’کل تک ان کے آنے کا انتظار تھا اور آج آخری رسومات کی تیاری‘

بھارتی فوج کی جانب سے جمعرات کو ان فوجیوں کی لاشیں ان کے گھر والوں کے حوالے کی گئیں جو پیر اور منگل کی درمیانی شب گلوان وادی میں تصادم کے دوران چینی فوجیوں کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔

بھارتی فوج کی جانب سے جمعرات کو  فوجیوں کی لاشیں ان کے گھر والوں کے حوالے کی گئیں (اے ایف پی)

فون پر ان کی آخری گفتگو میں بھارتی فوجی کی اہلیہ نیہا اوجھا ان کے اس خیال پر ہنسنے لگیں جب انہوں نے کہا کہ وہ اپنی بیٹی کا نام ’سنو وائٹ‘ رکھنا چاہتے ہیں۔

بھارتی فوجی اس وقت چین کے ساتھ منسلک سرحد پر برف سے ڈھکی وادی میں گشت کر رہے تھے۔

نیہا کہتی ہیں کہ انہوں نے اپنے شوہر سے کہا کہ وہ گھر آنے سے پہلے کوئی بھارتی نام سوچیں۔‘

سولہ گھنٹوں بعد نیہا اوجھا کو بتایا گیا کہ ان کے شوہر بھی ان 20 فوجیوں میں شامل ہیں جو گلوان وادی میں چینی فوجیوں کے ہاتھوں مارے گئے۔

جمعرات کو انہوں نے بتایا کہ اپنے شوہر کی لاش کا انتظار کرتے ہوئے انہیں 18 دن کی بیٹی کا خیال رکھنے میں مشکل ہو رہی تھی۔

23 سالہ اوجھا نے فون کال پر خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ’ہم سب ان (کندن) کا انتظار کر رہے تھے کہ وہ آ کر ہماری بیٹی کا نام رکھنے کی تقریب کی میزبانی کریں گے۔ اب ہم ان کی آخری رسومات کی تیاری کر رہے ہیں۔‘

بھارتی فوج کی جانب سے جمعرات کو ان فوجیوں کی لاشیں ان کے گھر والوں کے حوالے کی گئیں جو پیر اور منگل کی درمیانی شب گلوان وادی میں تصادم کے دوران چینی فوجیوں کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مارے جانے والے فوجیوں کے خاندان والے اور دیگر شہریوں نے وزیراعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ چین کو سزا دینے کے لیے کوئی سٹریٹجک اور سفارتی راستہ تلاش کیا جائے۔

نیہا اوجھا کہتی ہیں کہ ان کو لگتا تھا کہ چین اور بھارت کے درمیان تنازع اتنا سنجیدہ اور سنگین موڑ کبھی نہیں لے گا۔

’میں غلط تھی، ہم سب چینیوں پر بھروسہ کرنے میں غلط تھے۔ انہیں ضرور سزا ملنی چاہیے۔‘

ایک اور مارے جانے والے فوجی کے والد کشور سنگھ نے اپنے بیٹے کی لاش ملنے سے چند گھنٹے قبل بتایا کہ ’اس طرح سے ضرب لگانے کو روکنا ہوگا۔ چین کے پاس بڑی فوج ہے لیکن اگر وہ اس طرح کے حملے جاری رکھیں گے تو بھارتی اس کے خلاف متحد ہو جائیں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’چینی اس وبا کی آڑ میں اپنی فوج کا بہیمانہ استعمال کر رہے ہیں، چین کو سزا دینے کے لیے دنیا کو بھارت کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا