کراچی میں قیامت کی بارش، نظریات کی گرد اور بحث کا طوفان

یہ بات تو جیسے طے کرلی گئی ہو کہ کسی بھی سیاسی بندوبست سے پہلے ہم نظریاتی چاقو چھریاں نکالیں گے، ایک دوسرے کے سر پھوڑیں گے، جب ہلکان ہو کر بیٹھ جائیں گے تو ہی کچھ لو اور کچھ دو پر بات کریں گے۔

(اے ایف پی)

شہرِ کراچی پر کوئی افتاد ٹوٹتی ہے تو بات مسئلے کے سیاسی حل کی طرف بعد میں آتی ہے پہلے نظریاتی بکھیڑوں کے لمبے لمبے سات چکر کاٹتی ہے۔

بحث مباحثے کی جو گرد اٹھتی ہے اس میں نقصانات کے ازالے کم اور نظریات کے حوالے زیادہ ملتے ہیں۔ مہاجر کہتے ہیں یہ ملک ہمارا ہے یہ ہم نے بنایا ہے۔ سندھی پوچھتے ہیں، ہماری زمین پر بنا ہوا پاکستان تمہارا کیسے ہوا؟ مہاجر بتاتے ہیں، یہ ملک مٹی گارے سے نہیں ہمارے خون پسینے سے بنا ہے۔ سندھی کہتے ہیں، مٹی گارے کو نکال کر نقشے پہ دکھا دو پاکستان کہاں ہے؟ اس توتکار کو باقی شہری دور سے دیکھ رہے ہیں اور کسی حتمی نتیجے پر پہنچ نہیں پا رہے کہ ان میں کون بڑے باپ کا ہے اور کون چھوٹے باپ کا۔

یہ بات تو جیسے طے کرلی گئی ہو کہ کسی بھی سیاسی بندوبست سے پہلے ہم نظریاتی چاقو چھریاں نکالیں گے، ایک دوسرے کے سر پھوڑیں گے، جب ہلکان ہو کر بیٹھ جائیں گے تو ہی کچھ لو اور کچھ دو پر بات کریں گے۔ کچھ لو کچھ دو پر بھی بات ہوگی تو اردو بولنے والے صوبے سے کم پر راضی نہ ہوں گے اور سندھی سائیں اردو بولنے والوں کی اکثریت کو حقیقت نہیں مانیں گے۔ پنجے جھاڑ کے پھر سے کھڑے ہو جائیں گے۔ ایک دوسرے کے گریبان پھاڑیں گے اور 14 اگست کی جھنڈیاں بنائیں گے۔

بات کا آغاز یہاں سے ہونا چاہیے کہ موجودہ حدود اربعہ کو ایک جغرافیائی حقیقت مانتے ہوئے کیا ہم مملکتِ پاکستان کو ایک ریاست تسلیم کرتے ہیں؟ اگر نہیں، تو پھر بات کہیں اور سے شروع کرنا ہو گی؟ اگر ہاں، تو پھر سیاسی قوتوں کو کسی بڑے جغرافیائی انقلاب کو ایک طرف رکھ کر کچھ ایسی حقیقتوں کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہے جن کا تعلق تقسیمِ ہند کے بعد کی صورتِ حال کے ساتھ ہے۔

وہ حقیقتیں کیا ہیں؟

  1. ہندوستان سے آئے ہوئے اردو بولنے والے مہاجر اب پاکستان کے شہری ہیں
  2. یہاں حقِ حکمرانی عوام کی اکثریت کو حاصل ہے
  3. ۔کراچی اردو بولنے والوں کا اکثریتی شہر ہے
  4. کراچی پاکستان کے صوبہ سندھ کا شہر بھی ہے اور صدر مقام بھی ہے

اگر ان سچائیوں کو تسلیم کرلیا جائے تو دو باتیں واضح ہوجاتی ہیں۔ ایک، کراچی کو اگر صوبہ بنانے کی کوشش کی جائے گی تو مہاجر اور انصار کا تنازع مزید گہرا ہوجائے گا۔دوسرا، کراچی میں رہنے والوں کے مینڈیٹ کو تسلیم نہیں کیا جائے گا تو سندھ کی مجموعی ترقی کا پہیہ بھی وقت کے سپر ہائی پر رک جائے گا۔

اگر ہم ان دو حقیقتوں کو نظر انداز کریں تو پھر چار راستے رہ جاتے ہیں:

  1. کراچی کی اکثریت خود کو ننگا بھوکا تسلیم کر کے خود کو سندھی عمائدین کے رحم و کرم پر چھوڑ دے
  2. سارے اردو بولنے والے اپنی سیاسی سرگرمیاں لپیٹ کر جوتوں سمیت کسی سندھی جماعت میں شامل ہو جائیں
  3. ہندوستان کے ساتھ کوئی معاہدہ دستخط کرکے ان کے بچھڑے ہوئے انہیں واپس کر دیے جائیں
  4. کسی منصوبے کے تحت اردو بولنے والے بچوں کی پیدائش پر پابندی لگا دی جائے

کیا ان چاروں باتوں میں سے کوئی ایک بھی بات ممکن ہے؟ اگر ہاں، تو بسم اللہ۔ اگر نہیں، تو پھر ان سارے نظریاتی، جغرافیائی، تاریخی اور ثقافتی پس منظرہائے ناگفتنی ایک طرف رکھ کر اگلی بات کر لی جائے اور آج کی بات کرلی جائے۔

آج کی بات یہ ہے کہ قومی اسمبلی میں کراچی کی سیاسی نمائندگی اس وقت صفر پر کھڑی ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ قومی اسمبلی میں کراچی کی نشستیں تو پوری ہیں، پھر کیسے کہا جا سکتا ہے کہ اس کی نمائندگی صفر پر کھڑی ہے؟

اس بات کو سمجھنے کے لیے آپ کو ایک نظر بلوچستان کا سیاسی منظر نامہ دیکھنا ہوگا۔ بلوچستان کی اکثریتی آبادی ہمارے انتخابی نظام پر بھروسہ نہیں کرتی۔ وہاں کے پولنگ سٹیشنوں پر جو چیز سب سے زیادہ دیکھی گئی ہے وہ سناٹا ہے۔

اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ جس قیادت کا احترام وہاں کے عوام کرتے ہیں، ریاستی اشرافیہ کے رجسٹر میں وہ ناپسندیدہ لوگ ہیں۔ بلوچستان میں دوچار لوگ ووٹ دینے نکلتے ہیں، ہم انہی ووٹوں کو پورے بلوچستان کی آواز قرار دیتے ہیں، انہی ووٹوں کی گنتی کرکے شکست اور فتح کا فیصلہ سناتے ہیں اور اگلی صبح وزارتوں کی بندر بانٹ کر دیتے ہیں۔ اسی مسترد قبیلے کا سب سے مسترد فرد اٹھا کر ہم وفاق میں لاتے ہیں، کسی کمیٹی کا چئیرمین بنا دیتے ہیں اور ماتھے سے پسینہ پونچھتے ہوئے کہہ دیتے ہیں کہ الحمدللہ ہم نے بلوچستان کی محرومیوں کا آج ازالہ کر دیا۔

انجامِ کار بلوچستان کے اُس اکثریت کی لاتعلقی مزید گہری ہوجاتی ہے جس کی خاموشی کو ہم گنتی میں نہیں لاتے۔

اس بات کو ذرا آسان کر کے دیکھ لیں؟

فرض کیجیے، ایک حلقے میں سو لوگ آباد ہیں اور دو امیدوار کھڑے ہیں۔ حلقے کے 85 رہائشی ناراض ہیں اور 15 نے ووٹ ڈالا ہے۔ 15 میں سے دس ووٹ ایک امیدوار کو ملے اور پانچ دوسرے کو۔ دس والا امیدوار جیت گیا پانچ والا امیدوار ہار گیا۔ اب آپ ان دونوں امیدواروں کے سارے ووٹ اٹھا کر ان ووٹوں کے مقابلے میں رکھیں جو انتخابی عمل کا شعوری بائیکاٹ کیا۔

کیا ہم کہہ سکتے کہ یہ 15 ووٹ حلقے کے ضمیر نے دیے ہیں؟ اور کیا آپ ان 85 لوگوں کو راضی کیے بغیر، شامل کیے بغیر اور ان کے اختیار کو مانے بغیر اس حلقے کی تقدیر کا کچھ بھی فیصلہ کرسکتے ہیں؟

اگر کیلکولیٹر پر حساب کریں تو قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی میں بلوچستان کی نمائندگی پوری ہے۔ لیکن اگر سیاست کی جنتری کے مطابق زائچہ نکالا جائے تو بلوچستان کا ایوان آپ کو اپنی زمین کا نمائندہ ایوان نظر نہیں آئے گا۔اس ایوان میں سیاسی کوششوں کے بعد اگر کبھی کوئی عوامی قیادت داخل ہوئی تو کچھ ہی عرصے میں اس کے قلمدان کو الٹ دیا گیا۔ راتوں رات باپ پارٹیوں جیسا حربہ آزما کر سمجھ لیا گیا کہ بلوچستان کے سینے میں دہکتے ہوئے الاؤ پر پانی پڑ گیا۔

سوچنے کی بات ہے کہ زمانے گزرجانے کے بعد بھی بلوچستان کا نظام کبھی دو قدم کیوں نہیں چلا؟ وجہ بہت سادہ سی ہے۔ لوگ ہی اگر لاتعلق ہو جائیں تو کاروبارِ زندگی کیسے چل سکتا ہے؟ گاہک ہی مطمئن نہیں ہو گا تو سوداگر کیا بیچے گا۔

گلی کے کمزور سے دو چار بے روزگار کو ساتھ ملا کر آپ مخبریاں تو کرواسکتے ہیں مگر ان کے بل بوتے پر گلی سے گاڑی نہیں گزار سکتے۔ یہ گاڑی یا تو بندوق کے زور پر گزرے گی یا پھر گلی کے تمام افراد کو اعتماد میں لینے سے گزرے گی۔ افراد کو اعتماد میں لیں گے تو استحکام رہے گا اور مستقبل محفوظ رہے گا۔ بندوق کا زور آزمائیں گے تو وقتی طور پر گاڑی تو گزر جائے گی مگر نفرت کا بیج عمر بھر کے لیے زمین میں رہ جائے گا۔

کراچی میں 2018 کا جو نتیجہ آیا اس کا جائزہ سیاسی آنکھ سے لینے کی ضرورت ہے۔ محض درج ہونے والے اعداد و شمار سے ہم کسی کا منہ تو بند کر سکتے ہیں مگر اس کو اپنائیت کا احساس نہیں دے سکتے۔

سچ یہ ہے کہ گذشتہ انتخابات میں اصل آواز انہی لوگوں کی تھی جنہوں نے ووٹ نہیں دیا۔ جنہوں نے ووٹ دیا ان کے ووٹ ملک کے سب سے بڑے شہر کی تقدیر لکھنے کے لیے کافی نہیں تھے۔ دو چار پرانے سکے اگر جیتے بھی ہیں تو اپنے حلقے میں جانے کے نہیں ہیں۔ چلے جائیں تو اجنبیت کا احساس اور گہری خاموشی کاٹ کھانے کو دوڑتی ہے۔

آپ اس بات کو آسان بھاشا میں سمجھنا چاہیں تو میرے ساتھ کراچی کے اس حلقے میں چلیے جہاں کبھی میں خود رہتا رہا ہوں اور میرے والدین اب بھی رہتے ہیں۔ یہ ناظم آباد کا علاقہ ہے اور عثمانیہ سوسائٹی کا محلہ ہے۔ یہاں اردو بولنے والے اتنی بڑی تعداد میں رہتے ہیں کہ مقابلے میں کوئی امیدوار اتارنا بھی بلاوجہ کی زحمت محسوس ہوتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایک رات مصطفیٰ کمال کی تنظیم پی ایس پی کے ذمہ داران خدا جانے کس پیرا شوٹ پہ لٹکے اور سیدھا اس محلے میں اترے۔ محلے میں واقع ایم کیو ایم کا یونٹ پی ایس پی کے حوالے کر دیا گیا۔ اس یونٹ کے رجسٹر میں پی ایس پی کے جن کارکنوں کا اندراج ہوا ان کی تعداد 133 تھی۔ انتخابات ہوئے تو پی ایس پی کے امیدوار کو ایک 133 میں سے صرف 14 ووٹ پڑے۔ سوچیے، جس انتخاب میں اپنے ہی رجسٹرڈ کارکن نہ نکلے ہوں وہاں وہ لوگ کیونکر نکلیں جو اس بندوبست سے مطمن ہی نہیں ہیں؟

پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں کے بیچ میثاقِ جمہوریت کے نام سے ایک دستاویز موجود ہے۔ اس دستاویز میں جن اصولوں پر اتفاق کیا گیا ہے انہی اصولوں پر کراچی کا سیاسی تنازع بھی حل کیا جا سکتا ہے۔ سیاسی اکابر نے تسلیم کیا تھا کہ کسی صوبے یا علاقے میں کسی سیاسی طاقت کو دو ووٹ کی برتری بھی حاصل ہو، اس کو حکومت تشکیل دینے کا حق دیا جائے گا۔ دوسرے نمبر پر آنے والی جماعت کو یہ حق نہیں ہو گا کہ وہ چھوٹی چھوٹی دوسری جماعتوں اور ووٹوں کو ساتھ ملا کر اپنی برتری ثابت کرے۔

2013 کے انتخابات میں پی ٹی آئی کے پی کی اکثریتی جماعت ابھر کے سامنے آئی۔ مولانا فضل الرحمٰن نے میاں نواز شریف کو تجویز دی کہ اگر ہم ایکا کرلیں تو ہنستے کھیلتے حکومت بنا سکتے ہیں۔ میاں نواز شریف نے مولانا صاحب کی اس تجویز کو شکریے کے ساتھ مسترد کر دیا۔

مولانا فضل الرحمٰن نے جو تجویز دی تھی وہ آئینی، قانونی اور شرعی طور پر درست ہوگی مگر سیاسی طور پر درست نہیں تھی۔ یہ تجویز میثاقِ جمہوریت کی روح کے ہی خلاف تھی۔

کراچی میں ہمیشہ سے یہ المیہ چلا آ رہا ہے کہ دو دو تین تین ووٹ رکھنے والے مختلف سیاسی دھڑے ایڑیاں اٹھا اٹھا کر ایک چھتری تلے کھڑے ہوتے ہیں اور اپنا حجم بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی برتے پر وہ شہر کی اکثریتی عوامی قوت کی سیاسی حیثیت کو چیلنج کرتے ہیں۔ جو حربے آزمائے جاتے ہیں وہ ریاضی کے حساب میں تو ٹھیک بیٹھتے ہیں مگر پولیٹیکل سائنس کی کتاب میں ٹھیک نہیں بیٹھتے۔ جب تک سیاسی اوزان میں یہ مصرع ٹھیک نہیں بیٹھے گا تب تک غزل آگے نہیں بڑھے گی۔

ہمیں اِ س بات کا بھی تجزیہ کرنا ہو گا کہ اسلام آباد کی دستاویزات میں وہی رہنما ناپسندیدہ کیوں لکھے جاتے ہیں جنہیں علاقائی سطح پر عوامی پذیرائی حاصل ہوتی ہے۔ اگر مسئلے کے حل میں دلچسپی ہو تو اس سوال کی ترتیب کو الٹا بھی جاسکتا ہے۔ جو لوگ اسلام آباد کی دستاویزات میں محب وطن ہوتے ہیں، علاقائی سیاست میں وہی لوگ مردود کیوں ٹھہرتے ہیں؟

جب وفاق علاقائی طاقتوں کو نظر انداز کرے تو سمجھ جانا چاہیے کہ اشرافیہ کے مفاد میں اور عوامی مفاد میں واضح تصادم پیدا ہو گیا ہے۔ حالات اگر خون ریز ہیں تو مطلب صاف ہے کہ اشرافیہ اپنے مفاد پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتی۔ یہی وجہ ہے کہ صورتِ حال پر سیاسی طور پر قابو پانے کی بجائے کچھ ایسی صورت حال پیدا کر دی جاتی ہے کہ علاقائی طاقتیں تلخیاں اگلنے پر مجبور ہو جائیں۔

لوگ اس امید پر تلخ ہو جاتے ہیں کہ شاید بات سن لی جائے گی۔ ہوتا مگر یہ ہے کہ سننے سنانے سے پہلے تلخیوں کا حساب مانگ لیا جاتا ہے۔ یہی تو وجہ ہے کہ اس ملک میں اپنا بنیادی انسانی حق مانگنے والا کوئی شہری اگر ناراض ہو جائے تو طاقتور حلقے تشویش میں مبتلا نہیں ہوتے۔ خوش ہو جاتے ہیں کہ چلو غداری کا کیس بنانے کے لیے کوئی جواز تو ہاتھ آیا۔

مولانا بھاشانی کو آل پارٹیز کانفرنس میں بلا کر یہ تو ثابت کیا جاسکتا ہے کہ بنگلہ دیش کی نمائندگی موجود ہے، مگر اس بات سے بنگلہ دیش کے سیاسی ضمیر کو مطمئن نہیں کیا جا سکتا۔ عوام اگر شیخ مجیب کو اپنا نمائندہ سمجھتے ہیں تو اس بات پر سزا نہیں بنتی، غور وفکر بنتا ہے۔

 

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ