وہ حضرات جن پر ہم لٹو ہوئے

فیس بک پر چند حضرات کی تصویریں ہمارے دل کو چھو گئیں، لیکن جب پردہ اٹھا تو اندر سے کچھ ’پردہ نشیں‘ نکل آئے۔

(پکسا بے)

اگر آپ کے پاس وقت ہو تو نیٹ فلکس پر موجود ایک فلم ’ٹو آل دا بوائز آئی ہیو لَوڈ بی فور‘ (ان تمام لڑکوں کے نام جن سے میں نے محبت کی) ضرور دیکھیں۔

یہ فلم ایک ایسی لڑکی کے بارے میں ہے جو اپنی نوجوانی میں کئی لڑکوں کی محبت میں گرفتار ہوئی لیکن کبھی ان سے اظہارِ محبت نہ کر سکی۔ اس نے ہر لڑکے کے نام ایک خط لکھا اور پھر اس خط کو اپنے ہی پاس محفوظ کر لیا۔ ایک دن وہ تمام خطوط اس کی بہن کے ہاتھ لگ گئے اور اس نے انہیں پوسٹ کر دیا۔ اپنی بہن کی اس حرکت کا اس لڑکی کو تب علم ہوا جب ایک لڑکا اس کا خط لے کر اس سے ملنے آ پہنچا۔ بقیہ کہانی جاننے کے لیے فلم دیکھیں۔ اس فلم کا دوسرا حصہ فروری 2020 میں ’ٹو آل دا بوائز آئی سٹل لَو‘ (ان تمام لڑکوں کے نام جن سے میں اب بھی محبت کرتی ہوں) کے نام سے ریلیز ہوا جبکہ تیسرا حصہ عنقریب آنے والا ہے۔

اب جانے یہ فلم کا اثر تھا یا لاک ڈاؤن کا، ہم بھی کچھ مردوں پر لٹو ہو ہی گئے۔ مغرب میں اسے محبت کرنا کہتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں لٹو ہونا۔ تو قصہ کچھ یوں ہے کہ کچھ روز سے ہماری فیس بک پر ہر طرف خوب صورت مردوں کی تصاویر چھائی ہوئیں تھیں۔ ہم فیس بک کھولتے تو سامنے ایک خوبصورت سا مرد موجود ہوتا۔

اب ہم ٹھہرے مشرقی، کچھ دن تو تصویریں دیکھ کر ہی شرماتے رہے پھر سوچا شرمانے سے کیا ہو گا، معاملہ آگے بڑھانا چاہیے۔ ویسے بھی کوئی سیانا کہہ گیا ہے، ’جس نے کی شرم، اس کے پھوٹے کرم۔‘ سب سے پہلے تو یہ جاننا تھا کہ اتنے حسین مرد ہماری فیس بک پر آئے کہاں سے۔ ایک تصویر پر کلک کیا تو ہماری ہی ایک دوست کی آئی ڈی کھل گئی۔ تصویر کا کیپشن پڑھا تو پتہ چلا کہ ایک ہفتے سے ہمارا دل جن مردوں پر لٹو ہو رہا تھا وہ ہماری ہی کچھ دوستوں کے مردانہ روپ تھے۔ کم بختیں کسی ایپ کی مدد سے اپنی تصویروں کے مردانہ ورژن بنا بنا کر فیس بک پر اپلوڈ کر رہی تھیں۔ وہ ہماری دوستیں نہ ہوتیں تو ہم ان کے خلاف دھوکہ دہی کا پرچہ ضرور کٹواتے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دھوکہ تو ہم کھا ہی چکے تھے، اب سوچا ہم بھی کسی کو دھوکہ دے دیں۔ ایک دوست کی مدد سے ہم نے بھی اپنی ایک تصویر کو مردانہ تصویر میں تبدیل کر لیا۔ یہ تصویر کچھ عرصہ پہلے تک فیس بک پر ہماری پروفائل فوٹو تھی۔ اپنی تصاویر انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کرنے سے پہلے ہم ان کا پورا پوسٹ مارٹم کرتے ہیں۔

ایک تو ہم عورت اوپر سے پیدا بھی اس معاشرے میں ہوئے جہاں عورت کھل کر سانس لے لے تو فاحشہ کہلاتی ہے۔ گھر سے باہر نکلتی ہے تو کئی نظریں اس کے جسم پر اٹک جاتی ہیں، وہ گھبراہٹ کے مارے کبھی قمیض برابر کرتی ہے تو کبھی چادر، ہھر بھی وہ نظریں اس کا پیچھا نہیں چھوڑتیں۔

انٹرنیٹ پر بھی ایسے ہی حالات ہیں۔ جیسی مرضی تصویر اپ لوڈ کر دو، ان باکس میں غلاظت ہی دیکھنے کو ملے گی۔ شاید اسی لیے ہم اپنی تصاویر اپلوڈ کرتے ہوئے ان کا باریکی سے جائزہ لیتے ہیں۔ پوری تسلی ہونے کے بعد ہی ہم تصویر اپ لوڈ کرتے ہیں۔ اس تصویر کو بھی نیٹ پر چڑھانے کرنے سے پہلے ہم نے کئی بار دیکھا تھا۔ اس میں ہم نے بغیر آستین کی قمیض پہنی ہوئی تھی۔ ہم نے سن رکھا ہے کہ خواتین کے ایسے لباس پہننے کی وجہ سے ملک میں سیلاب اور زلزلے آتے ہیں۔ جو لوگ ہمیں جانتے ہیں وہ ہمارے محبِ وطن ہونے کی گواہی دے سکتے ہیں۔ ہم اپنا نقصان کروا لیں گے لیکن ملک کا مقصان نہیں ہونے دیں گے۔

اس تصویر میں بے شک ہمارے بازو ننگے تھے پر ہم خوبصورت لگ رہے تھے۔ آپ ہمارا شمار ہرگز ان لوگوں میں نہ کریں جن کی ہر تصویر اچھی آ جاتی ہے۔ ہمارے ساتھ ایسا حادثہ سال میں ایک آدھ بار ہی ہوتا ہے۔ وہ تصویر بھی بس ایک حادثہ تھی۔ ملک کی سلامتی کی خاطر تصویر کچھ یوں کروپ کی کہ ہمارے ننگے بازو چھپ گئے۔ وہ تصویر کئی ہفتوں تک ہماری پروفائل فوٹو رہی، پھر ایک نیا حادثہ رونما ہو گیا تو اس فوٹو کو تبدیل کر دیا۔

ہماری دوست نے جب اسی تصویر سے ہمارا مردانہ ورژن بنایا تو ہم حیران رہ گئے۔ ہمارے چہرے پر ہلکی ہلکی داڑھی اور مونچھیں اگ آئی تھیں۔ تھوڑی سی شباہت ہمارے بھائی کی بھی آ رہی تھی۔ فوراً تصویر فیس بک پر اپ لوڈ کر دی لیکن اس بار ہمیں اپنی تصویر اپ لوڈ کرنے سے پہلے کچھ سوچنا نہیں پڑا۔ ہمارے ننگے بازو اب ننگے نہیں لگ رہے تھے۔ کچھ لوگ ہمارے ننگے سر پر بھی اعتراض کرتے ہیں پر اس تصویر میں وہ بھی برا نہیں لگ رہا تھا۔ تب ہمیں احساس ہوا کہ اس معاشرے میں مرد ہونا کتنی بڑی نعمت ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ