نگار جوہر: پاکستان فوج کی پہلی خاتون لیفٹیننٹ جنرل

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق خاتون میجر جنرل نگار جوہر کو لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دے دی گئی ہے۔

فروری 2017 میں انہیں میجر جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی تھی (ہلال فار ہر میگزین)

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق خاتون میجر جنرل نگار جوہر کو لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دے دی گئی ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق نگار جوہر پہلی خاتون افسر ہیں جنہیں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر فائز کیا گیا ہے۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی سے تعلق رکھنے والی نگار جوہر پاکستان فوج کی پہلی خاتون سرجن جنرل ہیں۔

اس وقت نگار جوہر راولپنڈی کے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال (سی ایم ایچ) میں تعینات ہیں اور فرائض سرانجام دے رہی ہیں۔

نگار جوہر کو اس سے قبل ان کی خدمات پر  فوجی اعزاز تمغہ امتیاز سے بھی نوازا جا چکا ہے۔ میجر جنرل نگار جوہر خان پاکستان آرمی میں میجر جنرل کے عہدے پر پہنچنے والی تیسری خاتون تھیں۔

ان کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی کے علاقے پنج پیر سے ہے۔ انہوں نے اپنی تعلیم راولپنڈی کے پریزینٹیشن کانونٹ گرلز ہائی سکول سے کی اور 1985 میں آرمی میڈیکل کالج سے گریجیویشن کی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

2010 میں انہوں نے کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز کا امتحان پاس کر کے اس کی رکنیت حاصل کی۔

انہیں یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ وہ پہلی خاتون ہیں جنہیں آرمی کے ہسپتال یا یونٹ کی ذمہ داری سونپی گئی ہو۔

فروری 2017 میں انہیں میجر جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی تھی۔

میجر جنرل نگار جوہر کے والد بھی فوج میں تھے اور آئی ایس پی آر کے ایک میگزین ’ہلال فار ہر‘ کو انٹرویو میں انہوں نے بتایا تھا کہ وہ انہی کو دیکھ کر پاکستان فوج میں بھرتی ہوئی تھیں۔

فوج میں شمولیت کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ وہ ہمیشہ سے ہی آرمی ڈاکٹر بننا چاہتی تھیں۔ ’میرا خواب اس وقت پورا ہوا جب مجھے دسمبر 1985 میں کیپٹین ڈاکٹر کے طور پر کمیشن کیا گیا۔‘

پاکستانی خواتین کے لیے اپنے پیغام میں وہ کہتی ہیں کہ ’تعلیم حاصل کریں اور پیچھے چھوڑ دیے جانے سے بچیں۔ اپنے مقصد اور خواب کے لیے کام کریں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین