آواز ہوبہو لتا جیسی مگر کیریئر ناکام

لتا کی آواز سے مشابہت سمن کلیان پور کی سب سے بڑی خوبی تھی، مگر یہی ان کی سب سے بڑی خامی بھی ثابت ہوئی۔

محمد رفیع کے لتا کے ساتھ تنازعے کی وجہ سے سمن کلیان پور کو رفیع کے ساتھ بہت سے  گیت گانے کو ملے (پبلک ڈومین)

17 سالہ سمن نے فلمی جریدے میں شائع ہونے والی اس خبر کو سرسری انداز سے پڑھا جس میں لتا منگیشکر اور محمد رفیع نے رائلٹی کے تنازعے کی وجہ سے ایک دوسرے کے ساتھ گلوکاری نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

لتا منگیشکر کا مطالبہ تھا کہ ریڈیو اور دوسرے ذرائع سے نشر ہونے والے گانوں پر متعلقہ گلوکاروں کو معاوضہ دیا جائے جبکہ محمد رفیع نے اس کی مخالفت کی تھی۔ ان کا موقف تھا کہ جب پروڈیوسر گلوکاروں کو ایک بار معاوضہ دے دیتے ہیں تو اس کے بعد اضافی رقم کی مانگ کسی صورت درست نہیں۔

سمن کو اندازہ نہیں تھا کہ جس خبر کا وہ سرسری انداز میں مطالعہ کر رہی ہیں، وہ ان کی پیشہ ورانہ زندگی کا رخ کس قدر تبدیل کرکے رکھ دے گی کیونکہ 60 کی دہائی کا یہ وہ دور تھا جب سمن کلیان پور فلم نگری میں اپنے قدم جمانے کی جستجو میں لگی ہوئی تھیں۔

کولکتہ میں جنم لینے والی سمن کلیان پور انتہائی کم عمری میں بمبئی آ کر آباد ہوئیں۔ جہاں آس پڑوس سے ملکہ ترنم نور جہاں، ثریا، زہرہ بائی اور لتا منگیشکر کے گانے جب کانوں پر پڑتے تو وہ کچھ سمجھ نہ آنے کے باوجود پھر بھی گنگناتی رہتیں۔ جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا تو گلوکاری کا یہ شوق اب پروان چڑھ چکا تھا۔ اسی دوران جب سمن کلیان پور نے کالج میں گلوکاری کی تو مہمانوں میں طلعت محمود بھی تھے، جن کی جوہر شناس نگاہوں نے سمن کلیان پور کے ٹیلنٹ کو پرکھ لیا، جبھی انہیں فلموں میں گانے کا مشورہ ہی نہیں بلکہ ان کی سفارش بھی کئی موسیقاروں سے کی۔

خوش قسمتی سے سمن کلیان پور کو 1953 میں فلم ’منگو‘ کے ذریعے گلوکاری کا موقع ملا، ان کی آواز میں غیر معمولی مٹھاس اور ترنم تھا جو دلوں کے تار چھیڑنے کے لیے کافی تھا۔ اس دوران انہوں نے فلم ’دروازہ‘ کے لیے بھی گلوکاری کی لیکن جس گیت نے انہیں مقبولیت دلائی وہ فلم ’آر پار‘ کا ’محبت کر لو جی بھر کے‘ رہا۔ موسیقار او پی نیر کی کمپوزیشن میں تیار اس گانے میں سمن کلیان پور کی مختصر سی گلوکاری تھی، کیونکہ اصل گیت تو گیتا دت اور محمد رفیع کا تھا، لیکن سمن کلیان پور نے اس ننھے سے ٹکڑے میں بھی بہترین گلوکاری دکھائی۔ کئی تو ابتدا میں یہ سمجھے کہ یہ ٹکڑا لتا منگیشکر نے گایا ہے لیکن ان کی یہ غلط فہمی اُس وقت دور ہوئی جب ان کے علم میں آیا کہ یہ نئی ابھرتی ہوئی گلوکارہ سمن کلیان پور ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لیکن لتا منگیشکر سے مشابہت رکھتی آواز ہی ان کی سب سے بڑی راہ کی رکاوٹ بنتی جا رہی تھی۔ وہ فلم ساز جو لتا منگیشکر کے بھاری معاوضے اور تاریخوں کی عدم دستیابی کو برداشت نہیں کر پاتے تھے وہ سمن کلیان پور کی جانب آتے، انہیں زیادہ تر وہ گانے ملتے جن پر لتا منگیشکر کا پہلے حق ہوتا اور یہ بات اس گلوکارہ کو پسند نہ آتی لیکن فلم نگری میں اپنا وجود برقرار رکھنے کے لیے وہ اس ستم کو بھی برداشت کر جاتیں۔

1960 میں موسیقار ہیمنت کمار نے انوکھا اور منفرد تجربہ کیا۔ فلم ’چاند‘ کے گانے ’کبھی آج کبھی کل کبھی پرسوں‘ میں ایک ساتھ لتا منگیشکر اور سمن کلیان پور کی آواز استعمال کی اور گیت سننے کے بعد ہر کوئی اس سوچ میں مبتلا ہو جاتا کہ اس میں سے لتا کون سی ہے اور سمن کون؟

سمن کلیان پور نے لتا رفیع تنازعے کی خبر سے سجا فلمی جریدہ ایک طرف رکھا اور ریاض میں مگن ہو گئیں۔ وہ اس بات سے بے خبر تھیں کہ اب ان کا کیرئیر ایک نئی کروٹ لینے والا ہے۔ بالی وڈ کے دو بڑے فنکاروں کی یہ لڑائی طول پکڑ رہی تھی اور ایسے میں ان فلم سازوں کی تخلیقات تعطل کا شکار ہو رہی تھیں جن کی فلموں میں ان دو عظیم گلوکاروں کی دوگانے تھے۔ وہ خاصے پریشان اور فکر مند تھے۔ گانے ریکارڈ ہوتے تو وہ عکس بندی کراتے۔

ایسی صورت حال میں جہاں آشا بھوسلے اور گیتا دت کی خدمات حاصل کی جا رہی تھیں، لیکن لتا کی کمی بہرحال اپنی جگہ باقی تھی۔ وہی لتا منگیشکر کی کمی دور کرنے کے لیے موسیقاروں کو اچانک ہی سمن کلیان پور کا خیال آیا، وہ درحقیقت لتا کی بہترین نعم البدل ثابت ہو سکتی تھیں، جن کے ساتھ گلوکاری کرنے میں محمد رفیع کو بھی کوئی اعتراض نہیں تھا۔

یوں کئی موسیقاروں نے لتا اور رفیع کے اس تنازعے کا حل ڈھونڈ نکالا تھا۔ جبھی سمن کلیان پور پر یکدم فلموں کی برسات ہو گئی۔ ’دل ایک مندر‘ میں ’او میری لاڈلی‘ اور ٹائٹل گیت تو جیسے ہر جانب سمن کلیان پور کی دھوم مچ گئی، اسی طرح فلم ’دل ہی تو ہے‘ میں ساحر کا لکھا ’یونہی دل نے چاہا تھا رونا رلانا،‘ جبکہ ’نور جہاں‘ کا ’بعد مدت کے یہ گھڑی آئی‘ میں سمن کلیان پور کی آواز کا جاد و سر چڑھ کر بولا۔

اسی دوران لتا اور دگج سنگیت کار ایس ڈی برمن کے درمیان بھی کُٹی ہو گئی۔ ایس ڈی برمن نے ان کے متبادل کے لیے ادھر ادھر دیکھا تو سمن سامنے کھڑی نظر آئیں۔ اس شراکت کے نتیجے میں چار گیت سامنے آئے جن میں سے کم از کم دو شاہکار کا درجہ رکھتے ہیں، جن میں ’نہ تم ہمیں جانو‘ اور ’یہ کس نے گیت چھیڑا‘ شامل ہیں۔ 

دلچسپ بات یہ ہے کہ لتا رفیع تنازعے کے چار سال کے دوران سمن کلیان پور نے لگ بھگ 140 گانے محمد رفیع کے ساتھ گائے۔ شنکر جے کشن، نوشاد، ہیمنت کمار، ایس ڈی برمن جیسے موسیقار سمن پر اب اعتماد کرنے لگے تھے۔ اس دور میں انہوں نے صرف رفیع ہی نہیں مکیش‘ مناڈے اور یہاں تک ہیمنت کمار تک کے ساتھ گلوکاری کا مظاہرہ کیا۔

 رفیع اور لتا منگیشکر کی دوستی ہوئی تو موسیقاروں نے سمن کلیان پور کو نظر انداز نہیں کیا۔ ان کا کیریئر اب ایک نئے دور میں داخل ہوگیا تھا۔ لیکن اب بھی ان کی آواز پر لتا منگیشکر کی چھاپ لگی ہوئی تھی۔ آنے والے دنوں میں سمن کلیان پور کا جو گیت سب سے زیادہ مقبول ہوا وہ  ’برہمچاری کا ’آج کل تیرے میرے پیار کے چرچے‘ رہا۔ اسی طرح ’نہ نہ کرتے پیار تمہی سے کر بیٹھے،‘ ’ہے ناں بولو بولو، بہنا نے پیار کی کلائی سے پیار باندھا ہے‘ اور ’تم نے پکارا ہم چلے آئے‘ نمایاں رہے۔

جبکہ فلم ’پاکیزہ‘ میں سمن کلیان پور کی آواز میں ’لے کر انگڑائی‘ موسیقار غلام محمد نے ریکارڈ کرایا۔ لیکن بدقسمتی سے یہ گانا فلم میں شامل نہیں کیا گیا۔

سمن نے مراٹھی، آسامی، گجراتی، بھوجپوری، راجستھانی، بنگالی اور پنجابی تک میں گلوکاری کی۔

کہا جاتا ہے کہ 1966 میں ریلیز ہونے والی فلم ’ممتا‘ کے لازوال گیت ’رہیں نہ رہیں ہم مہکا کریں گے‘ کو لتا منگیشکر کے علاوہ سمن کلیان پور نے بھی گایا تو لتا منگیشکر نے اس پر خاصا اعتراض کیا۔ دونوں کی گلوکاری میں رتی برابر بھی فرق نہیں تھا۔ لتا منگیشکر اسی بنا پر سمن کلیان پور کو اپنے لیے خطرہ تصور کرنے لگیں۔

دھیرے دھیرے سمن کلیان پور کی گلوکاری فلموں کے لیے کم سے کم ہوتی گئی لیکن وہ جو بھی گیت گاتیں وہ دلوں پر اثر کر جاتا۔ جیسے 1978 کی فلم ’بدلتے رشتے‘ کا ٹائٹل سونگ ہو یا پھر 1981 میں ریلیز شدہ فلم ’نصیب‘ کا گیت ’زندگی امتحان لیتی ہے‘ سمن کلیان پور کے بہترین شاہکاروں میں سے ایک ہے۔

ممکن ہے کہ وہ اور گیت گاتیں لیکن لتا منگیشکر کی ناراضگی کا خطرہ کوئی موسیقار نہیں چاہتا تھا۔ اسی بنا پر کئی موسیقاروں نے جان بوجھ کر سمن کلیان پورکو بھلانا شروع کر دیا اور یوں سمن کلیان پور کو لتا منگیشکر کی آوازسے مشابہت کی خوبی نے وقت سے پہلے ہی گھر بیٹھنے پر مجبور کر دیا۔

لتا کی آواز سے مشابہت سمن کی سب سے بڑی خوبی تھی، مگر یہی اس کی سب سے بڑی خامی بھی ثابت ہوئی۔

زیادہ پڑھی جانے والی موسیقی