کونال سٹوپا اور آنکھوں کی دو ہزار سال پرانی کہانی

کرسچین ہسپتال ٹیکسلا میں دور دراز سے آنے والے آنکھوں کے امراض کے شکار افراد کی بینائی جب بحال ہوتی ہے. اس ہسپتال کی بنیاد کے پیچھے صدیوں پرانی اشوک کے بیٹے راج کونال کی کہانی ہے۔

جب سر جان مارشل نے کھدائیاں کیں تو یہ چھوٹا سٹوپا بڑے سٹوپے کے اندر دفن تھا، جسے اشوک نے راج کمار کونال کی نسبت سے بنوایا تھا (پبلک ڈومین)

کرسچین ہسپتال ٹیکسلا کی بنیاد 1922 میں رکھی گئی تھی۔ یہ پاکستان بھر میں آنکھوں کی بیماریوں اور ان کے علاج کے حوالے سے جانا جاتا ہے، کبھی یہاں افغانستان تک سے مریض آنکھوں کے آپریشنز کے لیے آتے تھے۔ اس ہسپتال کی بنیاد کے پیچھے صدیوں پرانی اشوک کے بیٹے راج کونال کی کہانی ہے۔

اشوک کا عہد 268 سے 232 قبل مسیح کا ہے جب ہندوستان میں بدھ مت کا ڈنکہ بج رہا تھا۔ چینی سیاح ہیون سانگ جب 626 سے 645 کے درمیان شاہراہ ریشم کے ذریعے ٹیکسلا آیا تو اس نے یہاں کے حالات کو قلم بند کیا۔ تب یہ شہر سفید ہنوں کے ہاتھوں تباہ ہو چکا تھا۔

یہ سفر نامہ 646 میں شائع ہوا اور آج تک قدیم ٹیکسلا کی تہذیب کے بارے مستند حوالہ مانا جاتا ہے۔ ’گریٹ تھنگ ریکارڈز آف دی ویسٹرن ریجنز‘ کے نام سے شائع ہونے والے اس سفر نامے کے صفحہ 81-84 پر یہ کہانی اس طرح بیان کی گئی ہے :

شہر کے جنوب مشرق اور پہاڑیوں کے شمال کی جانب ایک سو فٹ بلند کونال سٹوپا ہے۔ کونال اشوک کا بیٹا تھا اور اس کی سوتیلی ماں نے ایک سازش کے ذریعے اس کی آنکھیں نکلوا دی تھیں جس کی یاد میں اشوک نے یہ سٹوپا بنوایا۔ ہیون سانگ کے بقول بینائی سے محروم لوگ یہاں آ کر دعا کرتے ہیں اور ان کی بینائی بحال ہو جاتی ہے۔

شہزادہ کونال اشوک کی پہلی بیوی کا بیٹا تھا جو خوبصورتی اور رحم دلی کے حوالے سے معروف تھا۔ جب ملکہ فوت ہو گئی تو اس کی سوتیلی ماں تشیار کشٹیا جو بہت شاطر عورت تھی وہ شہزادے کونال پر فریفتہ ہو گئی جس طرح حضرت زلیخا حضرت یوسف پر ملتفت ہوئی تھیں اگرچہ دونوں واقعات کے مابین کم و بیش1200 سال کا فرق ہے۔ جب یہ واقعہ پیش آیا تب مصری تہذیب جوبن پر تھی اور جب کونال کا واقعہ ظہور ہوا تب بدھ مت عروج پر تھا۔

 ایک روز موقع پا کر راج کمار کونال کی سوتیلی ماں تشیار کشٹیا نے شہزادے کو غلط تعلقات پر اکسانا چاہا اور جب اسے کامیابی نہیں ملی تو اس نے اپنی توہین محسوس کی اور شہزادے کےخلاف کسی مناسب موقعے کا انتظار کرنے لگی ۔ ایک دن اس نے بادشاہ کو خوش دیکھتے ہوئے مناسب جانا کہ وہ اپنی سازش پر عمل در آمد کرے۔

اس نے اپنے شوہر اشوک اعظم کو کہا کہ ٹیکسلا تزویراتی حوالے سے نہایت اہم جگہ پر واقع ہے یہاں شاہی خاندان کا کوئی فرد ہونا چاہیے جو اس کی حفاظت کرے۔ اس مقصد کے لیے شہزادہ کونال سے بہتر کوئی نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ رعایا کا بہتر خیال رکھ سکتا ہے بجائے اس کے کہ آپ وہاں کوئی ایسا آدمی بھیج دیں جو رعایا کا جینا دوبھر کر دے۔

ملکہ کا یہ مشورہ اشوک کو بھا گیا اور اس نے کونال کو بلا کر تاکید کی کہ ’یہ تاج ہمیں اپنے آبا و اجداد سے ورثے میں ملا ہے تاکہ ہم اس کی حفاظت کریں اور اگر ہم ایسا نہ کر سکے تو ا س سے انہیں تکلیف ہو گی۔ ٹیکسلا کی جغرافیائی اہمیت سے تم آگاہ ہو اس لیے میں تمہیں وہاں کی ذمہ داری دیتا ہوں کہ تم اس خطے پر حکمرانی کرو۔ ریاستی امور نہایت توجہ مانگتے ہیں تاکہ کوئی ریاست سے غداری نہ کر سکے۔ تم ہر لمحے چوکس رہنا کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہاری غفلت سے ریاست کو نقصان ہو۔ جب کبھی تمہیں میری جانب سے کوئی حکم نامہ ملے تو اس کی تصدیق میرے دانتوں کے نشان سے کرنا۔ کیونکہ جب تک میرے دانت میرے منہ میں ہیں ان کی نقل کوئی نہیں اتار سکتا۔‘

راج کمار کونال نے بادشاہ کے حکم کی تعمیل کی۔ وقت گزرتا گیا مگر اس کی سوتیلی ماں کے بدن میں لگی بدلے کی آگ ٹھنڈی نہ ہوئی اس نے ایک دن بادشاہ کے نام سے ایک جعلی حکم نامہ بنوایا، جامنی موم لگا کر اس پربادشاہ کے دانتوں کی مہر بھی اس وقت لگا دی جب بادشاہ گہری نیند میں تھا۔ بعد میں یہ جعلی حکم نامہ ایک قاصد کے ہاتھ روانہ کر دیا۔ جب قاصد ٹیکسلا آیا اور کونال کے مصاحبین کو یہ حکم نامہ دیا تو وہ حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔

کونال نے اس حیرت کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا کہ ’بادشاہ نے آپ کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے حکم دیا ہے کہ آپ کو معزول کر کے آپ کی آنکھیں نکال دی جائیں اور پھر آپ کو بیوی کے ساتھ پہاڑوں پر چھوڑ دیا جائے جہاں آپ مرنے تک رہیں۔ لیکن شاید یہ حکم نامہ جعلی ہو اس لیے بہتر یہی ہے کہ آپ بادشاہ کو جا کر ملیں۔‘

جس پر شہزادے نے جواب دیا کہ ’میں اپنے باپ کے حکم کی روگردانی کیسے کر سکتا ہوں؟ اگر وہ یہ چاہتا ہے کہ میں مر جاؤں یہ حکم نامہ جعلی نہیں کیونکہ اس پر میرے باپ کے دانتوں کے نشانات ہیں۔‘

راج کمار کونال نے ایک نائی سے کہا کہ وہ اس کی آنکھیں نکال دے۔ جس کے بعد راج کمار اپنی بیوی کو لے کر نکل گیا اور قریہ قریہ بھیک مانگنے لگا۔ ایک دن وہ اس شہر جا پہنچا جہاں بادشاہ کا پایۂ تخت تھا۔ اس کی بیوی نے کہا کہ ’یہ شاہی شہر ہے اور ہم بھوک اور سردی سے نڈھال ہو چکے ہیں۔ کبھی تم یہاں کے شہزادے تھے مگر آج بھکاری ہو۔ میں چاہتی ہوں کہ تم بادشاہ کے سامنے رحم کی اپیل کرو، ہو سکتا ہے کہ اسے تم پر رحم آ جائے۔‘

کسی طریقے سے وہ رات گئے بادشاہ کے محل کے باہر پہنچ گئے۔ سخت سردی سے ان کے دانت بج رہے تھے۔ جہاں انہوں نے نہایت غم انگیز انداز میں گیت گانا شروع کر دیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جیسے ہی بادشاہ نے یہ دل گرفتہ آواز سنی تو وہ چونک گیا کہ یہ آواز تو میرے بیٹے کونال کی لگتی ہے۔ وہ یہاں کیوں آیا ہے؟ بادشاہ نے دربان سے دریافت کیا۔ دربان نے اندھے بھکاری کو پکڑ کر بادشاہ کے سامنے پیش کر دیا۔ بادشاہ راج کمار کونال کو دیکھتے ہی بہت غمگین ہوا اور اس سے پوچھا کہ ’تمہیں اس حال تک کس نے پہنچایا؟ مجھے اگر یہ تک معلوم ہی نہیں کہ میرے بیٹے کی آنکھیں نکال دی گئی ہیں تو پھر میں رعایا کا محافظ کیسے ہو سکتا ہوں؟ اے خدا عزو جل ! یہ کیا ماجرا ہے؟‘

شہزادے نے روتے روتے پوری روداد بیان کی۔ جب بادشاہ نے تحقیق کی تو وہ معاملے کی تہہ تک پہنچ گیا کہ یہ سوتیلی ماں کیا کیا دھرا ہے جس پر بادشاہ نے ملکہ کو پھانسی دے دی۔

بادشاہ نے اس حکم میں ملکہ کی معاونت کرنے والے وزرا اور ان کے معاونین کو سزائیں دیں۔ کچھ کو برطرف کیا کچھ کو جلا وطن کیا اور کچھ کو مار دیا۔ جن کا قصور کم نوعیت کا تھا انہیں پہاڑوں اور صحراؤوں کی جانب بھیج دیا۔

اس دور میں بوہڑ کے درخت والے آشرم میں آشواگھو شا نامی ایک بھکشو رہتا تھا۔ جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ اس کے پاس خدا کی دی ہوئی خاص قدرت ہے۔ بادشاہ راج کمار کو لے کر بھکشو کے پاس حاضر ہوا۔ اسے ساری روداد سنائی اور شہزادے کی بینائی کی بحالی کی درخواست کی۔

اس پر بھکشو نے اپنے چیلوں کو حکم دیا کہ کل وہ اپنا ایک خاص وعظ فرمائیں گے جو شخص سننے کا آرزومند ہے وہ ایک برتن لے کر آئے تاکہ اگر کسی کے آنسو نکلیں تو وہ ان متبرک آنسوؤں کو برتن میں جمع کر سکے۔ اگلے روز دور دراز سے لوگ پہنچ گئے۔ آشا گھوشا نے جب لوگوں کے سامنے ابدی بارہ حقیقتوں کو بیان کیا تو شرکا میں ایک بھی ایسا نہ تھا جس کے آنسوؤں کی جھڑی نہ لگ گئی ہو۔

سب نے اپنے آنسو برتنوں میں جمع کر لیے۔ آخر میں سب برتنوں کے آنسو سونے کے ایک برتن میں اکٹھے کیے گئے۔ پھر بھکشو نے ایمان افروز انداز میں کہا کہ ’جو کچھ میں نے بیان کیا یہ بدھا کے فرمان ہیں۔ اگر یہ سچ نہیں ہیں یا پھر مجھ سے بیان کرنے میں کوئی کوتاہی ہو گئی ہے تو درگزر فرما دے اور اگر یہ سچ ہے تو میری خواہش ہے کہ اس اندھے کی بینائی لوٹا دے۔‘

یہ کہنے کے بعد اس نے اس پانی سے راج کمار کونال کی آنکھیں دھونا شروع کیں جیسے جیسے پانی کونال کی آنکھوں پر پڑتا جاتا۔ شہزادے کی آنکھیں بحال ہوتی جاتیں حتی ٰ کہ شہزادے کی آنکھیں اور بینائی مکمل بحال ہو گئی۔

بعد ازاں اشوک نے اس اندوہناک واقعے کی مناسبت سے اپنے بیٹے کے نام پر ٹیکسلا میں ایک شاندار سٹوپا بنایا۔ جس کی خاص بات یہ بیان کی جاتی تھی کہ یہاں آنکھوں کے امراض میں مبتلا لوگ آتے اور شفایاب ہوتے۔ سری لنکا میں آنکھیں عطیہ کرنے کے پیچھے بھی شہزادہ کونال کی یہی کہانی ہے کیونکہ سری لنکا میں بدھ مت اشوک کے بیٹے مہندر اور بیٹی سنگامتا نے پھیلایا تھا۔

سر جان مارشل نے 1913 میں ٹیکسلا میں کھدائیوں کا آغاز کیا تب وہ انڈیا کے آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل تھے۔ سرجان مارشل اور امریکہ کے ڈاکٹر گریگوری مارٹن کی دوستی تھی جو یونائیٹڈ پرسبٹیرین مشن سے منسلک تھے اورایک عرصے سےانڈیا میں اپنی مشنری سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھے۔

سر جان مارشل نے جب کونال سٹوپا کی کہانی ڈاکٹر گریگوری مارٹن کو سنائی تو انہوں نے یہاں 1922 میں ایک ہسپتال کی بنیاد رکھی جو آنکھوں کی بیماریوں کے علاج معالجے کے لیے مشہور ہو گیا۔ جب کبھی آپ سرکپ کے کھنڈرات جائیں تو اس کے قریب ہی کونال سٹوپا ہے جہاں جا کر آپ کی آنکھیں ماضی کے اس اندوہناک واقعہ سے بھر آتی ہیں۔

اس کے قریب ہی کرسچین ہسپتال ٹیکسلا واقع ہے جہاں دوردراز سے آنے والے آنکھوں کے امراض کے شکار افراد کی بینائی جب بحال ہوتی ہے تو یقیناً راج کمار کونال کی روح کو چین ملتا ہو گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ