اوباما ’بہت برے‘ اور ’غیر موثر‘ صدر تھے: ٹرمپ

سابق امریکی صدر باراک اوباما کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں تنقیدی بیانات سامنے آنے کے بعد صدر ٹرمپ نے جواباً کہا کہ سابق صدر کی خراب کارکردگی کی وجہ سے ہی ووٹروں نے انہیں وائٹ ہاؤس کے لیے چنا۔

پینتالیسویں صدر نے 44 ویں صدر کو 'بہت غیرموثر' اور 'بہت برا' قرار دیتے ہوئے ان کے بارے میں کہا: 'وہ کتنے برے تھے۔' (اے ایف پی)

سابق امریکی صدر باراک اوباما کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں تنقیدی بیانات سامنے آنے کے بعد صدر ٹرمپ نے جواباً انہیں 'بہت برا' چیف ایگزیکٹو قرار دے دیا۔

بدھ کو سابق امریکی صدر باراک اوباما کے ڈیموکریٹک پارٹی کی نیشنل کنونشن سے خطاب کے کچھ حصے سامنے آئے جن میں انہوں نے موجودہ صدر کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس کے جواب میں صدر ٹرمپ نے نہ صرف اوباما کو 'بہت برا' صدر قرار دیا بلکہ یہ بھی کہ ان کی دو بار کی مدت صدارت 'غیرمؤثر' ہونے کی وجہ سے ہی ووٹروں نے ٹرمپ کو چار سال کے لیے وائٹ ہاؤس کے لیے چنا۔

صدر ٹرمپ نے کرونا (کورونا) وائرس پر بریفنگ کے دوران ایک رپورٹر کے سوال کے جواب میں اوباما کے حوالے سے کہا: 'میں وہ خوفناک صورت حال دیکھ رہا ہوں جس میں انہوں نے ہمیں چھوڑا۔ انہوں نے احمقانہ سودے کیے۔'

پینتالیسویں صدر نے 44 ویں صدر کو 'بہت غیرموثر' اور 'بہت برا' قرار دیتے ہوئے ان کے بارے میں کہا: 'وہ کتنے برے تھے۔'

اس کے بعد صدرٹرمپ نے کہا اگر اوباما اور سابق نائب صد جوبائیڈن، جو 2020 کے صدارتی انتخاب میں ڈیموکریٹ پارٹی کے نامزد امیدوار ہیں، اتنا برا کام نہ کرتے تو ٹرمپ منتخب ہی نہ ہوتے۔
ٹرمپ نے اپنی اننتخابی مہم اوباما انتظامیہ کی متعدد داخلی اور خارجی پالیسیوں کی تنقید کرنے میں گزاری تھی۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

صدر ٹرمپ کا بیان اوباما کی ان باتوں کے جواب میں دیا گیا ہے جو اوباما نے ڈیموکریٹک پارٹی کے 2020 کے کنونش میں کیں۔ اًدیموکریٹک نیشنل کنونشن (ڈی این سی) میں پارٹی اپنا صدراتی امیدوار چنتی ہے۔ اس سال یہ کنونشن کرونا وبا کے باعث ورچوئل ہے اور اس میں پارٹی کے اراکین ویڈیو کے ذریعے خطاب کر رہے ہیں۔

بدھ کی رات کو شائع ہونے والے اوباما کے خطاب میں انہوں نے کہا:  'مجھے امید تھی کہ ڈونلڈ ٹرمپ ملک کے مفاد میں اپنے کام میں دلچسپی کا مظاہرہ کریں گے، کہ وہ اپنے عہدہ کی اہمیت کا احساس کریں گے اور اس جمہوریت کا احترام  کرنا سیکھیں گے جو ان کی نگرانی میں دی گئی تھی۔'

اوباما نے مزید کہا: 'لیکن انہوں (ٹرمپ) نے ایسا نہیں کیا۔ انہوں نے کام میں دلچسپی نہیں دکھائی۔ مشترکہ بنیاد کی تلاش میں دلچسپی نہیں لی۔ اپنے عہدے کی بھرپور طاقت کو سوائے اپنے اور دوستوں کے اور کسی کی مدد کے لیے استعمال نہیں کیا۔ انہوں نے صدر کے عہدے کو ایک اور ریئلٹی شو سے زیادہ کچھ نہیں سمجھا جسے وہ اس توجہ کے حصول کے لیے استعمال کر سکتے ہیں جس کا انہیں شوق ہے۔'

اوباما کی تقریر کے بارے میں مزید یہاں پڑھیں۔ ڈی این سی کی پہلی دو راتوں میں ایک کے بعد دوسرے مقرر نے ٹرمپ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

مقررین نے کہا کہ ٹرمپ نے کرونا وبا کے مسئلے میں دلچسپی نہ لے کر امریکہ کو اس کے حال پر 'چھوڑ' دیا اور صدر کے عہدے کو صرف اپنی رجعت پسند سیاسی بنیاد کے لیے استعمال کیا۔ 

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ