اسلام آباد میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف پالیسی پر غور

وفاقی وزارت ماحولیاتی تبدیلی کی زیر نگرانی تیار ہونے والی پالیسی کا مقصد اسلام آباد اور اس کے ارد گرد کے علاقوں میں قدرتی ماحول، جانوروں اور پودوں کی قدرتی پناہ گاہوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔  

حکومتی ذرائع کے مطابق غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کی صورت میں کم از کم پچیس رہائشی سوسائٹیز منہدم ہو سکتی ہیں جن میں بعض سرکاری کالونیاں بھی شامل ہیں۔ (اے ایف پی فائل)

حالیہ دنوں میں اسلام آباد میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی پر حکومتی غور کے حوالے سے خبریں سامنے آئیں تو یہ خبر بھی گردش کرنے لگی کہ مارگلہ پہاڑیوں میں واقع مشہور ریستوران مونال کو سیل کردیا گیا ہے اور اسے ہٹا دیا جائے گا۔

اس حوالے سے مونال کی انتظامیہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ مونال سمیت اس پٹی میں واقع تمام ریستورانوں کو کرونا (کورونا) کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے شہری انتظامیہ نے 12 اگست سے بند رہنے کی ہدایت دی تھی۔

مارگلہ نیشنل پارک میں مونال اور دیگر ریستوران تو فی الحال قائم ہیں تاہم یہ معلوم ہوا ہے کہ وفاقی حکومت شہر اقتدار اور  اس کے گردو نواح میں غیر قانونی طور پر بنائی گئی رہائشی کالونیوں اور دوسری تعمیرات کے خلاف کارروائی کے سلسلہ میں ایک جامع پالیسی بنا رہی ہے۔ 

وفاقی وزارت ماحولیاتی تبدیلی کی زیر نگرانی تیار ہونے والی پالیسی کا مقصد اسلام آباد اور اس کے ارد گرد کے علاقوں میں قدرتی ماحول، جانوروں اور پودوں کی قدرتی پناہ گاہوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔  

حکومتی ذرائع کے مطابق غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کی صورت میں کم از کم 25 رہائشی سوسائٹیاں منہدم ہو سکتی ہیں جن میں بعض سرکاری کالونیاں بھی شامل ہیں۔ 

وفاقی وزارت ماحولیاتی تبدیلی کے سینیئر ڈائریکٹر الطاف ظفر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ غیر قانونی تعمیرات سے متعلق پالیسی کے خدو خال درست کیے جا رہے ہیں اور اس کے نتائج آئندہ دو سال میں سامنے آنا شروع ہو جائیں گے۔ 

یاد رہے کہ وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی زرتاج گل نے ایک حالیہ انٹرویو میں انکشاف کیا تھا کہ وفاقی کابینہ نے ماحولیات کو نقصان پہنچانے والی تعمیرات ختم کرنے کا سخت فیصلہ کیا ہے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ نیشنل پارکس، محفوظ علاقے اور جنگلات میں تمام غیر قانونی تعمیرات کو جلد ہی ختم کر دیا جائے گا۔   

الطاف ظفر نے مزید کہا کہ نیشنل پارکس اور جانوروں کی پناہ گاہوں میں بنائی گئی تعمیرات سے متعلق کئی تحقیقات ہو رہی ہیں جن کا نتیجہ سامنے آنے پر غیر قانونی تعمیرات کو منہدم کرنے سے متعلق حتمی فیصلے کیے جائیں گے۔ 

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری (آئی سی ٹی) کی حدود میں واقع مارگلہ ہلز  پارک اور دوسرے نیشنل پارکس کے علاوہ جانوروں کی پناہ گاہوں اور جنگلات کے جغرافیائی کوآرڈینیٹس بنوا لیے گئے ہیں، حتیٰ کہ دیہات کے کو آرڈینیٹس بھی تیار ہیں۔ 

ظفر الطاف کا کہنا تھا: 'ان جغرافیائی کوآرڈینیٹس کی موجودگی سے پروٹیکٹڈ ایریاز کی نشاندہی میں آسانی ہو گی اور کسی کے پاس ممنوعہ علاقے میں تعمیرات کرنے کا بہانا نہیں رہے گا۔'

اسلام آباد میں تعمیرات اور شہری سہولیات کا ذمہ دار ادارہ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے ایک سینیئر اہلکار نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں اتفاق کیا کہ اکثر کالونیاں، سوسائٹیز اور دوسری تعمیرات بغیر قانونی اجازت کے کھڑی کر دی گئی ہیں۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انہوں نے کہا کہ ان تعمیرات کے مالکان کو قانونی لوازمات جلد از جلد پورا کرنے کے وعدوں پر نو آبجیکشن سرٹیفیکیٹ (این او سی) جاری کیے جاتے ہیں لیکن تعمیرات شروع ہونے کے بعد یہ وعدے پورے نہیں ہوتے۔ 

وزارت ماحولیاتی تبدیلی کے ایک دوسرے سینیئر اہلکار نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کی صورت میں اسلام آباد کے گردو نواح میں واقع کم از کم 25 رہائشی کالونیاں اور سوسائٹیز زد میں آئیں گے جن میں سرکاری رہائشی سکیموں کے تحت بننے والی سوسائیٹیز بھی شامل ہیں۔ 

غیر قانونی تعمیرات 

 اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق ستر کی دہائی کے آخر تک آئی سی ٹی کی آبادی محض ستر ہزار افراد پر مشتمل تھی جو 1980 میں تقریباً دو لاکھ اور 1990 میں ساڑھے تین لاکھ تک پہنچ گئی۔ 

گذشتہ دو دہائیوں کے دوران اسلام آباد آئی سی ٹی کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور اس وقت آئی سی ٹی میں گیارہ لاکھ سے زیادہ افراد رہائش پذیر ہیں۔  

آبادی میں اضافہ کی وجہ سے اسلام آباد کے گردو نواح میں سینکڑوں رہائشی کالونیاں اور سوسائٹیز وجود میں آئیں۔  

رہائشی سوسائٹیز کے علاوہ ہوٹلوں، ریستورانوں اور شادی ہالوں کے علاوہ  دوسری کئی قسم کی تعمیرات میں بھی بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ ان میں سے اکثر قانونی ضروریات اور لوازمات کے بغیر ہی کھڑی کر دی گئی ہیں۔ 

بیشتر تعمیرات نیشنل پارکس یا جانوروں کی پناہ گاہوں میں بنائی گئی ہیں اور تعمیرات کے مقاصد کے لیے اسلام آباد کے جنگلات اور جنگلی حیات کو بے دردی سے نقصان پہنچایا گیا ہے جس سے آئی سی ٹی میں ماحولیات پر برا اثر پڑ رہا ہے۔ 

ایک سینیئر حکومتی اہلکار نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ گذشتہ دو سے تین دہائیوں میں اسلام آباد اور گردو نواح میں تعمیرات کی بھر مار ہوئی ہے۔ 

اس سلسلہ میں انہوں نے بارا کہو جیسے چھوٹے علاقے کی مثال دی جہاں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت رہائشی مکانات کی تعداد دو لاکھ کے ہندسہ کو چھو رہی ہے۔ 

دلچسپ بات یہ ہے کہ سی ڈی اے کے حکام اسلام آباد ہائی کورٹ میں قبول کر چکے ہیں کہ بارہ کہو میں 95 فیصد تعمیرات غیر قانونی ہیں۔  

یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے 45 ایسی درخواستیں آچکی ہیں جن کا تعلق اسلام آباد اور اس کے گردو نواح میں غیر قانونی تعمیرات سے ہے۔  

چند روز قبل ان درخواستوں کی سماعت کے دوران چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا: 'لگتا ہے اسلام آباد ایک لاقانون خطہ بنتا جا رہا ہے جہاں بااثر افراد کو نجی اور ریاستی زمینوں پر قبضہ میں معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ '

اس موقع پر ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات نے تسلیم کیا کہ اسلام آباد میں سینٹ، قومی اسمبلی، وزارت داخلہ ، ایف آئی اے اور آئی بی کی رہائشی کالونیاں غیر قانونی طریقے سے تعمیر کی جا رہی ہیں۔ 

کارروائی ممکن ہے؟ 

وزارت محولیاتی تبدیلی کے سینیئر اہلکار کا کہنا تھا کہ جو تعمیرات ہو چکی ہیں ان کو ہاتھ لگانا حکومت کے لیے کافی مشکل ہو گا۔ 

سی ڈی اے حکام عدالت عالیہ کے سامنے ایک سے زیادہ مرتبہ تسلیم کر چکے ہیں کہ بارہ کہو میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی عوامی ردعمل کا باعث بن سکتی ہے۔ 

سی ڈی اے اہلکار کا کہنا تھا: 'ایک مرتبہ کوئی کالونی یا کاروباری عمارت تعمیر ہو جائے بھلے وہ غیر قانونی ہی کیوں نہ ہو تو اس کے خلاف کارروائی کرنا کافی مشکل ہوتا ہے۔ اور پھر ہمارے ہاتھ بھی بندھ جاتے ہیں۔ ہم بھلا کسی کے بنے بنائے گھر یا چلتے ہوئے کاروبار کو کیسے مسمار کر سکتے ہیں؟'

تاہم حقیقت یہ بھی ہے کہ سی ڈی اے نے گذشتہ سال اسلام آباد کے کشمیر روڈ پر درجنوں غیر قانونی طور پر تعمیر کیے گئے شادی ہالوں کو مسمار کیا تھا۔  

الطاف ظفر کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت ماحولیات کی حفاظت سے متعلق سنجیدہ ہے اور اس سلسلے میں ٹھوس اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اور کوئی بعید نہیں کہ پروٹیکٹڈ ایریاز میں غیر قانونی تعمیرات کو مسمار کر دیا جائے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان