بھارت اور چین کا پھر ایک دوسرے پر لداخ میں 'اشتعال انگیزی' کا الزام

چینی فوج کے مطابق بھارتی فوجیوں نے پیر کو جھیل پینگونگ سو کے قریب سرحد عبور کرکے اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کیا، جبکہ بھارت کا کہنا ہے کہ چینی فوجیوں نے گذشتہ ہفتے کے اختتام پر فوجی کارروائی کی۔

ایک بھارتی فائٹر طیارہ لداخ کے علاقے میں محو پرواز ہے (فائل تصویر: اے ایف پی)

بھارت اور چین نے پیر کو ایک دوسرے پر مشرقی لداخ میں واقع سرحد پر فوجی اشتعال انگیزی کا الزام عائد کیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق چین کی فوج نے بتایا کہ 'بھارتی فوجیوں نے  پیر کو جھیل پینگونگ سو کے قریب سرحد عبور کرکے اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کیا، جس کی وجہ سے سرحدی صورت حال کشیدہ ہوگئی۔'

پیپلز لبریشن آرمی کی علاقائی کمان نے بھارت پر 'چین کی علاقائی خودمختاری کی خلاف ورزی' کا الزام عائد کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا: 'چینی فوج ضروری جوابی کارروائی کررہی ہے۔'

اس سے قبل پیر کو بھارتی وزارت دفاع نے کہا تھا کہ چینی فوجیوں نے گذشتہ ہفتے کے اختتام پر مشرقی لداخ کے علاقے میں 'زمینی حقائق' کو تبدیل کرنے کے لیے 'اشتعال انگیز فوجی کارروائی کی۔'

دونوں طرف کے فوجی کمانڈروں نے پیر کو تناؤ کو کم کرنے کے لیے بات چیت بھی کی۔ واضح رہے کہ بھارت اور چین کے مابین 1962 میں سرحدی جنگ لڑی جاچکی ہے اور اس کے بعد سے اب تک دونوں ملکوں کے درمیان مسلسل جھڑپیں جاری ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اگرچہ چین نے ہفتے کے روز ہونے والے واقعے کی تصدیق نہیں کی، لیکن چینی وزارت خارجہ نے کہا کہ اس کے فوجیوں نے لائن آف ایکچوئل کنٹرول کے نام سے جانی جانے والی غیر سرکاری سرحد کا 'ہمیشہ سختی سے احترام' کیا ہے۔

اس سے قبل 15 جون کو بھارت اور چین کی فوج کے مابین لداخ کی وادی گلوان میں ہونے والی ایک جھڑپ میں 20 بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔ چین کی جانب سے اپنے فوجیوں کی ہلاکتوں کا اعتراف کیا گیا تھا لیکن اعداد و شمار نہیں بتائے گئے تھے۔

اس جھڑپ کے بعد ذرائع کے حوالے سے یہ رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ چینی فوج نے بھارتی فوج کی 16 بہار رجمنٹ کے اہلکاروں پر حملہ آور ہونے کے لیے جدید ہتھیاروں کی بجائے لوہے کی سلاخوں اور خاردار تار سے لپٹی لاٹھیوں کا استعمال کیا تھا جبکہ چینی فوجیوں کا رویہ اس قدر جارحانہ تھا کہ بعض بھارتی فوجیوں نے ان کے غیظ و غضب سے بچنے کے لیے دریائے گلوان میں چھلانگ لگا کر اپنی جانیں دیں۔

ان جھڑپوں کے لیے بھی دونوں فریق ایک دوسرے کو مورد الزام قرار دیتے ہیں اور اس کے بعد دونوں نے خطے میں کئی ہزار مزید فوجی تعینات کردیے ہیں جبکہ فوجی اور سفارتی مذاکرات بھی بظاہر تعطل کا شکار ہیں۔

فوجیوں کی تعداد میں اضافہ

جھیل پینگونگ سو ان کئی ہاٹ سپاٹس میں سے ایک ہے، جہاں جون کے بعد سے فوجیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ 

بھارتی وزارت دفاع کا کہنا ہے: 'بھارتی فوج نے پینگونگ سو جھیل کے جنوبی کنارے پر پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کی کارروائی کو روکا، ہماری پوزیشنز کو مستحکم کرنے کے لیے اقدامات کیے اور زمینی حقائق کو بدلنے کے چینی یکطرفہ ارادے ناکام بنائے۔'

مزید کہا گیا کہ دونوں طرف کے سینیئر افسران نے جائے وقوعہ کے قریب سرحدی پوسٹ پر ملاقات بھی کی۔ 

نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بھارتی فوجی ذرائع نے بتایا کہ بھارتی فوجیوں نے لائن آف کنٹرول کو پار کرنے والے چینی فوجیوں کو پیچھے دھکیل دیا۔

ایک بھارتی ذرائع نے بتایا: 'پی ایل اے کے فوجی پینگونگ کے جنوبی کنارے کے قریب ہمارے علاقے میں داخل ہوئے مگر ہمارے فوجی تیار تھے اور انہیں بغیر کسی تشدد کے واپس دھکیل دیا۔'

انہوں نے مزید کہا: 'کچھ گھنٹوں کے بعد انہوں نے پھر واپس آنے کی کوشش کی مگر ہم اپنی جگہ پر ڈٹ کر کھڑے رہے۔ اس علاقے میں ماضی میں ایسی کوئی محاذ آرائی نہیں ہوئی۔'

دوسری جانب چین کی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ چینی فوج نے 'ہمیشہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول کا احترام کیا ہے اور اسے کبھی پار نہیں کیا۔' 

چینی وزارے خارجہ کے ترجمان زاؤ لیجیان نے ایک پریس بریفنگ میں کہا: 'گراؤنڈ پر صورت حال کے حوالے سے دونوں فریقین کی سرحد پر تعینات فوج کے درمیان رابطے قائم ہیں۔'

ملک میں چینی مصنوعات کے بائیکاٹ کے مطالبوں کے ساتھ ساتھ بھارت نے جون میں ہونے والی جھڑپوں کے بعد چین پر معاشی دباؤ بڑھا رکھا ہے اور متعدد بار تنبیہ کرچکا ہے کہ اگر چین نے فوجیوں کو واپس نہیں بلایا تو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات پر اثر پڑے گا۔ 

بھارت نے ٹک ٹاک سمیت 49 چینی ایپس پر پابندی عائد کر رکھی ہے جبکہ چینی کمپنیوں سے کنٹریکٹ معطل اور کسٹمز بندرگاہوں پر چینی مصنوعات کو روک کر رکھا ہے۔ 

دوسری جانب چین نے ان اقدامات کے حوالے سے خبرادر کیا ہے کہ ان سے بھارتی صارفین کا ہی نقصان ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا