مرمت کا منتظر تقریباً ایک صدی پرانا سکھر بیراج

آب پاشی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بیراج کے اپ سٹریم میں بڑی تعداد میں ریت جمع ہوگئی ہے جس سے پانی کی سطح بڑھنے اور  دو شہروں کے ڈوبنے کا خطرہ ہے۔

آبپاشی کے ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر دریائے سندھ پر تعمیر ہونے والے پہلے اور تاریخی سکھر بیراج کی مرمت کرکے وہاں جمع ریت کو نہ نکالا گیا تو سندھ کا معاشی لحاظ سے دوسرا بڑا شہر سکھر اور اس سے متعصل روہڑی شہر کے ڈوبنے کا خدشہ ہے۔

سابق چیف انجینئر گڈو بیئراج اور انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) میں سندھ کے نمائندہ رہنے والے ماہر آبپاشی نور محمد بلوچ نے کہا  ہے کہ سکھر بیراج کے اپ سٹریم میں بڑی تعداد میں ریت جمع ہوگئی ہے جسے نکالنا بے حد ضروری ہے۔

نور محمد بلوچ نے کہا: ’ریت جمع ہونے کے باعث بیراج پر پانی کی سطح ہر سال ایک سے دو فٹ اوپر ہورہی ہے، اگر یہ ریت جلد ہی نہ نکالی گئی تو سکھر ارو روہڑی کے ڈوبنے کا خدشہ ہے۔‘

بیراج کی مرمت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے نور محمد بلوچ کا کہنا تھا کہ بیراج کے دو دروازے مکمل طور پر ختم ہوگئے ہیں جنہیں تبدیل کرنے کے ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ دروازوں کے اوپر بنی محرابیوں کی حالت انتہائی خستہ ہے جن کو بھی مرمت کی شدید ضرورت ہے۔   

انہوں نے کہا کہ جس وقت سکھر بیراج بن رہا تھا اس وقت سیمنٹ دستیاب نہیں تھا۔ اس لیے بیراج کو مقامی پتھروں سے بنایا گیا اور پتھروں کو سیمنٹ کے بجائے چونے سے جوڑا گیا تھا جس کے باعث کافی مسائل درپیش آئے۔ بعد میں جب سیمنٹ آیا تب بیراج کے ستوں میں سیمنٹ کو پریشر سے ڈالا گیا تاکہ مظبوطی آسکے۔ ’مگر اب تعمیر کو تقریباً ایک صدی مکمل ہونے پر اس بیراج کو مرمت کی شدید ضرورت ہے۔‘

تاریخ

سکھر بیراج پاکستان کے جنوبی صوبہ سندھ کے تیسرے بڑے شہر اور کراچی کے بعد دوسرے بڑے معاشی مرکز سکھر کے قریب دریائے سندھ پر بنا ہوا ہے۔ سکھر بیراج درائے سندھ پر بننے والا پہلا بیراج ہے جس کے تعمیر کا کام برطانوی دور حکومت کے دوران 1923 میں شروع کیا گیا۔ اس کی تعمیر میں نو سال لگے اور اس کا مقصد آبپاشی اور سیلاب سے بچاؤ تھا۔

اس وقت اس بیراج کا نام بمبئی کے اس وقت کے گورنر جارج امبروز لائیڈ کے نام سے لائیڈ بیراج رگھا گیا تھا جو بعد میں تبدیل کرکے سکھر بیراج رکھا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس وقت کے حاکموں، آپباشی کے ماہرین اور حکام کو بیراج کے سیر کروانے کے لیے، بیراج کے اوپر ایک چھوٹی سی ریل گاڑی بھی منگوائی گئی تھی جو بیراج کے تعمیر کو اٹھاسی سال ہونے کے باجود بھی بہتر حالت میں موجود ہے۔

اس کے علاوہ بیراج سے متعصل ایک میوزیم بھی بنایا گیا ہے جس میں بیراج کے ماڈل، بیراج میں استعمال ہونی والی مٹی کے نمونے اور تعمیر کے دوران لی گئی تصاویر رکھی گئی ہیں۔

دریائے سندھ کے بیراج

دریائے سندھ پر اس وقت چھہ بیراج ہیں جن میں دریا کے اوپری بہاؤ میں پہلا بیراج جناح بیراج ہے جو پنجاب میں کالاباغ کے مقام پر قائم ہے، دوسرا بیراج چشمہ بیراج جو پنجاب کے ضلع میانوالی میں بکھڑا شریف کے نزدیک بنا ہے۔ تیسرا تونسہ بیراج ہے جو کہ کالاباغ ہیڈورکس سے 80 میل جنوب کی طرف دریائے سندھ پر واقع ہے۔

چوتھا بیراج سندھ کے ضلع کشمور کے نزدیک گڈو بیراج ہے، پانچواں سکھر بیراج اور چھٹا بیراج ہے کوٹری بیراج جو سندھ کے حیدرآباد اور جامشورو شہروں کے درمیاں دریائے سندھ پر 1955 میں تعمیر کیا گیا تھا۔

انچارچ کنٹرول روم سکھر بیراج عبدالعزیز سومرو کے مطابق سکھر بیراج دنیا کا سب سے بڑا آبپاشی نظام ہے جہاں سے سات بڑے کینال نکلتے ہیں جن میں چار کینال بشمول نارا کینال، روہڑی کینال، خیرپور فیڈر ایسٹ اور خیرپور فیڈر ویسٹ بیراج کے بائیں جانب، جبکہ دائیں طرف سے تین کینال دادو کینال، رائس کینال اور بلوچستان کو پانی فراہم کرنے والا نارتھ ویسٹ کینال شامل ہیں۔

عبدالعزیز سومرو نے بتایا: ’سکھر بیراج کی تعمیر کے وقت اس بیراج کے کمانڈ ایریا یعنی جہاں اس بیراج سے آبپاشی کے لیے پانی پہنچتا ہے وہ 80 لاکھ ایکڑ زمین تھی جس میں بعد میں کافی اضافہ ہوا۔‘

عبدالعزیز سومرو کے مطابق بیراج پر ریت کا جمع ہونے والا مسئلہ بیراج کے تعمیر کے ساتھ ہی شروع ہوگیا تھا۔ انہوں نے کہا: ’ریت کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے بیراج کی تعمیر کے کچھ سال بعد ہی بیراج کے دس دروازے مستقل طور پر بند کر دیے گئے تھے۔ جن میں گیٹ نمبر چھ سے گیٹ نمبر 14 اور گیٹ نمبر 23 کو ہمیشہ کے لیے بند کردیا گیا تھا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا