پاکستان سپورٹس بورڈ: رکنیت کا کوئی لیٹر نہیں ملا، عقیل کریم ڈھیڈی

کاروبار اور سٹاک ایکسچینج کی دنیا میں بڑا نام عقیل کریم ڈیڈھی کا کہنا ہے کہ انہیں حکومت کی جانب سے رکنیت کا کوئی لیٹر موصول نہیں ہوا، پر مبارک باد کی پیغام بہت موصول ہوئے ہیں۔

 سندھ کے حالیہ دورے میں وزیر اعظم  کی  عقیل کریم ڈیڈھی سے  ملاقات۔ (تصاویر: فیس بک)

حال ہی میں وزیر عظم عمران خان نے صوبہ سندھ کا دورہ کیا جس میں ان کی ملاقات سندھ کی مختلف سیاسی، سماجی، کاروباری اور میڈیا کی شخصیات سے ہوئی۔ ان ملاقاتوں کے حوالے سے ایک شیڈول بھی ترتیب دیا گیا جس کی سوشل میڈیا  پر کافی تنقید بھی ہوئی تھی۔

تنقید کی وجہ تھے مشہور بزنس ٹائیکون عقیل کریم ڈیڈھی۔ گورنر ہاؤس میں دعوت کے موقعے پر وزیر اعظم عمران خان کی عقیل ڈیڈھی سے ہونے والی ملاقات کو شیڈول میں واضح تو کیا گیا تھا البتہ غلط نام سے۔ شیڈول میں ان کا خاندانی نام 'ڈیڈھی' لکھنے کے بجائے انگریزی کا لفظ 'ڈیڈی' لکھ دیا گیا تھا جس کا مطلب ہے 'باپ' یا 'والد'۔

تاہم اس ملاقات کے کچھ روز بعد ایک اہم خبر سامنے آئی جس کے مطابق چند اہم شخصیات کے ہمراہ معروف بزنس ٹائیکون عقیل کریم ڈیڈھی کو پاکستان سپورٹس بورڈ کا رکن مقرر کردیا گیا ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو کو اس حوالے سے بتاتے ہوئے عقیل کریم ڈیڈھی کا کہنا تھا کہ نہ ہی وزیر آعظم سے ہونے والی ملاقات میں پاکستان سپورٹس بورڈ کا کوئی ذکر ہوا تھا اور نہ ہی انہیں اب تک حکومت کی جانب سے سپورٹس بورڈ میں ان کی رکنیت کا کوئی لیٹر موصول ہوا ہے لیکن واٹس ایپ پر اب تک انہیں چار سو سے پانچ سو مبارک باد کے میسیجز آچکے ہیں۔

اس حوالے سے ان کا مزید کہنا تھا: 'اگر میری رکنیت کنفرم ہوجاتی ہے تو میں سب سے پہلے پاکستان میں خواتین کی ہاکی ٹیم بناؤں گا۔ میں نے بچپن سے سپورٹس کھیلی ہے اور مجھے سپورٹس کا کافی شوق ہے۔'

خیال رہے عقیل کریم ڈیڈھی (اے کے ڈی) گروپ کی 'اراکیڈین' نامی کمپنی پی ایس ایل کی ٹیم کراچی کنگز کی سپانسر ہے۔ اس کے علاوہ پی ایس ایل کے پچھلے سیزن میں عقیل ڈیڈھی نے ملتان سلطانز کی ٹیم کی فرنچائز خریدنے میں بھی دلچسپی ظاہر کی تھی تاہم یہ ڈیل نہیں ہو پائی اور پی ٹی آئی رہنما جہانگیر ترین کے بیٹے علی ترین نے یہ ٹیم خرید لی تھی۔

 تو آخر یہ عقیل کریم ڈیڈھی ہیں کون؟

جب بھی پاکستان سٹاک مارکیٹ کا ذکر ہوتا ہے تو عقیل کریم ڈھیڈی عرف اے کے ڈی کا نام ضرور آتا ہے۔ اس ہی اثر و رسوخ کی وجہ سے کچھ لوگ انہیں 'بگ ڈھیڈی' بھی کہتے ہیں۔ ایک وقت تھا جب کراچی کے کچھ نوجوان بزنس مین سٹاک مارکیٹ کی اوپننگ بیل پر 'ریڈی، سٹیڈی، ڈیڈھی' کا نعرہ لگا کر کاروباری معاملات کا آغاز کرتے تھے۔

پاکستان کے بڑے بزنس گروپس میں سے ایک 'اے کے ڈی گروپ' کے مالک عقیل کریم ڈیڈھی کی پیدائش کراچی میں 18 جولائی 1957 کو ہوئی۔ ان کے والد حاجی عبدالکریم ڈیڈھی ایک نمایاں کاروباری شخصیت تھے۔ عقیل ڈیڈھی کے مطابق ان کے والد نے ریئیل اسٹیٹ بزنس اور ایکویٹی مارکیٹ کا کاروبار شروع کیا جسے انہوں نے آگے بڑھایا اور اے کے ڈی گروپ کی شکل دی۔

آج اے کے ڈی گروپ پانچ مختلف شعبوں کا مجموعہ ہے جس میں مالیاتی سروسز، ریئیل سٹیٹ، ٹیلی کام، انفراسٹرکچر اور قدرتی وسائل کے شعبوں میں انویسٹمنٹ کی جاتی ہے۔

 

اے کے ڈی گروپ پاکستان کی ریئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں بڑا گروپ مانا جاتا ہے۔ اس کی مثال کراچی کے ساحلی پٹی پر بنے لگژری اپارٹمنٹس کریک ویو اور کریک ٹیریسس ہیں جو کراچی گولف کلب کے قریب واقع ہیں۔ اس کے علاوہ یہ گروپ گوادر میں فری ٹریڈ زون کے قیام کے لیے سنگاپور پورٹ اتھارٹی (پی ایس اے) کے ساتھ پارٹنر بھی ہے۔

کاروباری سفر کا آغاز کیسے ہوا؟

عقیل کریم ڈیڈھی نے اپنے کاروباری سفر کا آغاز 13 سال کی عمر سے کیا تھا۔ کاروبار کی ابتدا انہوں نے اپنے بھائی کے ساتھ کی مگر کچھ وقت بعد خود سے روئی کے کاروبار کا آغاز کیا جب وہ ساتویں جماعت میں تھے۔

انہوں نے 1976 میں کراچی سٹاک ایکسچینج (کے ایس ای) میں تجارت شروع کی اور 27 سال کی عمر میں انہوں نے کراچی سٹاک ایکسچینج میں اپنا دفتر بنا لیا۔

عقیل ڈیڈھی کے مطابق وہ روزانہ سکول کے بعد اپنے والد کے آفس جایا کرتے تھے۔ وہاں انہیں یہ احساس ہوا کہ بزنس کرنا تو سکول کی پڑھائی سے زیادہ آسان ہے اس لیے کاروبار میں ان کی دلچسپی بڑھ گئی اور انہوں نے اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ دی مگر ان کے مطابق یہ غلط ہے اور نوجوانوں کو ایسا نہیں کرنا چاہیے۔

2001-1996 کے دوران عقیل ڈیڈھی کا شمار کراچی سٹاک مارکیٹ کی اہم شخصیات میں ہوتا تھا۔ ایکیویٹی مارکیٹ میں ایک لمبے سفر کے بعد انہوں نے 2013 میں کراچی سٹاک ایکسچینج کی نئی عمارت کا سنگ بنیاد بھی رکھا تھا۔

ڈیڈھی کو اکتوبر 2005 میں پاکستان کے شمالی علاقوں میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے دوران خدمات انجام دینے پر اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے 'ستارہ امتیاز' سے نوازا گیا تھا۔ اس کے علاوہ انہیں بزنس انسٹیٹیوٹ آف ہائیر ایجوکیشن (بزٹیک) اور انڈس انسٹی ٹیوٹ آف ہائیر ایجوکیشن کی جانب سے اعزازی پی ایچ ڈی سے بھی نوازا گیا ہے۔

عقیل ڈیڈھی اور ان کی چار بیٹیاں

اے کے ڈی گروپ کے چیئرمین عقیل ڈیڈھی کی چار بیٹیاں ہیں جن کے حوالے سے انہوں نے ہمیں بتایا کہ جب سے ان کی بیٹیوں نے ان کا کاروبار سنبھالا ہے ان کی کمپنیوں نے کئی گنا ترقی کی ہے۔

ان کی سب سے بڑی بیٹی حنا ڈیڈھی اے کے ڈی گروپ میں ایکویٹی اور انویسٹمنٹ بینکنگ کے شعبے کو سنبھالتی ہیں، ان کی دوسری بیٹی عائشہ ڈیڈھی تعمیراتی کاروبار کو دیکھتی ہیں، جبکہ تیسری بیٹی انعم ڈیڈھی کمپنی کے اسیٹس مینیجمنٹ کو دیکھتی ہیں اور سب سے چھوٹی بیٹی افشین ڈیڈھی کمپنی کے تمام نئے کاروبار اور پراجیکٹس کو مینیج کرتی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عقیل ڈیڈھی کے مطابق وہ اپنی بیٹیوں کو چار یا چھ گھنٹوں سے زیادہ آفس میں کام کرنے نہیں دیتے کیونکہ انہیں اپنے گھر کے معاملات بھی دیکھنے ہوتے ہیں۔ عقیل ڈیڈھی کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹیوں نے ان کی سوچ سے کئی گنا زیادہ بہتر کام کیا ہے اور انہیں فخر ہے کہ وہ چار بیٹیوں کے باپ ہیں۔

میگا کرپشن کیس

2012 میں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے سابق چیئرمین کے خلاف بدعنوانی کی کارروائی سے متعلق اسلام آباد کی احتساب عدالت کے ایک کیس میں عقیل کریم ڈیڈھی کے گرفتاری کے وارنٹ جاری ہوئے تھے۔ ان پر 82 ارب روپے کے میگا کرپشن کرنے کے الزام تھا اور یہ بھی کہ انہوں نے سوئی سدرن گیس کمپنی میں ہونے والی کرپشن میں ایک بڑے نجی شئیر ہولڈر کی حیثیت سے کافی فائدہ اٹھایا تھا۔ تاہم سندھ ہائی کورٹ کی جانب اس وقت عقیل ڈیڈھی کی عبوری گرفتاری ضمانت منظور کرلی گئی تھی۔

2014 میں اس ہی کیس میں نیب نے عقیل کریم ڈیڈھی اور دیگر شریک ملزمان کے خلاف احتساب عدالت میں ضمنی ریفرنس بھی دائر کیا تھا جس کے بعد ان کا نام وزارت داخلہ کی جانب سے ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں بھی ڈال دیا گیا تھا۔

تاہم اس وقت سندھ ہائی کورٹ میں اس کیس کے سماعت کے دوران عقیل ڈیڈھی کے وکیل مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ  ڈیڈھی کا اوگرا سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی وہ کبھی اوگرا یا ایس ایس جی سی میں فیصلہ سازی کے عہدے پر رہے ہیں۔ جبکہ اے کے ڈی کا کہنا تھا کہ 2005 میں انہوں نے اوپن مارکیٹ سے سوئی سدرن گیس کے شئیرز خریدے تھے مگر اس کے نتیجے میں انہیں ہیں چار ارب روپے کا نقصان ہوا گیا تھا۔

اسی کیس میں اسلام آباد کی احتساب عدالت نے  22 فروری 2019 کو عقیل کریم ڈیڈھی کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے تھے۔ تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ اس واقعہ کے ایک ماہ بعد 23 مارچ کو یوم پاکستان کے موقع پرعقیل کریم ڈیڈھی کو ایوان صدر میں ستارہ امتیاز سے نوازا گیا تھا۔   

ڈیڈھی کا میڈیا میں اثرورسوخ

2016 میں جہانگیر صدیقی گروپ کی جانب سے عقیل کریم ڈیڈھی کے خالف کراچی کی ایک مقامی عدالت میں فوجداری شکایت دائر کی گئی تھی جس کے بعد پی پی سی کی دفعہ دفع 499 اور 500 کے تحت ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
جہانگیر صدیقی گروپ کے مالک کا ڈیڈھی پر الزام تھا کہ 11 جنوری 2016 کو نجی چینل 'دن نیوز 'کے پروگرام 'پی جے میر کے ساتھ سوال و جواب' کو ان کی کمپنی اور اس کے سپانسرز کی ساخت کو بدنام کرنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا اور عقیل کریم ڈیڈھی نے اپنے ذاتی مفادات کے لیے انہیں بدنام کیا تھا۔ تاہم اس شکایت کے بعد ڈیڈھی کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے گئے تھے۔

بزنس بیٹ کے ایک سینئیر رپورٹر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: 'عقیل کریم ڈیڈھی کا میڈیا چینلز پر کافی اثر و رسوخ ہے، خاص طور سے 'دنیا نیوز' پر پرائم ٹائم شو کرنے والے ایک انتہائی سینئیر اینکر سے ان کی کافی اچھی دوستی، جبکہ بعض حلقوں میں اس اینکر کو ان کا 'خاص آدمی' بھی کہا جاتا ہے۔'

رپورٹر کا کہنا تھا: 'اس طرح کے اثر رسوخ کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ سٹاک مارکیٹ یا مختلف بڑے بزنس گروپس کی خبروں کو جب توڑ مروڑ کے پیش کیا جاتا ہے تو ان گروپس کے مالکان کو اتنا نقصان نہیں ہوتا بلکہ چھوٹے بروکرز یا عام لوگوں کو ہوتا ہے۔ مثال کے طور اگر انہوں نے ایک کمپنی کے پچاس ہزار کے شئیرز خریدے ہوئے ہوں اور اگر میڈیا پر اس کمپنی کی کوئی خبر لیک ہو جائے تو ایک روپیہ بھی اوپر نیچے ہونے سے ان کی ساری انویسٹمنٹ واش آؤٹ ہوجاتی ہے۔ میڈیا کا یہ کھیل عقیل کریم ڈیڈھی کے لیے بہت آسان ہے۔'

سٹاک مارکیٹ کے 'بِگ ڈیڈھی'

2016 میں جب یہ فیصلہ ہوا کہ کراچی، لاہور اور اسلام آباد سٹاک ایکسچینج کو ضم کرکے پاکستان سٹاک ایکسچینج کی بنیاد رکھی جائے گی تو اس حوالے سے عقیل کریم ڈیڈھی کا کہنا تھا کہ اس قدم سے نہ صرف ان کے اباواجداد کی محنت بلکہ مختلف کاروباری افراد کو  بھی کافی نقصان ہوا جس کی آج تک تلافی نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق پاکستان سٹاک ایکسچینج ابھی تک وہ منزل نہیں حاصل کر پایا جو کراچی سٹاک ایکسچینج نے کی تھی۔

پاکستان سٹاک ایکسچینج میں عقیل ڈیڈھی کو ایک بڑا نام تصور کیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے سٹاک ایکسچینج میں انویسٹر کے طور پر کام کرنے والے ولید حسن نے ہمیں بتایا کہ عقیل کریم ڈیڈھی کا مارکیٹ میں اس قدر اثر و رسوخ ہے کہ اگر مثال کے طور پر یہ بات معلوم ہوجائے کہ وہ کوئی چیز خرید رہے ہیں، تو بیچنے والے بھی اسے فوراً خریدنا شروع کردیتے ہیں۔ یہاں تک اگر کسی چیز کی قدر و قیمت گر جائے لیکن عقیل ڈیڈھی اس پر اپنا ہاتھ رکھ دیں تو مارکیٹ میں نہ صرف اس کی قدر بے انتہا بڑھ جاتی ہے بلکہ وہ چیز مارکیٹ سے ناپید ہوجاتی ہے۔'

انویسٹر ولید ٹھاکر کے مطابق عقیل ڈیڈھی کے کئی ملکی اور غیر ملکی سیاسی، سماجی، میڈیا اور کاروباری شخصیات سے تعلقات ہیں البتہ سٹاک مارکیٹ میں کچھ گروپس ہیں جن کے ساتھ ان کا کافی سخت مقابلہ ہے جن میں جہانگیر صدیقی گروپ اور عارف حبیب گروپ شامل ہے۔'

انہوں نے کہا: 'البتہ چار سے پانچ ایسے بڑے گروپس ہیں جو سٹاک ایکسچینج میں راج کرتے ہیں، ان میں اے کے ڈی گروپ بھی شامل ہے۔'

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان