کرونا: ٹریس، ٹیسٹ اینڈ کورنٹین حکمت عملی ناکام ہو سکتی ہے؟

پاکستان میں اب تک کرونا مریضوں کو ڈھونڈنے میں ٹی ٹی کیو حکمت عملی کامیاب رہی تھی لیکن عید کے بعد کرونا کیسز میں تیزی سے اضافے کے بعد کیا یہ حکمت عملی موثر رہ سکے گی؟

عیدالفطر کے بعد پورے ملک میں کرونا وائرس کے مثبت کیسز میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے (اے ایف پی)

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے محکمہ صحت کو چار روز قبل شہر کی ایک نجی ٹیسٹنگ لیبارٹری سے ان افراد کی تفصیلات موصول ہوتی ہیں، جن کے  کرونا (کورونا) وائرس کے ٹیسٹ مثبت ثابت ہوئے تھے۔ 

مروجہ طریقہ کار کے مطابق محکمہ صحت کے اہلکار ان لوگوں سے رابطہ کرتے ہیں اور انہیں اس مہلک وائرس سے متعلق آگہی فراہم کرتے ہیں۔

اسلام آباد کے ضلعی سرویلنس افسر برائے کرونا وائرس ڈاکٹر سبحان قادر لغاری بتاتے ہیں، 'ہم ان میں سے ایک خاتون کو ٹریس نہیں کر پا رہے تھے کیونکہ وہ چھپ رہی تھیں۔ لیبارٹری میں انہوں نے جو ایڈریس دیا وہ غلط تھا اور موبائل فون بھی بند رکھا ہوا تھا۔'

انہوں نے بتایا کہ اس صورتحال میں مذکورہ خاتون کو ڈھونڈنے کام ایک عسکری ادارے کو سونپا گیا، جہاں موبائل فون کی نگرانی کرنے والے سافٹ ویئر کی مدد سے خاتون کے گھر کا پتہ معلوم کیا گیا۔ 'بعد ازاں انہیں قرنطینہ میں ڈال کر ان کے دوسرے اہل خانہ کے ٹیسٹ بھی کیے گئے۔'

پاکستان میں کئی لوگ مختلف وجوہات کی بنا پر کرونا وائرس کی تصدیق کے بعد سرکاری ہسپتالوں اور قرنطینہ مراکز سے دور رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ احتیاطی تدابیر سے، جن میں معاشرتی دوری سرفہرست ہے، بھی عمل نہیں کرتے۔

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے ایسے لوگوں کا سراغ لگانے اور وائرس کا مزید پھیلاؤ روکنے کے لیے ایک منفرد حکمت عملی ٹریس، ٹیسٹ اینڈ کورنٹین (ٹی ٹی کیو) اپنائی، جس کا مقصد کرونا وائرس کے کیرئیرز  اور ان سے تعلق میں آنے والے افراد کی تلاش، ان کا ٹیسٹ، علاج اور انہیں قرنطینہ میں ڈالنے وغیرہ کو یقینی بنانا ہے۔

ٹی ٹی کیو کی حکمت عملی پر عمل درآمد میں پاکستان فوج کا خفیہ ادارہ انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) ضلعی انتظامیہ کو مدد فراہم کرتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ کرونا وائرس کے کیرئیرز اور ان کے تعلق میں آنے والوں کا سراغ لگانے کے لیے وہی ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے جو ماضی قریب میں دہشت گردوں کو پکڑنے کے لیے استعمال ہوتی رہی ہے۔

ایک سینیئر عسکری افسر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا، 'ہمارا کام صرف کرونا وائرس کے کیرئیرز اور ان کے قریب آنے والوں کا پتہ لگا کر انتظامیہ کو مطلع کرنا ہے۔'ہم ٹی ٹی کیو کی حکمت عملی میں صرف پہلے 'ٹی' کے ذمہ دار ہیں۔ ہم لوگوں کو ٹریس کرتے ہیں۔ اگلے دو مراحل یعنیٰ ان کے ٹیسٹ کرنا اور قرنطینہ میں رکھنا یا ہسپتال میں علاج کروانا ضلعی انتظامیہ کے کام ہیں۔'  

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید بتایا کہ ایران سے آنے والے زائرین کا سراغ لگانے میں ناکامی کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے فوج سے اس ٹیکنالوجی کے ذریعے ضلعی انتظامیہ کی مدد کرنے کا کہا تھا۔

اس ٹیکنالوجی سے متعلق معلومات رکھنے والے ایک دوسرے سینیئر عسکری افسر نے بتایا کہ یہ کام عموماً موبائل فون کے ذریعے کیا جاتا ہے، تاہم اس میں کچھ دوسرے آلات بھی استعمال ہوتے ہیں۔ 'بنیادی طریقہ کار جیو فینسنگ کا ہے، جس میں ایک مخصوص موبائل نمبر کے گرد جیسے ایک دائرہ سا کھینچ لیا جاتا ہے اور جب کوئی بھی دوسرا موبائل نمبر یا کوئی بھی الیکٹرانک آلہ اس دائرے میں داخل ہوتا ہے تو ہمیں معلوم ہو جاتا ہے۔'

انہوں نے کہا کہ اس حکمت عملی میں موبائل فونز پر ہونے والی گفتگو کے سنے جانے پر پابندی ہے اور ایسا بالکل بھی نہیں کیا جاتا، صرف موبائلز کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جاتی ہے۔

ٹی ٹی کیو حکمت عملی کتنی کار آمد ہے؟

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ٹی ٹی کیو کی حکمت عملی پورے ملک میں استعمال ہو رہی ہے۔ تاہم اس سلسلے میں باقاعدہ سرگرمی وفاقی دارالحکومت میں دیکھنے کو ملی۔

اسلام آباد کے ضلعی محکمہ صحت میں ایک ٹی ٹی کیو مرکز قائم کیا گیا ہے، جہاں ایک درجن سے زیادہ لوگ کرونا وائرس کے کیرئیرز کی رہنمائی میں مصروف ہیں۔ کسی کرونا وائرس کیرئیر تک رسائی میں مشکل کی صورت میں عسکری ادارے سے مدد حاصل کی جاتی ہے۔

ڈاکٹر سبحان نے، جو ٹی ٹی کیو مرکز کے انچارج بھی ہیں، انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ انہوں نے اس حکمت عملے کے ذریعے کئی مثبت کیسز اور ان کے قریب آنے والوں کا سراغ لگایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک ٹی ٹی کیو حکمت عملی سے حوصلہ افزا نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ کرونا وائرس کے مثبت کیسز میں اضافے کی صورت میں شاید یہ حکمت عملی اتنا زیادہ کارآمد ثابت نہ ہو سکے۔

جیسا کہ ہم آج کل دیکھ رہے ہیں کہ عید کے بعد مثبت کیسز کی تعداد میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر یہ رجحان اسی طرح قائم رہتا ہے اور کیسز میں اضافہ ہوتا ہے تو اس حکمت عملی سے مستفید نہیں ہوا جا سکے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایک وقت میں بہت زیادہ لوگوں کو ٹریس کرنا، انہیں اور ان کے قریب آنے والوں پر نظر رکھنا اور ان سب کے ٹیسٹ کرنا یا انہیں قرنطینہ میں رکھنا مشکل کام ہوں گے۔

ڈاکٹر سبحان کا مزید کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں اسلام آباد میں کرونا کے مثبت کیسز کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے صرف 29 اور 30 مئی کے درمیان 24 گھنٹوں کی مثال دی، جب وفاقی دارالحکومت میں 226 مثبت کیسز آئے، یہ تعداد گذشتہ دو مہینوں کے دوران کسی بھی دن سے زیادہ ہے۔

اسلام آباد کی طرح پورے ملک میں عیدالفطر کے بعد کرونا وائرس کے مثبت کیسز میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ 29 اور 30 مئی کے درمیانی 24 گھنٹوں میں مجموعی طور پر پاکستان میں 3039 کیسز ریکارڈ کیے گئے جبکہ مجموعی طور پر 88 اموات ہوئیں۔

پاکستان میں آگاہی کی کمی، معاشرے میں بدنامی کا ڈر، سرکاری سسٹم پر عدم اعتماد اور خوف کے باعث کچھ لوگ کووڈ۔19 کی علامات کے باوجود گھروں پر رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ حتیٰ کہ سرکاری ہسپتالوں اور قرنطینہ مراکز سے بھی کووڈ۔19 کے مریضوں کے فرار ہونے کی اطلاعات ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی