مغرب کو افغان سرزمین سے خطرہ نہیں ہوگا: طالبان کی یقین دہانی

افغانستان میں امریکی افواج کی تعداد میں کمی کے بعد طالبان نے یقین دہانی کرائی ہے کہ افغان زمین کو مغرب پر حملوں کے لیے استعمال ہونے نہیں دیا جائے گا۔

فروری میں طے پائے گئے معاہدے کے تحت تمام امریکی اور غیر ملکی فوجیوں کو 2021 کے وسط تک افغانستان نخلا مکمل کرنا ہے (اے ایف پی)

افغانستان میں امریکی افواج کی تعداد میں کمی کے بعد طالبان نے یقین دہانی کرائی ہے کہ افغان زمین کو مغرب پر حملوں کے لیے استعمال ہونے نہیں دیا جائے گا۔

خطے کے لیے امریکہ کے اعلیٰ کمانڈر جنرل کینتھ میک کینزی نے کہا ہے کہ فروری میں طالبان کے ساتھ معاہدے کے تحت افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد کو کم کرکے 8،600 تک لایا جا چکا ہے۔

تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ آئندہ سال تک مجوزہ مکمل انخلا کے لیے تمام شرائط پر عمل درآمد ضروری ہے۔

واشنگٹن میں جمعرات کو ایسپین انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام ایک پینل مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل کینتھ کا کہنا تھا کہ ’ان شرائط کو پورا کر کے ہمیں اطمینان دلانا ہو گا کہ ہمارے ملک کے خلاف حملوں کے لیے افغانستان کی سرزمین کو استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔‘

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق میک کینزی نے مزید کہا کہ طالبان داعش کے کبھی دوست نہیں رہے تاہم انہیں نائن الیون حملوں میں ملوث القاعدہ کے خلاف کارروائی کرنے کے اپنے وعدے کو الفاظوں کی بجائے عملی اقدامات سے ثابت کرنا ہو گا۔ 

’اس کے لیے ہم طالبان کے اقدامات پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور جیسے جیسے ہم آگے بڑھ رہے ہیں تو ہم دیکھ رہے کہ وہ ان مذاکرات میں کس طرح حصہ لے رہے ہیں۔ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔‘

اس کے جواب میں افغان طالبان نے جمعے کو کہا کہ وہ فروری میں امریکہ کے ساتھ طے شدہ معاہدے پر کاربند ہے، ’خاص طور پر امریکہ اور مغرب کو افغانستان سے لاحق خطرات کے حوالے سے۔‘

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ہمارے ملک کی سرزمین کسی کے بھی خلاف استعمال نہیں کی جائے گی۔ انہیں (مغرب کو) اس بارے میں فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فروری میں طے پائے گئے معاہدے کے تحت تمام امریکی اور غیر ملکی فوجیوں کو 2021 کے وسط تک افغانستان نخلا مکمل کرنا ہے۔

اس معاہدے کے تحت امریکہ نے عہد کیا ہے کہ وہ طالبان سے سکیورٹی گارنٹی کے بدلے آئندہ سال افغانستان سے اپنے تمام فوجیں نکال لے گا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھیجی گئی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ القاعدہ اور طالبان کے درمیان قریبی تعلقات ہیں اور وہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں باقاعدہ مشاورت کرتے رہے ہیں۔

افغان حکومت بھی طویل عرصے سے الزام عائد کر رہی ہے کہ طالبان ملک میں حملوں کے لیے داعش اور القاعدہ جیسے گروہوں کو پلیٹ فارم مہیا کررہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بارہا کہہ چکے ہیں کہ وہ جلد سے جلد امریکی فوجیوں کا افغانستان سے انخلا چاہتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا