سکھر: موٹر وے کے بعد کیا فرق پڑنے کا امکان ہے؟

 سکھر نہ صرف آٹھ اضلاع پر مشتمل شمالی سندھ کے لیے ایک اہم تجارتی مرکز ہے بلکہ اپنی جائے وقوع کے باعث یہ سندھ، پنجاب اور بلوچستان کو آپس میں جوڑنے والا مرکز بھی سمجھا جاتا ہے۔  

حالیہ مہینوں میں سندھ کے تیسرے بڑے شہر سکھر اور جنوبی پنجاب کے اہم شہر ملتان کو جوڑنے والا ایم فائیو موٹر وے عوام الناس کے لیے کھول دیا گیا ہے۔  

چھ لین پر مشتمل، 392 کلومیٹر طویل یہ موٹر وے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت 2.8 ارب ڈالر کی لاگت سے  گزشتہ سال مکمل کیا گیا۔  

سندھ اور پنجاب کے دو اہم ترین تجارتی مراکز کے درمیاں ماضی میں چھ سے  سات  گھنٹے کا سفر اس موٹر وے کی تکمیل کے بعد تین سے ساڑھے تین گھنٹے کا ہوگیا ہے۔  

میئر سکھر، بیرسٹر ارسلان شیخ نے انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس موٹروے کی تکمیل سے سکھر ریجن اور خاص طور پر سکھر شہر کی قسمت یکسر بدل جائے گی۔ 

  'سکھر شمالی سندھ کا معاشی اور ثقافتی مرکز ہے جو آبدی کے لحاظ سے سندھ کا تیسرا مگر معاشی لحاظ سے کراچی کے بعد صوبے کا تیسرا اہم تجارتی مرکز ہے۔ جہاں ایک ڈرائی پورٹ بنانے کی منظوری دی گئی تھی مگر اس دور میں تجارت اس سطح کی نہیں تھی کہ ڈرائی پورٹ بن سکے لیکن اب موٹروے کی تعمیر کے ساتھ ڈرائی پورٹ کا خواب بھی پورا ہوسکے گا۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 دریائے سندھ کے کنارے آباد سکھر شہر کے مئیر کے مطابق سکھر بیراج کے ساتھ دریائے سندھ کے درمیاں جزیرے پر موجود سادھ بیلو کا تاریخی مقام، معصوم شاہ کا مینار اور گھنٹہ گھر سمیت کئی سیاحتی مقامات ہیں اور ایم فائیو موٹر وے کے بعد سکھر میں سیاحت کو بھی فروع ملے گا۔  

 سکھر نہ صرف آٹھ اضلاع پر مشتمل شمالی سندھ کے لیے ایک اہم تجارتی مرکز ہے بلکہ اپنی جائے وقوع کے باعث یہ سندھ، پنجاب اور بلوچستان کو آپس میں جوڑنے والا مرکز بھی سمجھا جاتا ہے۔  

'سکھر سے بلوچستان اور پنجاب کے بارڈر صرف ایک سے ڈیڑھ گھنٹے کے سفر پر ہیں اور یہاں جنوبی پنجاب کے کئی شہروں اور مشرقی بلوچستان کے کئی اضلاع کے لوگ تجارت کرنے آتے ہیں۔ سفری مشکلات کے باعث وہاں سےآنے والے لوگوں کی کم تعداد تھی مگر موٹر وے کے بعد تجارتی سرگرمیاں بڑھنے کے قوی امکان ہیں۔'

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان