افغان ہدایتکارہ اور اداکارہ صبا سحر حملے کے بعد ہسپتال منتقل

صبا سحر افغانستان کی پہلی خاتون ہدایت کاروں میں سے ایک ہیں۔ ان کے شوہر کے مطابق انہیں اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ کام پر جا رہی تھیں۔

ہدایت کاری کے ساتھ ساتھ سحر افغانستان میں اپنی اداکاری کے لیے بھی شہرت رکھتی ہیں (تصویر: روئٹرز)

افغانستان کی معروف اداکارہ اور ہدایت کار صبا سحر پر گذشتہ روز دارالحکومت کابل میں حملہ کیا گیا، جس کے بعد انہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

سحر کے خاوند ایمل ذکی نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ منگل کو تین حملہ آوروں نے ان کی اہلیہ کی گاڑی کو اس وقت گولیوں سے نشانہ بنایا جب وہ کام پر جا رہی تھیں۔ صبا سحر افغانستان کی پہلی خاتون ہدایت کاروں میں سے ایک ہیں۔

ذکی نے کہا کہ سحر کے گھر سے نکلنے کے پانچ منٹ بعد انہوں نے گولیاں چلنے کی آوازیں سنیں اور سحر نے انہیں فون پر بتایا کہ ان کے پیٹ میں گولیاں لگی ہیں۔ اس وقت ان کے زخموں کی سنگینی واضح نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا: ’میں جلد ہی جائے وقوع پر پہنچ گیا جہاں میں نے ان سب کو زخمی حالت میں پایا۔ انہیں وہیں ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی، جس کے بعد انہیں پہلے قریبی ہسپتال کی ایمرجنسی اور پھر وہاں سے پولیس ہسپتال پہنچایا گیا۔‘

ذکی نے بتایا کہ یہ حملہ کابل شہر کے مغربی حصے میں کیا گیا تھا جس میں سحر اور ان کے دو محافظ زخمی ہو گئے تھے جبکہ گاڑی میں موجود ایک بچہ اور ڈرائیور محفوظ رہے۔

ہدایت کاری کے ساتھ ساتھ سحر افغانستان میں اپنی اداکاری کے لیے بھی شہرت رکھتی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وہ خواتین کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتی رہی ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے وزارت داخلہ کے لیے بھی خدمات انجام دی ہیں جبکہ انہوں نے پولیس سے بھی تربیت حاصل کر رکھی ہے۔

ان کی فلموں اور ٹی وی پروجیکٹس میں انصاف اور بدعنوانی جیسے موضوعات شامل کیے گئے ہیں۔ پولیس سیریز ’‘کمشنر امان اللہ‘ اور ’پاسنگ دا رینبو‘ بھی ایسی ہی سیریز تھیں جن میں انہوں نے خود پولیس افسر کا کردار ادا کیا تھا۔

اس حملے کے بعد ایمنسٹی انٹرنیشنل برائے جنوبی ایشیا نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا: ’انسانی حقوق کے علمبرداروں، سیاسی کارکنوں، صحافیوں اور فلمی اداکاروں پر بڑھتے ہوئے حملے اور قتل کی کوششیں باعث تشویش ہیں۔ ان حملوں کی تفتیش اور ذمہ داروں کا احتساب ہونا چاہیے۔ حکام کو خطرے میں گھرے ہر شخص کا تحفظ یقینی بنانا ہو گا۔‘

افغانستان میں برطانوی سفارت خانے نے بھی اپنی ٹویٹ میں اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا: ’ہم بہادر افغان خاتون پر حملے کی مذمت کرتے ہیں اور صبا سحر کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہیں۔‘

اس حملے کی ذمہ داری ابھی تک کسی گروہ نے قبول نہیں کی۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین