کوئٹہ: آن لائن کلاسز کے خلاف نوجوان کا ریپ گانا

پری میڈیکل کے طالب علم مدثر بلوچ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ساتھی طلبہ کو درپیش مشکلات کے بارے میں آگاہی پھیلانے میں مدد کرنا چاہتے تھے اور اس لیے ایک ریپ گانا بنایا۔

کرونا (کورونا) وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے حکومتی لاک ڈاؤن میں دیگر شعبوں کی طرح تعلیم بھی متاثر ہوئی۔ حکومت نے طلبہ کے لیے آن لائن کلاسز کے اجرا کا اعلان کیا تاہم ملک میں کئی طلبہ اس فیصلے کے خلاف سراپا احتجاج ہوئے کیونکہ ان کے علاقوں میں لودشیڈنگ اور انٹرنیٹ نہ ہونے کے مسائل کے باعث ان کے لیے آن لائن کلاسز لینا مشکل تھا۔

ان ہی طلبہ میں سے ایک ہیں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے مدثر بلوچ جنہوں نے اپنا احتجاج ایک گانے کے ذریعے کرنے کا فیصلہ کیا۔

مدثر یوں تو پری میڈیکل کی تعلیم حاصل کررہے ہیں لیکن وہ ایک ریپر بھی بن گئے ہیں۔

مدثر بتاتے ہیں: ’میں ایک دن میں آن لائن کلاسز کے حوالے سے احتجاج میں شامل تھا تو مجھے خیال آیا کیوں نہ اس پر ایک ریپ گانا بنایا جائے جس کے بعد میں نے اس پر کا شروع کردیا۔‘

بلوچستان میں ریپ گانے کا ٹرینڈ نیا ہے لیکن نوجوان اب اس میں زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں جس میں مدثر بھی شامل ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مدثر نے بتایا کہ جب انہوں اس بارے میں اپنے دوست ارسلان سے بات کی تو انہوں نے نہ صرف حوصلہ افزائی کی بلکہ اس میں ان کا ساتھ بھی دیا۔

مدثر کو بچپن سے ہی موسیقی سے لگاؤ ہے اور وہ اکثر گنگناتے رہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ریپ گانا بھی اسی وجہ سے ممکن ہوا۔

مدثر کے مطابق وہ بنیادی طور پر ایک آرٹسٹ ہیں اور موسیقی کا شوق بھی زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے اس ریپ گانے میں براہوی زبان کے الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے ۔

اس گانے کو بنانے میں ان کی مدد کرنے والے دوست ارسلان نے بتایا کہ دونوں نے مل کر یہ گانا بنایا تاکہ وہ اس ذریعے سے بھی احتجاج ریکارڈ کرسکیں۔

ارسلان کے مطابق بلوچستان میں اکثر طالبہ کو نیٹ کی بندش کے باعث مشکلات کا سامنا ہے اور احتجاج بھی کیا جاتا رہا ہے تو انہوں نے سوچا کہ یہ ایک موثر آواز ہوسکتی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی نئی نسل