اغوا کیے جانے والے صحافی مطیع اللہ جان واپس گھر پہنچ گئے

دارالحکومت اسلام آباد سے منگل کی صبح اغوا کیے جانے والے سینیئر صحافی مطیع اللہ جان واپس اپنے گھر پہنچ گئے ہیں۔

دارالحکومت اسلام آباد سے منگل کی صبح اغوا کیے جانے والے سینیئر صحافی مطیع اللہ جان واپس اپنے گھر پہنچ گئے ہیں۔

مطیع اللہ جان کو سیکٹر جی سکس سے اس وقت چار پانچ نامعلوم افراد نے ’اغوا‘ کر لیا تھا جب وہ اپنی اہلیہ کو ان کے سکول چھوڑنے آئے تھے۔

تاہم اب ان کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ مطیع اللہ جان کو اغوا کاروں نے فتح جنگ کے قریب چھوڑ دیا تھا جہاں سے وہ اپنے بھائی کے ہمراہ گھر واپس آئے۔

اس حوالے سے وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’مطیع اللہ کو آزاد دیکھ کر خوشی ہوئی ہے۔ اس طرح کے اقدامات ہمارے آئین اور انسانی حقوق کنوینشن کے تحت بین الاقوامی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی ہے۔‘

انہوں نے مزید لکھا کہ ’شہری اس طرح سے مسلسل خوف میں نہیں جی سکتے اور جمہوریت میں قانونی راستہ سب کا حق ہے۔‘

ان کے علاوہ صحافی اعزاز سید نے مطیع اللہ جان کے ہمراہ ایک تصویر بھی پوسٹ کی اور ساتھ میں لکھا: اپنے دوست سے مل کر خوشی ہوئی۔ انہیں 12 گھنٹے بعد چھوڑا گیا ہے۔‘

اس سے قبل مطیع اللہ جان کی اہلیہ کنیز صغریٰ نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی تھی کہ منگل کی صبح مطیع اللہ جان انہیں سیکٹر جی سکس ون میں سکول چھوڑنے آئے تھے تاہم اس کے بعد سے ان کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہو سکا ہے۔

جبکہ ‏اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس اطہر من اللہ نے صحافی مطیع اللہ جان کو بازیاب کرانے کا حکم دیتے ہوئے متعلقہ حکام سے کہا تھا کہ اگر انہیں بازیاب نہیں کرایا جا سکا تو فریقین بدھ کو ذاتی حیثیت میں پیش ہوں۔

ہوا کیا تھا؟

ایک سی سی ٹی وی فوٹیج منظرعام پر آئی تھی جس میں دیکھا جا سکتا تھا کہ تین سے چار گاڑیاں اچانک سے آتی ہیں جن میں ایک ویگو بھی ہے جو بظاہر پولیس کی گاڑی دکھائی دے رہی ہے۔

ان گاڑیوں میں سے چند افراد نکلتے ہیں جن میں سے کچھ سادہ لباس میں تھے جبکہ چند نے انسداد دہشت گردی کے محکمہ (سی ٹی ڈی) کی سیاہ وردی پہن رکھی ہے۔

تاہم پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بظاہر ان افراد نے سی ٹی ڈی کی وردی تو پہن رکھی ہے مگر فی الحال ان کی شناخت نہیں کی جا سکتی کہ وہ کون ہیں۔

یہ نامعلوم افراد مطیع اللہ جان کو زبردستی گاڑی سے اتار کر اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ ویڈیو فٹج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ اغوا کاروں کی مطیع اللہ جان کے موبائل میں بھی دلچسپی تھی اور انہوں نے اسے یقینی بنایا کہ وہ فون ساتھ لے کر جائیں۔

دوسری جانب سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے ایک بیان میں مطیع اللہ جان کی گمشدگی کے معاملے کو بدھ کو ہونے والے اجلاس میں ’اغوا/ گمشدگی‘ قرار دیتے ہوئے شامل کیا تھا اور آئی جی اسلام آباد کو کمیٹی کو بریف کرنے کے لیے کہا تھا۔

اسی طرح سابق حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اس واقعے کی مذمت کی تھی۔

مطیع اللہ جان اکثر حکومت اور اس کے اداروں کو اپنی کڑی تنقید کا نشانہ بناتے رہتے تھے۔

پاکستان میں خفیہ اداروں پر الزام ہے کہ وہ اسی قسم کی کارروائیوں میں ’ناپسندیدہ‘ افراد کو اٹھاتی ہیں۔ تاہم ان کی جانب سے بھی کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

مطیع اللہ جان کی اہلیہ نے کیا بتایا

صحافی حسن کاظمی سے بات کرتے ہوئے مطیع اللہ جان کی اہلیہ کنیز صغریٰ نے سارے واقعے کے بارے میں بتایا کہ ’آج صبح دس بجے مطیع اللہ جان نے مجھے اسلام آباد ماڈل سکول کے باہر اتارا جہاں میں پڑھاتی ہوں۔‘

مطیع اللہ جان کی اہلیہ کے مطابق انہیں ان کے شوہر نے تقریباً ساڑھے بارہ بجے واپس لینا تھا۔  ’تاہم وہ نہیں آئے اور وہ سکول میں ان کا انتظار کرتی رہیں۔‘

’دریں اثنا سکول کے چوکیدار نے کہا کہ آپ کی گاڑی تو باہر کھڑی ہے لیکن مجھے یقین نہیں آیا کیونکہ اگر وہ باہر ہوتے تو مجھے فون ضرور کرتے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’جب بارش تیز ہوگئی اور کافی دیر ہوگئی تو میں نے باہر جاکر دیکھا، گاڑی سکول کے صدر دروازے سے کچھ آگے کھڑی تھی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کنیز صغریٰ نے مزید بتایا کہ ’جب میں آئی تو ان کی گاڑی کھڑی ہوئی تھی اور ان کا ایک موبائل فون سیٹ پر پڑا تھا، جبکہ چابی اگنیشن میں لگی ہوئی تھی، لیکن دوسرا موبائل فون غائب تھا۔‘

مطیع اللہ جان کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ تب سے اب تک ان کے بارے میں کچھ نہیں معلوم ہو سکا ہے۔

اس حوالے سے آبپارہ پولیس سٹیشن کے ڈیوٹی آفیسر اے ایس آئی نصر اللہ نے نامہ نگار عبداللہ جان کو بتایا ہے کہ مطیع اللہ کی اہلیہ کا بیان ریکارڈ کیا جا رہا ہے جبکہ پولیس افسران ان کی رہائش گاہ پر موجود ہیں۔

خیال رہے کہ مطیع اللہ جان کی بدھ کو سپریم کورٹ کے خصوصی بینچ کے سامنے توہین عدالت کیس میں پیشی ہے۔ بینچ کی سربراہی چیف جسٹس گلزار احمد کریں گے۔

سپریم کورٹ نے صحافی ⁦مطیع اللہ جان⁩ کی اعلیٰ عدلیہ سے متعلق ٹویٹ کا نوٹس لیا تھا۔ مذکورہ ٹویٹ میں مطیع اللہ جان نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کے حوالے سے بینچ میں موجود ججز پر تنقید کی تھی۔

ادھر ایمنسٹی انٹرنیشنل ساؤتھ ایشیا نے ٹوئٹر پر مطیع اللہ جان کے ’لاپتہ‘ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکام سے مطالبہ کیا تھا کہ ان کے حوالے سے فوری طور پر آگاہ کیا جائے۔

اس کے حوالے سوشل میڈیا صحافی برادری اور کئی دیگر شخصیات بھی اس حوالے سے ردعمل کا اظہار کرتے رہے جبکہ بعض کی جانب سے مطیع اللہ جان کی گاڑی کی تصاویر بھی شیئر کی جا رہی تھیں۔

وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے ایک ٹوٹ میں کہا تھا کہ ’ابھی مطیع اللہ جان کے اغوا کے بارے میں معلوم ہوا ہے۔ آئی جی اسلام آباد سے بات ہوئی ہے جنہوں نے بتایا ہے کہ وہ اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں۔ یہ بہت پریشان کن ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان