ٹرمپ نوبیل امن ایوارڈ جیت لیں گے؟

ڈونلڈ ٹرمپ اگر اسرائیل ۔ امارات معاہدے پر نوبیل انعام پاتے ہیں تو وہ یہ اعزاز پانے والے پانچویں امریکی صدر ہوں گے۔

یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ صدر ٹرمپ، امریکہ کی طاقت کے بارے میں فخر کا اظہار کرنے کا کوئی موقع نہیں گنواتے (اے ایف پی)

مشرق وسطیٰ میں قیام امن کی تاریخ ناروے کے ذکر کے بغیر ادھوری ہے۔ پہلا حوالہ ناروے کے صدر مقام اوسلو میں طے پانے والے ’امن معاہدے‘ کا ہے، جس میں الجھا کر فلسطینیوں کو اپنی مسلح مزاحمتی تحریک چھوڑ کر قابض اسرائیلی دشمن کے سامنے ہتھیار ڈالنے کی راہ سجھائی گئی۔ اوسلو معاہدے کے بعد فلسطینیوں کو ’امن‘ کے نام پر ملنے والے سراب کی تاریخ طویل اور انتہائی تکلیف دہ مراحل سے عبارت ہے۔

اس کالم کی اشاعت کے ٹھیک دو دن بعد اوسلو امن معاہدے پر دستخط کو 27 برس مکمل ہو جائیں گے۔ 13 ستمبر، 1993 کو واشنگٹن میں وہ منظر قابل دید تھا جب ناروے میں ہونے والے خفیہ مذاکرات کے سلسلے کو ’اوسلو امن عمل‘ کا نام دیا گیا اور اسے وائٹ ہاؤس کے لان میں اس وقت کے امریکی صدر بل کلنٹن کی زیر نگرانی والی تقریب نے ہمیشہ کے لیے یادگار بنا دیا۔

یہ تحریر آپ مصنف کی آواز میں یہاں سن بھی سکتے ہیں

 

اسرائیل کے سب سے بڑے جنگی رہنما آنجہانی وزیر اعظم اضحاک رابین اور فلسطینیوں کے لیے آزادی کی امیدوں کی عملی شکل مرحوم یاسر عرفات نے جن دستاویزات پر دستخط کیے ان کے مطابق جنگ کی بجائے مستقبل میں مذاکرات کے ذریعے حل نکالنے کا وعدہ کیا گیا۔ ان دو تلخ حریفوں نے آپس میں ہاتھ بھی ملائے۔ اس سے قبل یاسر عرفات کا امریکہ میں داخلہ ممنوع تھا۔

اوسلو معاہدہ کیا تھا؟

اوسلو امن معاہدے کو اسرائیل ۔ فلسطین کے دیرینہ تنازعے کا تاریخی موڑ قرار دیا جاتا ہے، جسے یاسر عرفات اور اضحاک رابین دونوں نے امید کی کرن طور پر پیش کیا تاہم ناقدین کا کہنا تھا کہ یاسر عرفات اوسلو معاہدے کی بساط پر بہت کچھ ہار کر اٹھے تھے۔ اوسلو دستاویز مرحوم یاسر عرفات کی قیادت میں فلسطین کی جلا وطن قومی کونسل اور اسرائیل کے درمیان ناروے کی مدد سے 1988 میں شروع ہونے والے مذاکرات کا نتیجہ تھی، جو چھ برس جاری رہے۔

امن معاہدے کے لیے مذاکرات شروع ہونے سے قبل ’الفتح‘ کے بانی یاسر عرفات کی جلاوطن حکومت نے 1988 میں پرتشدد مزاحمت ترک کر کے اقوام متحدہ کی قرارداد نمبر 181 میں بیان کردہ کیے گئے دو ریاستی حل کو تسلیم اور اس تنازعے کے سیاسی حل پر آمادگی ظاہر کر دی تھی۔

اس کے بدلے اوسلو معاہدے میں فلسطینی ریاست کے غیر واضح خدوخال طے کیے گئے، جس کے پہلے مرحلے میں فلسطینیوں کی جانب سے تشدد ترک کیے جانے کی شرط پر 1967 کی جنگ میں قبضہ کیے جانے والے علاقوں سے اسرائیلی فوج کا انخلا، ان علاقوں کا نظم ونسق چلانے کے لیے فلسطینی انتظامیہ کا قیام اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر پر پابندی پر اتفاق ہوا۔

پانچ برس کی اعتماد سازی کے بعد دوسرے مرحلے میں فلسطینی ریاست کے حتمی سیاسی مستقبل پر مذاکرات اور فلسطینی ریاست کی حتمی سرحدوں کا تعین اور تیسرے مرحلے پر یروشلم کی حیثیت اور جلا وطن کیے جانے والے فلسطینیوں کی گھروں کو واپسی کے حق پر گفت و شنید ہونا طے پایا۔ تاہم بعد میں گزرنے والے تمام سالوں میں اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین ہونے والے امن مذاکرات میں امریکہ کی اول ترجیح اسرائیل کی خواہشات، حدود اور سب سے بڑھ کر اس کی حفاظت رہی ہے۔

لیکن امریکی اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان ہونے والے امریکی صدور نے اس بات کا اقرار ضرور کیا کہ امن قائم کرنے کے لیے اسرائیل کے ساتھ ساتھ ایک مستحکم ریاست کی ضرورت ہے بیشک وہ اسے برابر کی خودمختاری دینے کے لیے تیار نہ ہوں۔ اسرائیل کے مطابق فلسطینیوں نے کئی اچھی پیشکش ٹھکرائی ہیں۔ البتہ فلسطینی ثالثوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے بہت چھوٹ دی اور اپنی تاریخی زمین پر اسرائیل کے تقریباً 78 فیصد وجود کو قبول کیا۔

آنجہانی اضحاک رابین، مرحوم یاسر عرفات اور اسرائیل کے اس وقت کے وزیر خارجہ شمعون پیریز کو اوسلو معاہدہ کروانے پر مشترکہ نوبیل امن انعام سے نوازا گیا۔

مشرق وسطیٰ اور ناروے

آج مشرق وسطیٰ کے دیرینہ حل طلب قضیہ فلسطین کے حوالے سے ناروے کا نام ایک مرتبہ پھر خبروں میں ہے۔ اس مرتبہ ناروے کا نام اسرائیل ۔ متحدہ عرب امارات کے درمیان سفارتی تعلقات کے حوالے سے اہم کردار ادا کرنے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کوششوں کے ضمن میں لیا جا رہا ہے۔

ناروے کی پارلیمنٹ میں دائیں بازو کی جماعت کے رکن کرسچن ٹیبرنگ جیڈ نے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے درمیان امن معاہدے کے حوالے سے کردار ادا کرنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو 2021 کے نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کیا ہے۔ نوبیل امن انعام کے قواعد کے تحت ناروے کی قومی پارلیمنٹ کا کوئی بھی رکن ایوارڈ کے لیے امیدوار نامزد کرسکتا ہے۔

نوبیل امن انعام کمیٹی کو لکھے گئے خط میں چار بار منتخب ہونے والے رکن پارلیمنٹ ٹیبرنگ جیڈ نے، جو نیٹو کی پارلیمانی اسمبلی میں ناروے کے وفد کے چیئرمین بھی رہ چکے ہیں، توقع ظاہر کی ہے کہ مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک بھی متحدہ عرب امارات کے نقش قدم پر چلیں گے۔ ’یہ معاہدہ ایک گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے جو مشرق وسطیٰ کو تعاون اور خوشحالی کے خطے میں بدل دے گا۔‘

نامزدگی کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ امن کا نوبیل انعام جیتنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو منفرد اعزاز حاصل کرنے والے وہ پانچویں امریکی صدر بن جائیں گے۔ ان سے قبل امریکہ کے چار صدور باراک حسین اوباما، جمی کارٹر، تھیوڈور روزویلٹ اور ووڈرو ولسن یہ انعام حاصل کر چکے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ٹیبرنگ جیڈ سابق امریکی صدر اور نوبیل ایوارڈ یافتہ باراک اوباما کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اوباما نے ایوارڈ حاصل کرنے کے لیے کچھ نہیں کیا۔ صدر ٹرمپ بھی بارہا باراک اوباما کو ایوارڈ دیے جانے پر تنقید کرتے رہے ہیں۔

یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ صدر ٹرمپ، امریکہ کی طاقت کے بارے میں فخر کا اظہار کرنے کا کوئی موقع نہیں گنواتے۔ ان کا ماننا ہے کہ امریکہ کی عسکری اور اقتصادی طاقت انہیں اپنی مرضی کرنے کی اجازت دیتی ہے۔ وہ ناکام امن مذاکرات کی کوششوں کے پیچھے موجود پرانے عقائد کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔

ٹرمپ کے کاغذات اقوام متحدہ کی قرارداد 242 یا بین الاقوامی قوانین جیسے تکلیف دہ حقائق کو بھی ہٹا دیتے ہیں جو جنگ کے ذریعے علاقے کے حصول کو تسلیم نہ کرنے پر زور ڈالتے ہیں اور یہ کہ قبضہ کرنے والے افراد مقبوضہ زمین پر اپنے لوگوں کو بسا نہیں سکتے۔

اوسلو امن معاہدے پر دستخط کرنے والی اس وقت کی اسرائیلی فوجی اور سیاسی قیادت طاقت کے ایسے ہی گھمنڈ میں مبتلا تھی، جس کا اظہار آج صدر ٹرمپ کرتے نہیں تھکتے۔ یہی وجہ ہے کہ خطے میں قیام امن کا خواب ادھورا چلا آ رہا ہے۔

فلسطینیوں کو انتہا پسندی کے طعنے دینے والوں نے دیکھا کہ اسرائیلی وزیراعظم اضحاک رابین بھی انتہا پسند یہودیوں کی تنقید سے نہ بچ سکے اور ایک جنونی یہودی کی گولیوں کا نشانہ بن کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یاسر عرفات اور شمعون پیریز بھی منوں مٹی تلے جا سوئے، لیکن مشرق وسطیٰ میں قیام امن کی منزل ہنوز دور تلک دکھائی نہیں دیتی۔

امارات ۔ اسرائیل امن معاہدہ کو کامیابی کے لیے اوسلو امن معاہدے سے بڑے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ ماضی میں الفتح کے رہنما یاسر عرفات بلا شرکت غیرے فلسطینیوں کے جمہوری حقوق کے تحفظ کی خاطر شمشیر برہنہ سمجھے جاتے تھے۔ انہوں نے امن کی خاطر گوریلا جدوجہد ترک کرنے کا اہم فیصلہ کیا، جس کے بعد اوسلو معاہدے میں جلد دراڑیں نظر آنا شروع ہو گئیں۔ اسرائیلی رہنماؤں نے اسے صہیونی ریاست کے لیے جان لیوا خطرہ قرار دیا۔ اسرائیلیوں نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودیوں کو بسانے کے منصوبے کو اور تیز کر دیا۔

یادش بخیر! مشرق وسطیٰ میں قیام امن کی خاطر متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والے سفارتی معاہدے پر ہونے والی تنقید کا دائرہ صرف فلسطین تک محدود نہیں، اسے سبوتاژ کرنے کے لیے کئی خود ساختہ علاقائی طاقتیں بھی سرگرم دکھائی دیتی ہیں۔ امن کی متلاشی قوتوں کو معاہدہ اوسلو کی ناکام تاریخ کا ری پلے دہرانے کی کوششوں پر کڑی نظر رکھنا ہو گی ورنہ خطہ ایک مرتبہ پھر آگ وخون کا میدان بن سکتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ