علی ظفر کو ایوارڈ دیے جانے پر 'عورت مارچ' کو تشویش

'عورت مارچ لاہور' کی جانب سے علی ظفر کے لیے تمغہ حسن کارکردگی کے اعلان کے خلاف وزیراعظم اور صدر کو لکھے گئے خط کے حوالے سے گلوکار کے وکیل نے کہا کہ 'اس ایوارڈ کا اعلان ان کی فنی کارکردگی پر کیا گیا، جو ان کا حق ہے۔'

علی ظفر کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان  پر میشا شفیع کو ہراساں کرنے کا کیس  خارج ہو چکا ہے (فائل تصویر: اے ایف پی)

'عورت مارچ لاہور' نے تمام شہروں کی عورت مارچ رضاکاروں کی جانب سے گلوکار و اداکار علی ظفر کے لیے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے 'تمغہ برائے حسن کارکردگی' کے اعلان پر وزیر اعظم اور صدر پاکستان کے نام ایک خط لکھ کر اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

ٹوئٹر پر پوسٹ کیے گئے اس خط میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ علی ظفر پر خواتین کو ہراساں کرنے کے الزامات ہیں اور ایسے موقع پر جب ان پر اس حوالے سے کیسز بھی چل رہے ہیں تو انہیں یہ ایوارڈ نہیں دیا جانا چاہیے تھا۔

مزید کہا گیا کہ 'عورت مارچ لاہور ملک بھر کی فیمنسٹوں کے ہمراہ اس بات پر تشویش کا اظہار کرتا ہے کہ مبینہ طور پر خواتین کو ہراساں کرنے میں ملوث پائے جانے والے شخص کو تمغہ برائے حسن کارکردگی دیا گیا ہے۔'

عورت مارچ لاہور کی ایک رضا کار حبا نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا: 'ٹھیک ہے علی ظفر کا ٹیلنٹ بہت زیادہ ہوگا، لوگ ان کے گانوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں مگر جب تک ان پر کیسز چل رہے ہیں تب تک یہ ایوارڈ ملتوی کیا جاسکتا تھا۔ کیسز ختم ہو جاتے، بات ادھر ادھر ہو جاتی پھر آپ ایوارڈ دے دیتے، مگر ایسے موقع پر انہیں ایوارڈ دینے سے ٹھیک پیغام نہیں جاتا۔'

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'دکھ کی بات یہ ہے کہ نہ چاہتے ہوئے بھی موجودہ حکومت کا تاثر یہ گیا کہ ہم تو ہمیشہ ہراساں کرنے والوں کا ساتھ دیں گے۔'

حبا کے مطابق: 'اہم بات یہ ہے کہ جنسی ہراسانی میں جس کے پاس طاقت ہوتی ہے وہ اس موقع کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے اور جب انہیں اتنے بڑے پیمانے پر نواز دیا جائے تو اس سے ان کی طاقت اور حوصلہ مزید بڑھ جاتا ہے۔'

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'میشا شفیع کی جانب سے علی ظفر پر ہراسانی کا کیس اور علی ظفر کی جانب سے میشا کے خلاف ہتک عزت کے کیس میں اب تک اپیل خارج نہیں ہوئی، معاملہ ختم نہیں ہوا، اس صورت میں حکومت کا یہ قدم ٹھیک نہیں تھا۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس معاملے پرموقف لینے کے لیے علی ظفر سے رابطہ کیا گیا تھا، جس پر ان کی قانونی معاون امبرین قریشی کی جانب سے کہا گیا کہ 'علی ظفر کے خلاف عدالت میں کوئی کیس نہیں ہے، جو مقدمات اس وقت چل رہے ہیں وہ میشا شفیع اور ان افراد کے خلاف ہیں جو ہتک عزت کے قانون کے تحت کردار کشی مہم کا حصہ تھے۔'

امبرین کا مزید کہنا تھا کہ ' علی ظفر کے خلاف دائر تمام مقدمات کو تمام قانونی فورمز پر صریحاً خارج کردیا گیا تھا اور اس کے تحریری ثبوت دستیاب ہیں۔ عدالت میں اپیل دائر کی گئی تھی لیکن ابھی تک سپریم کورٹ نے فیصلہ نہیں کیا کہ یہ اپیل برقرار ہے یا نہیں۔'

اس سے قبل علی ظفر کے وکیل رانا انتظار نے بھی کہا تھا کہ 'علی ظفر کے لیے ایوارڈ کا اعلان ان کی فنی کارکردگی پر کیا گیا جو ان کا حق ہے اور جہاں تک علی ظفر پر میشا شفیع کو ہراساں کرنے کے کیس کا تعلق ہے تو وہ خارج ہو چکا ہے، ہاں البتہ لاہور کی سیشن کورٹ میں علی ظفر کی جانب سے میشا کے خلاف ہتک عزت کا کیس اب  بھی چل رہا ہے، جس کی اگلی سماعت 8 ستمبر کو ہوگی۔'

میشا شفیع اس وقت ملک سے باہر ہیں اس لیے ان سے رابطہ نہیں ہوسکا، تاہم ان کی والدہ صبا حمید کی قریبی دوست اور معروف ماڈل و اداکارہ عفت عمر نے بھی علی ظفر کو تمغہ برائے حسن کارکردگی دیے جانے پر چند روز قبل اپنی ٹویٹ میں کہا تھا کہ '21 ویں صدی میں صرف پاکستان میں ایک مبینہ طور پر ہراساں کرنے والے شخص کو حکومت ایوارڈ دے سکتی اور کہیں نہیں۔'

علی ظفر کو پاکستان کے سب سے بڑے سول ایوارڈ سے نوازے جانے کے بعد خواتین کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والے حلقوں میں اس کی مخالفت سامنے آرہی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی سوشل