مریم اور شہباز میں فرق

پاکستانی سیاست میں پیشیوں کا موسم شروع ہونے کو ہے۔ آنے والے دن بتائیں گے کہ اس جارح سیاست دان کے پھر سے متحرک ہونے کی خبر سے کتنوں کے دل ڈوبے جا رہے ہیں۔

کہیں چچا اکیلے نظر آتے ہیں، کہیں بھتیجی کے قافلے میں ایک بھی چچا زاد ساتھ نہیں ہوتا(اے ایف پی)

پاکستان میں سیاست کے سب ستارے گنتی کے کچھ خاندانوں کے گرد گھومتے ہیں۔ یہاں انتخابات میں نسل، ذات، اعلیٰ خون، سیاسی خان وادے جیت جاتے ہیں میرٹ یا کارکردگی منمناتی سی رہ جاتی ہے۔

اس لیے آپ اور ہمارے ماننے یا نہ ماننے سے نسل در نسل منتقل ہونے والی سیاسی گدی نشینی کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بالکل ویسے ہی  پارٹی قیادت کی وراثت ابا سے بیٹی، یا ماں سے بیٹے کو مل جانے پر ان کے کارکنوں کی عقیدت اور بھی پکی اور گہری ہو جاتی ہے۔

پاکستانی سیاست میں موروثیت کی قبولیت کا پہلا کڑوا گھونٹ بہرحال پی لیں تو دوسری حقیقت قبول کرنے کے لیے بھی تیار رہیں۔ اس حقیقت کا نام مریم نواز ہے۔

یہ تحریر آپ مصنفہ کی آواز میں یہاں سن بھی سکتے ہیں

 

مریم نواز کے دادا میاں محمد شریف سٹیل انڈسٹری میں بڑا نام تھے۔ وہ تجارتی آدمی تھے مگر سیاسی سوجھ بوجھ اس زمانے کے سیاست دانوں سے بھی زیادہ رکھتے تھے۔ اسی لیے حلقہ اشرافیہ میں جانے پہچانے جاتے تھے۔ کچھ عرصہ قبل اسلام آباد کے مارگلہ روڈ پر واقع احمد رضا قصوری کے بنگلے پر جانا ہوا، سیاسی موضوعات ہی زیر بحث تھے کہ ہنس کر کہنے لگے میرے ساتھ آئیں آپ کو کچھ دکھاتا ہوں۔ یہ قصوری صاحب کی رہائش گاہ کا مرکزی آہنی دروازہ تھا جو خاصا لمبا چوڑا اور بھاری بھر کم تھا۔

گیٹ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے قصوری صاحب کہنے لگے: ’یہ دروازہ اتفاق فاونڈری کے لوہے کا ہے، مہر لگی ہے، میرے ایک بار کہنے پر میاں صاحب نے اس بنگلے کی تعمیر کے لیے لوہے سے لدے ٹرک بھیج دیے تھے۔‘ ساتھ ہی کہنے لگے ’نواز شریف ایک پولیٹیکل سوسائڈر ہے، ان سے زیادہ سیاسی بصیرت تو ان کے والد کے پاس تھی۔‘

قصوری صاحب کا تجزیہ درست ہے یا نہیں اس کا اندازہ اہل خرد خود لگائیں، لیکن وقت یہ بتاتا ہے کہ میاں محمد شریف کی پوتی مریم نواز سیاست میں وہی حربے اور وہی گر استعمال کر رہی ہیں جو برمحل ہوں، پاپولر ہوں، مخالفین کی نیندیں اڑانا جانتے ہوں اور اپنے ووٹ بینک کو مٹھی میں دبائے رکھنے کے قابل ہوں۔ شاید اس کی یہ وجہ بھی ہے کہ ان کے پیچھے میاں نواز شریف کے ناکام اور کامیاب سیاسی تجربات کا نچوڑ بھی شامل ہے۔

کراچی میں شہباز شریف کا دورہ بس واجبی سا رہا۔ اس کی وجہ شاید کراچی میں ن لیگ کا ووٹ بینک نہ ہونا بھی ہے لیکن اتنا یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ اگر مریم کراچی جاتیں تو چرچا ہی کچھ اور ہوتا۔

پنجاب کی سیاست میں مسلسل موجود رہنے والے حمزہ شہباز نیب کے چکر لگاتے ہیں لیکن کوئی بڑی خبر نہیں بن پاتی۔ شہباز شریف اپوزیشن رہنماوں سے مل لیتے ہیں لیکن کسی کے سر کا درد نہیں بن پاتے لیکن ادھر مریم نواز کی چند ساعتوں کی عدالتی پیشی بھی سیاسی پاور شو بن جاتی ہے۔ یہ فرق ہے چچا اور بھتیجی میں۔

کہیں چچا اکیلے نظر آتے ہیں، کہیں بھتیجی کے قافلے میں ایک بھی چچا زاد ساتھ نہیں ہوتا۔ کہیں چچا اپنے بڑے بھائی کے استقبال کو نہیں پہنچ پاتے کہیں بھتیجی کو کہنا پڑتا ہے کہ اختلاف رائے تو حسن ہے۔ آگے سیاست کے اور بھی کئی امتحان آنے کو ہیں۔ میاں نواز شریف کو چاہیے کہ چچا بھتیجی کا یہ معاملہ ایک ہی بار حل کر لیا جائے۔

ان بکھیڑوں سے بچنے کے لیے ن لیگ کو باضابطہ طور پر پارٹی کی باگ مریم نواز کے ہاتھ میں تھما دینی چاہیے۔ ن لیگ کے سامنے پیپلزپارٹی کی مثال موجود ہے۔ مرتضیٰ بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی آپسی لڑائی نے پیپلز پارٹی کو ماضی میں شدید نقصان پہنچایا۔ مرتضیٰ کھلم کھلا کہتے تھے کہ انہیں اپنی بہن کا انداز سیاست پسند نہیں۔ ان کے اپنے بہنوئی زرداری سے بھی اچھے تعلقات نہ تھے۔ یہ خاندانی ٹینشن سیاسی طور پر بھٹو خاندان کے لیے ایک چیلنج بنی رہی۔ آج بھی فاطمہ بھٹو اور ذوالفقار بھٹو جونئیر کی راہیں اپنی پھپو کے بچوں بلاول، بختاور اور آصفہ سے جدا ہیں۔

رہ گئی بات مریم اور حمزہ کے درمیان موروثی سیاست کا تاج پہننے کی تو یہ بھی وقت کے ساتھ بہت واضح ہوچکا ہے۔ نواز شریف کے بیٹوں حسن، حسین اور بیٹی اسما نے خود کو سیاست سے دور رکھا۔ شہباز شریف کے بیٹوں میں بھی صرف حمزہ نے مرکزی دھارے کی سیاست کی لیکن قومی سیاست میں وہ مکمل طور پر غیر متعلقہ سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی ایسی واہ واہ نہ ہوسکی جو عوامی مقبولیت مریم کے حصے میں آئی۔ سیاست تو کھیل ہی عوامی مقبولیت کا ہے تو پھر پارٹی بطور ورثہ مریم کی جھولی میں کیوں نہ آگرے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کیا وجہ ہے کہ ایک مردانہ سبقت پر یقین رکھنے والے معاشرے میں مریم نواز ترجیح بن گئیں؟

اس کی پہلی اور آخری وجہ مریم نواز کا جارحانہ مزاج ہے۔ یہ مریم نواز کی فطرت نہیں لگتی کہ وہ درمیانی راہ نکالیں۔ وہ نپے تُلے جواب دینے کی عادی نہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر گفتگو کرتے ہوئے بھی سب نے دیکھ لیا کہ وہ مبہم پیغام پر بھی یقین نہیں رکھتیں۔ مقتدر حلقوں کو دو ٹوک مخاطب کرنے اور سیاست میں کھلم کھلا دشمن بنانے کی عادی۔

 ایک تو اپنا مزاج ہوتا ہے دوسرا وقت اور حالات نے بھی مریم نواز کو ایک جارح سیاست دان بننے کا بھرپور موقع دیا۔ مریم نے بھی وقت کی آواز پہ لبیک کہا اور پانامہ مقدمے کی ابتدا سے آج تک ہر طرح کے سیاسی حالات میں ابھر کر سامنے آئیں۔

سیاسی شطرنج کھیلنے والے پرانے کھلاڑیوں کو خوب اندازہ ہوگیا ہے کہ مریم صرف نواز شریف کی بیٹی نہیں، چیلنج بن جانے والی سیاست دان ہیں۔

مریم نواز جب دل کرتا ہے چپ ہو بیٹھتی ہیں اور جب مخالفین کی نیندیں اڑانا مقصود ہو تو بول پڑتی ہیں۔ وہ مصلحتاً مہینوں خاموش رہنا بھی جانتی ہیں اور نتائج سے بے پرواہ ہو کر منصوبہ سازوں کو براہ راست للکارتی بھی خوب ہیں۔ وہ ٹوئٹر پر کھانے کی ترکیبیں پسند کرتی ہیں اور جب موڈ ہو تو اسی ٹوئٹر پر بے باک سیاسی بیان دینے سے بھی نہیں چوکتیں۔ اس لیے نواز شریف کی واپسی کے لیے سیٹ بیلٹ کسنے والوں کو بھی اندازہ ہے کہ واپسی ہو گئی تو سامنا ایک نہیں دو سے ہوگا۔

 سیاست کے سیانے اکثر یہ کہتے رہے کہ نواز شریف کو ان کی بیٹی کا جارحانہ انداز لے ڈوبا۔ پاکستانی سیاست میں پیشیوں کا موسم شروع ہونے کو ہے۔ آنے والے دن بتائیں گے کہ اس جارح سیاست دان کے پھر سے متحرک ہونے کی خبر سے کتنوں کے دل ڈوبے جا رہے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ