احتساب عدالت: زرداری پر فرد جرم عائد، نواز شریف مفرور قرار

قومی احتساب بیورو نے سابق صدر آصف علی زرداری اور سابق وزرائے اعظم نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی پر غیر ملکی سربراہان مملکت کے ذریعے سرکاری تحائف کے ناجائز استعمال کا الزام عائد کیا ہے۔  

(اے ایف پی)

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے توشہ خانہ ریفرنس میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری سمیت سابق وزیر اعظم (یوسف رضا گیلانی) پر فرد جرم عائد کر دی ہے۔

مسلسل غیر حاضری کے باعث عدالت نے پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کو بھی فرار مجرم قرار دیا۔ 

عدالت نے میاں نواز شریف کی جائیداد کا ریکارڈ سات دن میں طلب کرتے ہوئے اس کی ضبطی کا حکم بھی دیا۔ 

یاد رہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) نے سابق صدر آصف علی زرداری اور سابق وزرائے اعظم نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی پر غیر ملکی سربراہان مملکت کے ذریعہ سرکاری تحائف کے ناجائز استعمال کا الزام عائد کیا ہے۔  

ریفرنس کے مطابق صدارت کے دور میں آصف علی زرداری کو غیر ملکی ریاستوں سے تحفے کے طور پر گاڑیاں موصول ہوئیں جن کی انہوں نے نہ تو اطلاع دی اور نہ توشہ خانہ میں جمع کرائیں۔ 

نیب ریفرنس کے مطابق یوسف رضا گیلانی نے غیرقانونی طور پر غیر ملکی تحائف کو برقرار رکھنے کی اجازت دی تاکہ آصف زرداری اور نواز شریف کو غیر قانونی فوائد حاصل ہوں۔  

نیب دستاویز میں کہا گیا ہے کہ آصف زرداری اور نواز شریف نے مبینہ بے ایمانی اور غیر قانونی ذرائع کے ذریعہ گاڑیوں کی کل قیمت کا 15 فیصد حصہ ادا کر کے مذکورہ گاڑیاں اپنے پاس رکھیں۔ 

نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ سابق صدرآصف زرداری نے اپنے جعلی کھاتوں کا استعمال کرکے صرف 15 فیصد کاروں کی قیمت ادا کی۔  

نیب کے مطابق لیبیا اور متحدہ عرب امارات نے آصف زرداری کو کاریں تحفے میں دیں تھیں جب وہ صدر کے عہدے پر فائز تھے۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 نیب کے عہدے دار نے دعویٰ کیا کہ آصف علی زرداری نے ان کاروں کو توشہ خانہ میں بھیجنے کے بجائے اپنے ذاتی کام کے لیے استعمال کیا۔ 

سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے کبھی کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا۔ میں نے عدالت کو بتایا ہے کہ سمری قانون کے مطابق منظور کی گئی تھی اور غلط استعمال نہیں کیا گیا تھا۔ 

یاد رہے کہ سربراہان مملکت یا حکومت کو غیر ملکی معززین کی جانب سے ملنے والے تحائف کے مطابق توشہ خانہ (گفٹ ڈپازٹری) میں جمع کروائے جاتے ہیں۔ یہ تحائف ریاست کی ملکیت سمجھے جاتے ہیں جب تک کہ کھلی نیلامی میں فروخت نہ ہوں۔  

تاہم مبینہ طور پر سابق حکمرانوں نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا ہے اور دفتر میں یا رخصتی کے بعد غیر قانونی طور پر ان کے اپنے یا کنبے کے استعمال کے لئے تحائف اپنے پاس رکھے ہیں۔  

2010 کی ایک رپورٹ کے مطابق آصف زرداری پر الزام ہے کہ انہوں نے اقتدار سنبھالنے کے ایک سال کے اندر اندر تمام سابقہ حکمرانوں کو پیش کیے گئے مہنگے تحائف کا ایک تہائی اپنے پاس برقرار رکھا۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان