذمے کام لگانے میں نہیں۔ فوج کچھ چیزوں کو سنبھال سکتی ہے اور کچھ چیزوں میں اسے الف ب کا بھی پتہ نہیں۔ حکومت، معیشت، تجارت، ٹیکس اور اقتصادیات فوج کے بس کی بات نہیں۔

ہم خود کو مسلسل دھوکہ دے رہے ہیں کہ حالات اچھے ہونے جا رہے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر چیز میں ہم بد سے بدتر ہو رہے ہیں۔ اب ہم سب کو سر جوڑ کر ایک نئی ریاست تعمیر کرنی ہوگی۔ جذباتی تقریروں اور جھوٹے وعدوں کی بجائے حقیقی حل اور سخت فیصلے کرنے ہوں گے۔

ہمیں اپنی سیاست، انتظامی ڈھانچے اور اداروں کو بدلنا ہوگا۔ میں تمام سیاسی پارٹیوں کے رہنماؤں، کارکنان، وکلا اور دانش وروں سے درخواست کرتا ہوں کہ ایک نئی جمہوریہ کی تعمیر کے لیے سوچ بچار اور تیاری شروع کر دیں۔

آج حکومت کے جو حالات ہیں وہ کوئی تعجب کی بات نہیں۔ پی ٹی آئی میں رہتے ہوئے ہم نے بھرپور آواز اٹھائی کہ پارٹی پر مافیاز، خوشامدیوں اور نااہل لوگوں کا قبضہ ہے۔ مگر پارٹی کارکنان کا خیال تھا عمران خان کے پاس کوئی جادو کی چھڑی ہے جس کے ذریعے وہ مافیاز کو بھی قابو میں کر لیں گے اور تمام الیکشن وعدے بھی چٹکیوں میں پورے ہو جائیں گے۔ عمران خان کی مایوس کن کارکردگی کے بعد میں امید کرتا ہوں یہ تمام لوگ نئی تحریک کا ہراول دستہ ہوں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ