عید سر پر آ گئی مگر بس اڈے خالی پڑے ہیں

عید اپنے آبائی علاقے میں خاندان کے ہمراہ منانا ایک روایت رہی ہے لیکن کرونا وبا نے اس روایت کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔

عید اپنے پیاروں کے ساتھ منانا  کس کی خواہش نہیں ہوتی لیکن کروناوبا نے وہ کچھ کر دکھایا ہے جو آج کے دور میں لوگ تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔

سرکاری حکام نے خبردار کیا تھا کہ اگر عوام نے احتیاط نہ کی تو عید الاضحیٰ کے موقعے پر ملک میں کرونا وائرس کے زیادہ کیسز سامنے آسکتے ہیں۔اس عید پر کم چھٹیوں اور وائرس پھیلنے کے خدشے کے پیش نظر لوگ دوسرے شہر نہیں جا رہے، جس کی تصدیق پبلک ٹرانسپورٹ کے اڈوں پر کم رش سے ہوتی ہے۔

اسلام آباد میں  بس سروس نیازی ایکسپریس کے سینیئر مینیجر مہر خلیل نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ لاہور اور اسلام آباد جانے والی بسیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ فیض آباد ٹرمینل پر سکائی ویز بس سروس کے مینیجر اصغر علی نے بھی اسی قسم کے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا  کہ عید سے پہلے بس اڈے پر جس طرح کا ہجوم ہوتا تھا، وہ اس مرتبہ بالکل بھی نہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید بتایا کہ وہ  وبا سے بچنے کے لیے تمام ایس او پیز پر عمل کر رہے ہیں۔ ’ ہم اپنے پاس سے مسافروں کو ماسک دیتے ہیں لیکن کچھ لوگ اب بھی کہتے ہیں کہ انہیں ماسک نہیں پہننا۔ عوام سے اپیل ہے کہ ہمارے ساتھ تعاون کریں۔‘

کرونا وبا کی وجہ سے پبلک ٹرانسپورٹ میں بطور بس ہوسٹس  کام کرنے والی خواتین ملازمین کے روزگار پر بھی اثر پڑا ہے۔ سکائی ویز کے مینیجر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ بس ہوسٹس کمیشن پر کام کرتی تھیں،چونکہ سروس تین ماہ بند تھی  لہٰذاانہیں کئی لوگوں کی ملازمت ختم کرنی پڑی۔

خیال رہے کہ پنجاب حکومت نے 28 جولائی سے صوبے میں لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا اعلان کیا ہےجبکہ گذشتہ جمعے وزیر اعظم عمران خان نے  ایک ٹویٹ میں قوم سے عید الاضحیٰ سادگی سے منانے کی اپیل کی تھی تاکہ عیدالفطر پر ایس او پیز پسِ پشت ڈالنے سے کرونا کیسز میں اضافے جیسی تشویش ناک صورتحال پیدا نہ ہو۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان