صدر کی انتخابی مہم پر ٹرمپ خاندان کو خفیہ طور پر رقم دینے کا الزام

میڈیا آؤٹ لیٹ ’ہف پوسٹ‘ کے مطابق صدر ٹرمپ کی مہم سے ان کے خاندان کے جن افراد کو رقم فراہم کی گئی ہے اس میں ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر کی گرل فرینڈ کمبیرلی گلفوئل اور ان کے دوسرے بیٹے ایرک ٹرمپ کی اہلیہ لارا ٹرمپ کو ادا کی گئی ایک لاکھ 80 ہزار ڈالر کی رقم شامل ہے۔

ٹرمپ 2020 کی مہم کے کمیونیکیشن ڈائریکٹر ٹم مورٹف نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ ان  ادائیگیوں سے کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔(اے ایف پی)

 

امریکی صدر کی انتخابی مہم چلانے والے گروپ پر الزام ہے کہ اس نے نجی کمپنیوں کے ذریعے ڈونلڈ ٹرمپ کے خاندان کے افراد اور ان کی دیگر تنظیموں کو خفیہ طور پر 21 کروڑ ڈالر سے زیادہ رقم منتقل کر کے وفاقی انتخابات کے قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔

میڈیا آؤٹ لیٹ ’ہف پوسٹ‘ کے مطابق صدر ٹرمپ کی مہم سے ان کے خاندان کے جن افراد کو رقم فراہم کی گئی ہے اس میں ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر کی گرل فرینڈ کمبیرلی گلفوئل اور ان کے دوسرے صاحبزادے ایرک ٹرمپ کی اہلیہ لارا ٹرمپ کو ادا کی گئی ایک لاکھ 80 ہزار ڈالر کی رقم شامل ہے۔  

انتخابات کی نگرانی کرنے والے غیر سرکاری ادارے ’کمپین لیگل سنٹر‘ نے دعویٰ کیا ہے صدر ٹرمپ کی دوبارہ انتخابی مہم اور اس سے وابستہ فنڈ اکٹھا کرنے والے گروپ ’دا ٹرمپ میک امریکہ گریٹ اگین کمیٹی‘ نے صدر کے سابق کمپین منیجر بریڈ پارسکل کے کاروبار اور ’امریکن میڈ میڈیا کنسلٹنٹس‘ (اے ایم ایم سی)، جو ٹرمپ مہم کے لیے اشتہار خرید کر نشر کرتا ہے، کے ذریعے یہ رقم منتقل کی۔

پارسکل کی کمپنیوں کو 2017 کے بعد سے ٹرمپ مہم  ’ریپبلکن نیشنل کمیٹی‘ (آر این سی) اور متعلقہ فنڈ ریزنگ گروپس سے تین کروڑ 90 لاکھ  ڈالر فراہم کیے جا چکے ہیں جبکہ دعوے کے مطابق انہیں تنظیموں سے اے ایم ایم سی کو 177.6 میلن ڈالر کی ادائیگی کی گئی ہے۔ 

پارسکل، جن کو حال ہی میں انتخابی مہم میں بطور سٹریٹیجی ہیڈ سے ہٹا دیا گیا تھا، سے اپریل میں جب کمبیرلی گلفوئل اور لارا ٹرمپ کو کی گئیں ادائیگیوں کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے ہف پوسٹ کو بتایا: ’اگر میں انہیں (یہ رقم) فراہم کرنا چاہوں تو میں ایسا کر سکتا ہوں۔‘

’دا کمپین لیگل سنٹر‘ نے منگل کو فیڈرل الیکشن کمیشن (ایف ای سی) میں ایک شکایت درج کرائی تھی جس میں ٹرمپ مہم کی مالی معاملات کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

درخواست میں اس عمل کو ختم کرنے اور ٹرمپ مہم پر جرمانہ عائد کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

اس گروپ کے ایک وکیل برینڈن فشر نے ہف پوسٹ کو بتاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’اس رقم کی ٹرمپ مہم کے اعلیٰ عہدیداروں کی ملکیت کارپوریشنز کے ذریعے لانڈرنگ کی جا رہی ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ نجی کمپنی کے ذریعے رقم منتقل کرنے سے یہ اثر پڑا ہے کہ ٹرمپ مہم کے اخراجات کے ایک بڑا حصے کو عوام کی آنکھوں سے اوجھل رکھا گیا ہے۔ 

انتخابی مہم کے لیے مالیاتی قوانین اس لیے تشکیل دیے گئے تھے تاکہ امریکی عوام یہ جان سکیں کہ امیدوار اور جماعتیں کس طرح رقم جمع کرتی ہیں اور کیسے اس کو خرچ کرتی ہیں جب کہ اس گروپ کا دعویٰ ہے کہ ٹرمپ مہم کے اقدام ان قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

برینڈن فشر کا ماننا ہے:  ’اس سکیم سے قانون کی خلاف ورزی ہوئی ہے اور عوام کے جاننے کے حق کو محروم کیا ہے۔ واضح طور پر جو کچھ چھپایا جارہا ہے وہ کسی کو معلوم نہیں ہے۔ ہم اس بارے میں یقین سے کچھ نہیں جانتے۔‘

آر این سی کے کمیونیکیشن ڈائریکٹر مائیکل اہرینز نے ان الزامات کے بارے میں ایک بیان جاری کیا جس میں ان کا کہنا تھا:  ’آر این سی اور اس کی مشترکہ فنڈ ریزنگ کمیٹیاں وفاقی الیکشن کمیشن کے تمام ضوابط اور مالیاتی قوانین کی پابندی کرتی ہیں۔‘

ٹرمپ 2020 کی مہم کے کمیونیکیشن ڈائریکٹر ٹم مورٹف نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ ان مذکورہ ادائیگیوں سے کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا: ’اے ایم ایم سی مہم کی تشہیر کا کاروبار کرتی ہے جو مارکیٹ کی قیمت پر میڈیا اشتہارات کی خریداری اور متعلقہ خدمات کو ترتیب دینے اور اس پر عملدرآمد کرنے کی ذمہ دار ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’اے ایم ایم سی کمیشن یا فیس کی مد میں کمائی نہیں کرتی بلکہ یہ اس میں اہلیت پیدا کرتی ہے اور اِن ہاؤس سروسز فراہم کرکے مہم کے لیے پیسوں کی بچت کرتی ہے جو بصورت دیگر باہر کی کمپنیوں کو ادا کرنے پڑتے۔ ایف ای سی کے قوانین کے مطابق مہم اے ایم ایم سی کو کی گئیں تمام ادائیگیوں کی رپورٹ کرتی ہے۔‘

فشر نے کہا کہ ماضی میں بھی دیگر انتخابی مہمات کے دوران اسی طرح کے طریقے استعمال کیے تھے جیسا کہ مٹ رومنی نے 2012 میں ٹیلی ویژن اشتہارات خریدنے کے لیے ’امریکن ریمبلر‘ فرم تیار کی تھی۔

تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ’ٹرمپ مہم اس کو ایک اور نئی سطح پر لے گئی ہے۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ