کرونا نے وزیرستان کی خواتین کو کس کس مشکل میں ڈالا

شوال کی زیڑی جانہ نے بتایا کہ کرونا کی بیماری سے متعلق انہیں زیادہ معلومات نہیں ہیں کیونکہ نہ یہاں بجلی ہے کہ وہ ٹی وی دیکھ سکیں اور نہ یہاں دوسرا کوئی طریقہ ہے۔

جنوبی وزیرستان کی عورتوں کو علاج معالجہ کے لیے بھی کافی تکالیف کا سامنا کرنا پڑا(اے ایف پی) 

عالمی وبا کرونا نے پوری دنیا طرح جنوبی وزیرستان میں بھی اپنے اثرات مرتب کیے ہیں۔ شاید کرونا نے یہاں اتنی تباہی نہیں مچائی جتنی اس وبا کے تحت ہونے والے اقدامات سے لوگ متاثر ہوئے۔

جنوبی وزیرستان جہاں پہلے سے ہی لوگ بنیادی سہولیات اور ضروریات سے محروم ہیں۔ اس وبا نے صورت حال نے مزید دگرگوں کر دی ہے۔ ایسے میں وزیرستان کی عورتوں پر کیا گزر رہی ہوگی؟ اس کا اندازہ ہمیں وزیرستان سے تعلق رکھنے والی ساجدہ کی باتوں سے ہوتا ہے۔

ساجدہ بی اے کی طالبہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب سے وبا پھیلی ہے تو ابتدائی اقدامات میں مکمل لاک ڈاؤن کے تحت لوگوں کے وزیرستان آنے جانے پر پابندی لگا دی گئی، ہسپتالوں میں او پی ڈی مکمل بند کر دی گئی، مارکیٹیں بھی بند کر دی گئیں یہاں تک کہ لوگوں کو اشیاے خوردونوش کی کمی کی وجہ سے کافی تکالیف کا سامنا کرنا پڑا۔ کسی بیماری کی صورت میں تو مرتے کیا نہ کرتے برداشت ہی کرنا پڑتا۔

وہ خواتین جن کے حمل تھے ان کے گھروں پر بچوں کی غیر تربیت یافتہ عورتوں کی ہاتھوں پیدائش سے بعض بچے مردہ پیدا ہوئے ۔کوئی چارہ ہی نہ تھا۔

ساجدہ کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کو کرونا کے پیش نظر اقدامات ہی کرنا تھے تو اس کے ساتھ ساتھ لوگوں کی ان مشکلات کا نوٹس بھی لیتے جن کا وہ سامنا کر رہے تھے۔ انہوں نے حکومت کی بقول ان کے ناکام پالیسی پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ کرونا کی وجہ سے جہاں لوگوں کو اتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا وہیں قبائلی اضلاع کے ضم ہونے کے بعد بھی وہی پرانی پالیسی راہداری کالے قانون کے تحت لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کیا گیا۔ ’راہداری کا بے بنیاد قانون رکھ کر لوگوں کا کافی تنگ کیا جاتا رہا یہاں تک کہ وزیرستان کے اندر ہی بسنے والے لوگوں کو وزیرستان ایک ضلع سے دوسرے ضلع جانے کے لیے بھی چیک پوسٹوں پر راہداری دکھانی پڑتی ہے۔ یہ راہداری بنانے کے لیے ٹانک جانا پڑتا تھا اور اکثر لوگوں سے مبینہ طور پر پانچ سو روپے رشوت کے طور پر لیے جاتے تھے۔‘

اس مسئلے کو بالآخر سوشل میڈیا پر اٹھانے کے بعد پشاور ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کی گئی اور عدالت نے اس کو غیر قانونی قرار دے دیا۔

اسی طرح وزیرستان کے علاقہ شوال کی مقامی عورت زیڑی جانہ نے بتایا کہ کرونا کی بیماری سے متعلق انہیں زیادہ معلومات نہیں ہیں کیونکہ نہ یہاں بجلی ہے کہ وہ ٹی وی دیکھ سکیں اور نہ یہاں دوسرا کوئی ذرائع ہے۔ ’بس ہمیں اتنا بتایا گیا کہ ایک وبا آئی ہے جس سے لوگ  مر جاتے ہیں اور جس کو بخار ہو جائے تو وہی لوگ ہی مرتے ہے۔‘

زیڑی جانہ نے بتایا کہ ان کے بچے کو بخار ہو گیا تھا تو ان پر کافی پریشانی گزری۔ ’ کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا کیا جائے۔ چونکہ یہاں کوئی ہسپتال نہیں اور راستے بند ہونے کی وجہ سے کہیں لے کر نہیں جا سکتے تھے۔ مگر اللّٰہ کا شکر ہے کہ میرا بیٹا ٹھیک ہو گیا۔‘

علاقہ مکین سے تعلق رکھنے والی شازیہ کا کہنا ہے کہ وزیرستان میں وہ لوگ آباد ہیں جوکہ انتہائی غریب ہیں جن کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ وہ پاکستان کے دوسرے شہروں میں سہولیات کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔

شازیہ کا کہنا تھا کہ کرونا وبا نے یہاں ہر کھانے پینے کی چیز مہنگی کر دی۔ ’مقامی لوگوں کے لیے اتنے مہنگے دام میں اشیا کی خریداری ایک چیلنج بن گیا تھا اور تو اور بہت سی ضرورت کی اشیا ناپید ہوگئی تھیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پہلے بھی لوگ غربت کا سامنا کر رہے تھے اور اس وبا نے اس کی غربت اور مشکلات کو مزید بڑھا دیا ہے۔عاصمہ جو کہ علاقہ احمد وام میں رہتی ہیں نے بتایا کہ ان کے علاقے میں تو موبائل سروس بھی نہیں ہے جبکہ سراروغہ جو کہ احمدوام سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر ہے وہاں پر ایک موبائل سروس بحال ہے جبکہ احمد وام سے تقریباً ایک گھنٹہ کی مسافت پر آگے مروبی میں دوسری موبائل کمپنی کی سروس کام کرتی ہے۔ سراروغہ اور مروبی کے درمیان ان کا علاقہ موبائل سروس سے محروم ہے۔

’ایسے حالات میں جب ٹرانسپورٹ بھی بند تھی اور اپنوں کی خیریت معلوم کرنے کے لیے ہمیں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا بلکہ ہم خیریت معلوم ہی نہیں کر سکتے تھے۔ پہلے بھی ہمیں اندھیرے میں رکھا گیا ہے۔ اب تو مکمل ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے ہم دنیا سے کٹ گئے ہوں۔‘

اس کے ساتھ ساتھ علاج معالجہ کے لیے بھی کافی تکالیف کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک آزمائش کی گھڑی تھی جو گزر گئی اور اللّٰہ تعالٰی مزید ایسے حالات دوبارہ نہ دکھائے۔ عاصمہ نے اس وبائی صورت حال کے پیش نظر صوبائی حکومت سے احمد وام میں بھی موبائل سروس بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اسی طرح وزیرستان میں کچھ علاقے اب بھی ایسے ہیں جہاں پر لوگوں کو کرونا وائرس کے متعلق پتہ ہی نہیں ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین