بھارت چین سرحدی تنازعے میں ثالثی پر خوشی ہو گی: ٹرمپ

ٹرمپ ماضی میں بھی دونوں جوہری ہتھیاروں سے لیس ممالک کے درمیان ثالثی کرانے کی پیش کش کر چکے ہیں۔ چین نے کہا ہے کہ ثالثی کے لیے کسی تیسرے فریق کی ضرورت نہیں ہے جب کہ بھارت نے بھی اس پیش کش پر گرم جوشی کا اظہار نہیں کیا تھا۔

(اے ایف پی)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مغربی ہمالیہ کی سرحد پر بھارت اور چین کے درمیان تنازع حل کرنے میں مدد کرنے پر امریکہ کو خوشی ہو گی۔

ٹرمپ نے جمعے کی شب صحافیوں کو بتایا کہ متنازع سرحد پر دونوں ممالک کے درمیان صورت حال انتہائی کشیدہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بھارت اور چین توقعات سے بھی زیادہ جارحانہ انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔

جمعے کو ہی ماسکو میں بھارت اور چین کے وزرائے دفاع کے درمیان بات چیت ہوئی جو جون میں متنازع پہاڑی سرحد پر خونریز تصادم بھڑک اٹھنے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ ترین سطح پر پہلا سیاسی رابطہ ہے۔

امریکی سرکاری ذرائع نے روئٹرز کو بتایا کہ واشنگٹن کا خیال ہے کہ چین اور نہ ہی بھارت اس تنازع کو اس مقام پر لے جانے میں دلچسپی رکھتے ہیں جہاں یہ بات باقاعدہ جنگ تک پہنچ جائے۔

ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ایک نیوز بریفنگ کے دوران اس تنازع کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن دونوں ممالک کے ساتھ بات کر رہا ہے کہ وہ کشیدگی کو کم کرنے میں کیا مدد کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا: ’ہم چین اور بھارت کو اس (کشیدہ صورت حال) سے نکلنے میں مدد دینے کے لیے تیار ہیں۔ اگر ہم کچھ بھی کرسکتے ہیں تو ہمیں اس میں شامل ہونے اور مدد کرنے میں خوشی ہو گی۔‘

ٹرمپ ماضی میں بھی دونوں جوہری ہتھیاروں سے لیس ممالک کے درمیان ثالثی کرانے کی پیش کش کر چکے ہیں۔ چین نے کہا ہے کہ ثالثی کے لیے کسی تیسرے فریق کی ضرورت نہیں ہے جب کہ بھارت نے بھی اس پیش کش پر گرم جوشی کا اظہار نہیں کیا تھا۔

ادھر ماسکو میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس کے موقع پر چین اور بھارت کے وزرائے دفاع نے ملاقات کی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

چینی سرکاری اخبار ’گلوبل ٹائمز‘ کے مطابق ماہرین نے بتایا کہ یہ ملاقات دونوں فریقوں کے لیے موجودہ تناؤ کے بارے میں خیالات کا تبادلہ کرنے اور ’غلط فہمیوں‘ کی وجہ سے زیادہ شدید محاذ آرائی سے بچنے کا ایک موقع فراہم کرتی ہے۔

بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ ایس سی او اجلاس کے موقعے پر چینی وزیر دفاع وی فینگی نے اپنے بھارتی ہم منصب راج ناتھ سنگھ ملنے کی درخواست کی تھی اور دونوں ممالک کے سفارت خانے اس پر کام کر رہے تھے۔

تاہم گلوبل ٹائمز کا کہنا ہے کہ چین نے ایسی کوئی درخواست نہیں کی ہو گی لیکن بیجنگ مذاکرات کے ذریعے موجودہ تناؤ کو ختم کرنے کی کوششوں سے انکار بھی نہیں کرتا۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت ہوئی ہے جب گذشتہ ہفتے اور پیر کو دونوں ممالک کی افواج کے درمیان لداخ کی متنازع سرحد پر ایک بار پھر تصادم کی رپورٹس سامنے آئی تھیں جن میں بھارتی سپیشل فورس کے ایک اہلکار کی ہلاکت کی اطلاع  بھی شامل تھی۔

1962 میں سرحدی تنازعے پر جنگ لڑنے والی ان دو ایٹمی طاقتوں نے ایک دوسرے پر ہفتے کی شب اور پھر پیر کو لداخ کی متنازع سرحد عبور کرنے کا الزام لگایا تھا۔

تبتی پارلیمنٹ کی جلاوطن رکن نامغیال ڈولکر لہگیاری نے بتایا تھا کہ تازہ جھڑپ میں بھارتی سپیشل فرنٹیئر فورس (ایس ایف ایف) کا ایک اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا تھا۔

اس سے قبل 15 جون کو دہائیوں بعد ہونی والی بدترین جھڑپ، جس میں 20 بھارتی فوجی مارے گئے تھے، کے بعد دونوں ممالک نے لداخ کے اس خطے میں دسیوں ہزار اضافی فوجی تعینات کیے تھے۔

دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کو ان تازہ ترین جھڑپوں کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا