’ویڈیو فوٹیج بروقت سامنے آنے سے مطیع اللہ جان کی جلد بازیابی ممکن ہوئی‘

سینیئر صحافی کی اہلیہ کو اپنے خاوند کے اٹھائے جانے کا علم اپنے سکول کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج دیکھ کر ہوا۔ یہ ویڈیوز اور اطلاع عام ہونے کے بعد ان کی بازیابی کے لیے سوشل میڈیا پر ٹرینڈ چلے۔

مطیع اللہ جان کی اہلیہ کنیز صغریٰ  ان کے اغوا کے دن ان کی تصویر اپنے فون پر دیکھاتے ہوئے (اے ایف پی)

منگل کو اسلام آباد سے لاپتہ ہونے والے صحافی مطیع اللہ جان کی چند گھنٹوں میں بازیابی انہیں اٹھائے جانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج کے منظر عام پر آنے اور سوشل میڈیا پر عوامی ردعمل کی مرہون منت قرار دی جا رہی ہے۔ 

ماہرین کا خیال ہے کہ حالیہ چند سالوں کے دوران معاشرے میں کیمروں کی بہتات نے پاکستان میں پولیسنگ کا انداز بدل کر رکھ دیا ہے۔

پاکستان میں صحافیوں اور میڈیا کارکنان کے حقوق سے متعلق سرگرم ادارہ فریڈم نیٹ ورک کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر اقبال خٹک کا اس حوالے سے کہنا تھا: 'مطیع اللہ جان کو اٹھائے جانے کی ویڈیو کا فوراً سامنے آنا اور سول سوسائٹی کا شدید ردعمل، ان دو چیزوں نے ان کی فوراً بازیابی کو ممکن بنایا۔'

یاد رہے کہ مطیع اللہ جان کو منگل کی صبح تقریباً 11 بجے کے قریب نامعلوم افراد اسلام آباد کے سیکٹر جی سکس تھری میں ایک سرکاری سکول کی عمارت کے باہر سے زبردستی اپنے ساتھ لے گئے تھے۔

سینیئر صحافی کی اہلیہ جو اسی سکول میں ملازمت کرتی ہیں کو اپنے شوہر کے اغوا کا علم سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج دیکھ کر ہوا۔ جس کی اطلاع انہوں نے نہ صرف پولیس بلکہ مطیع اللہ کے صحافی دوستوں کو بھی دی۔

مطیع اللہ جان کی اہلیہ کنیز صغریٰ نے سکول کی عمارت کے باہر لگے چھ سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج بھی پولیس کے حوالے کی۔ کم از کم دو کیمروں میں مطیع اللہ جان کو اٹھائے جانے کے مناظر قید ملے۔

مطیع اللہ جان کے صحافی دوستوں نے وقت ضائع کیے بغیر ان کے لاپتہ ہونے کی اطلاع اور سی سی ٹی وی کیمروں کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کر دیں جو جنگل کی آگ کی طرح ملکی اور غیر ملکی ٹوئٹر ہینڈلز اور فیس بک اکاؤنٹس کے ذریعے پھیلنے لگیں۔

اور پھر ہر طرف مطیع اللہ جان کو اٹھائے جانے کی مذمت اور ان کی فوراً بازیابی کا مطالبہ سنائی دیا جانے لگا۔ ٹوئٹر پر مطیع اللہ جان کی بازیابی یا رہائی سے متعلق ایک ٹرینڈ بھی بہت عام ہوا۔

مطیع اللہ جان کو اٹھائے جانے کے تقریباً دس گھنٹوں بعد انہیں فتح جنگ کے علاقے میں آزاد کر دیا گیا تھا۔

سندھ پولیس کے سابق سربراہ افضل شِگری کے خیال میں جرم کی ویڈیو سامنے آنے پر مجرم شدید قسم کے دباؤ میں آجاتا ہے۔

اسلام آباد کے ایک صحافی جنہیں مطیع اللہ جان ہی کی طرح کچھ عرصہ قبل اٹھایا گیا تھا نے کہا کہ بیگم مطیع اللہ جان کو سی سی ٹی وی فوٹیج سے معلوم ہوا کہ انہیں اٹھا لیا گیا ہے اور انہوں نے سب کو اطلاع دی۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: 'مطیع کو اٹھانے والے شاید اتنے بڑے ردعمل کی توقع نہیں کر رہے تھے اور اس ردعمل کو بڑھانے میں بروقت اطلاع اور سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج نے عمل انگیز (کیٹالسٹ) کا کردار ادا کیا۔'

اپنا اٹھایا جانا یاد کرتے ہوئے صحافی کا کہنا تھا: 'میری بیگم کو کافی دیر بعد اندازہ ہوا تھا کہ میں غائب ہوں۔ دیری کی وجہ یہ تھی کہ میرے اٹھائے جانے کی کوئی سی سی ٹی وی فوٹیج نہیں تھی۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سندھ پولیس کے سابق سربراہ افضل شِگری کا کہنا تھا: 'ہمارے معاشرہ میں اب ہر شخص کے ہاتھ میں کیمرہ ہے۔ اور سی سی ٹی وی کیمرے بھی موجود ہیں۔ کیمرے نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کام کی نوعیت تبدیل کر کے رکھ دی ہے۔'

انہوں نے مزید کہا کہ جرم کے مقام پر سی سی ٹی وی کمیروں کی موجودگی اس کے ارتکاب کو روکنے یا مجرموں تک پہنچنے میں بہت زیادہ مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

اسلام آباد کے صحافی نے کہا کہ 'مطیع اللہ جان کو اٹھائے جانے کی فوٹیج کو زوم کر کے آسانی سے وہاں موجود لوگوں کے چہروں کو دیکھا اور انہیں پہچانا جا سکتا تھا اور شاید یہی وجہ ہے کہ مطیع اللہ کو اٹھانے والوں نے انہیں فوراً آزاد کر دیا۔ مجھے انہوں نے اسی طرح صبح اٹھایا تھا اور رات دو بجے میں واپس گھر پہنچا تھا۔'

سی سی ٹی وی کیمرے ہوں تو سہی

فریڈم نیٹ ورک کی اس سال مئی میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پاکستان میں صحافیوں کے لیے سب سے خطرناک کام کرنے والی جگہ بن کر سامنے آیا۔ جہاں اپریل 2019 سے اپریل 2020 کے دوران صحافیوں پر تشدد کے اکتیس واقعات ریکارڈ کیے گئے۔

صحافیوں کے علاوہ عام شہریوں کے خلاف بھی جرائم میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اور ایسی صورت حال میں اسلام آباد میں سی سی ٹی وی کیمروں کی موجودگی مختلف قسم کے جرائم کی روک تھام میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

وفاقی دارالحکومت میں سیف سٹی پراجیکٹ کے تحت نصب تقریباً دو ہزار سی سی ٹی وی کیمروں میں سے سینکڑوں خراب بتائے جاتے ہیں۔

اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: 'سی سی ٹی وی کیمرے صرف لگانے نہیں ہوتے۔ انہیں مانیٹر بھی کرنا پڑتا ہے اور ان کی مینٹیننس بھی ایک مشکل کام ہے۔'

انہوں نے کہا کہ وسائل کی کمی کے باعث یا بعض اوقات انسانی غلطی کے باعث یہ سی سی ٹی وی کیمرے خراب پڑے رہتے ہیں۔

ماضی میں وفاقی دارالحکومت میں کئی ایسے جرائم ہو چکے ہیں جن کی سی سی ٹی وی فوٹیج نہ ہونے کے باعث مجرموں تک پہنچنا ممکن نہ ہو سکا۔

خیبر پختونخوا پولیس کے سینیئر آفیسر طاہر داوڑ کو اکتوبر 2018 میں اسلام آباد سے اغوا کیا گیا۔ ایک ماہ بعد ان کی لاش ہمسایہ ملک افغانستان کے صوبہ ننگر ہار میں ملی۔

طاہر داوڑ کے لاپتہ ہونے کے کئی روز تک ان کے اغوا کی تصدیق نہیں ہو پارہی تھی۔ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ اسلام آباد کے جس سیکٹر سے انہیں اٹھایا گیا تھا وہاں سی سی ٹی وی کیمرے کام نہیں کر رہے تھے۔

وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے پاکستانی پارلیمان کے ایوان بالا کو بتایا تھا کہ طاہر داوڑ کو جن راستوں سے لے جایا گیا وہاں لگے سی سی ٹی وی کیمرے کوئی فوٹیج نہ بنا سکے۔

اسی طرح اکتوبر 2017 میں 'دی نیوز' اخبار کے صحافی احمد نورانی پر اسلام آباد کے مصروف علاقے زیرو پوائنٹ میں نامعلوم افراد نے چھریوں سے حملہ کیا۔ اس واقعہ میں احمد نورانی اور ان کے ڈرائیور کو زخمی ہوئے۔ 

جس مقام پر احمد نورانی پر حملہ ہوا وہاں بھی سی سی ٹی وی کیمرے بند پڑے تھے۔ جس کے بعد ان پر حملہ کرنے والے چھ موٹر سائیکل سواروں میں سے کسی کی بھی شناخت نہیں ہو پائی تھی۔

سابق پولیس افسر احمد چنائے کے خیال میں پاکستان میں ہر جگہ سی سی ٹی وی کیمرے ہونا چاہیے ہیں۔ کیونکہ اس سے جرائم میں کمی واقع ہو گی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ سی سی ٹی وی یا کسی بھی دوسرے کیمرے سے حاصل ہونے والی فوٹیج کے استعمال میں بہت زیادہ احتیاط برتنا چاہیے۔

فریڈم نیٹورک کے اقبال خٹک کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں نصب سی سی ٹی وی کیمرے عوام کے تحفظ کے بجائے ان کی نگرانی کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بہت کم واقعات میں پولیس سی سی ٹی وی کیمروں سے حاصل ہونے والی ویڈیوز مجرموں کا سراغ لگانے کے لیے استعمال کر سکی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان