موٹر وے ریپ کیس: پولیس کو تاحال تفتیش میں بڑی کامیابی نہیں ملی

پولیس حکام کے مطابق تفتیش کے دوران روایتی اور جدید طریقے اپنائے جا رہے ہیں، متعدد مشتبہ افراد کا ڈی این اے ٹیسٹ، جائے وقوعہ کے اطراف مشتبہ پوائنٹس کی مارکنگ۔

لاہور میں موٹر وے پر رات گئے بچوں کی موجودگی میں ایک ماں کا ریپ کرنے والے ملزم تین دن بعد بھی پولیس کی گرفت میں نہ آ سکے۔تفتیشی افسر کے مطابق ابھی تک ملزمان کی گرفتاری سے متعلق کوئی بڑی کامیابی نہیں ہوئی۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات میں روایتی اور جدید  طریقے اختیار کیے جا رہے ہیں اور توقع ہے کہ جلد ہی ملزمان کو پکڑ لیا جائے گا۔وزیر اعظم پاکستان اور وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر آئی جی پنجاب اس کیس کی خود نگرانی کر رہے ہیں۔

پنجاب پولیس کی تفتیشی ٹیم کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق کھوجیوں کی مدد سے جائے وقوعہ کے اطراف پانچ کلو میٹر کا علاقہ چیک کرکے مشتبہ پوائنٹس مارک کرلیے گئے ہیں ۔ کھوجیوں کی نشاندہی سمیت مختلف شواہد پر سات مشتبہ افراد محمدکاشف، عابد، سلمان، عبدالرحمٰن، حیدر سلطان، ابوبکر، اصغر علی کو حراست میں لیا گیا، جن کے ڈی این اے ٹیسٹ کروانے کے بعد رپورٹس کا انتظار ہے۔ 

آئی جی پنجاب کی تشکیل کردہ اعلیٰ سطحی سپیشل انویسٹی گیشن ٹیم تفتیش کے ہر پہلو کو باریک بینی سے دیکھ رہی ہے۔ ایف آئی آر میں نامزد ملزمان سے ملتے جلتے حلیے کے حامل 15مشتبہ افرادکی پروفائلنگ کی گئی ہے جبکہ تین مختلف مقامات سے جیو فینسنگ کے لیے موبائل کمپنیوں کے حاصل کردہ ڈیٹاکا تجزیہ کیا جارہا ہے۔اس کے علاوہ  مشتبہ افراد کو ویڈیو ریکارڈنگ حاصل کرکے شناخت کو آگے بڑھایا جارہا ہے۔

آئی جی پنجاب انعام غنی کا کہنا ہے کہ ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں پیش کیا جائے گا،متاثرہ خاتون اوراس کے اہل خانہ کو انصاف کی فراہمی کے لیے پولیس ٹیمیں شب و روز متحرک ہیں۔

اس سے پہلے آئی جی پنجاب کہہ چکے ہیں کہ پولیس ملزمان کے گاؤں تک پہنچ چکی ہے۔دوسری جانب ایسے واقعات پر قابو پانے کے لیے پنجاب پولیس نے لاہور سیالکوٹ موٹروے کا سکیورٹی کنٹرول سنبھال لیا۔

آئی جی پنجاب نے ایس پی یو اور پی ایچ پی کی مشترکہ ٹیموں کو لاہور سیالکوٹ موٹروے پر سکیورٹی اور گشت کا حکم دیا ہے۔ آئی جی پنجاب کی جانب سے جاری مراسلہ میں کہا گیاہے کہ لاہور سیالکوٹ موٹروے پر ایس پی یو اور پی ایچ پی کے250 اہلکار گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں پر اس وقت تک  پٹرولنگ اور سکیورٹی فرائض سر انجام دیں گے جب تک  نیشنل ہائی وے اور موٹروے پولیس  تعینات نہیں کر دی جاتی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

واضع رہے کہ جس مقام پر واقعہ پیش آیا یہاں کچھ عرصہ قبل ایک نرس کے ساتھ ریپ رپورٹ ہوچکاہے۔ایس ایس پی انویسٹیگیشن لاہور ذیشان اصغر نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ پولیس ڈی این اے حاصل کر رہی ہے جس کا ڈی این اے میچ ہوگا وہی ملزم ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پولیس ہر طرح سے تفتیش کر رہی ہے اورہر پہلو سے کیس کا جائزہ لیا جارہا ہے۔'تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں تاہم زیادہ تفصیل منظر عام پر نہیں لائی جاسکتی جیسے ہی ملزم گرفتار ہوں گے عوام کو آگاہ کریں گے۔'

ذیشان اصغر کے مطابق ابھی تک زیادہ بڑی کامیابی نہیں ملی کیونکہ اندھی واردات ہے،پولیس کی تفتیشی ٹیم نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور شواہد اکھٹے کیےگئے۔

پولیس اطلاعات کے مطابق خاتون ڈیفنس سے رات 12بجے کے قریب قائد اعظم انٹر چینج سے رنگ روڑ پر داخل ہوئیں اور رنگ روڑ سے بذریعہ موٹر وے جانے کے لیے جیسے ہی گجر پورہ سے موٹر وے پر چڑھیں ان کی گاڑی بند ہوگئی۔

پیٹرول ختم ہونے پر انہوں نے گاڑی  سائیڈ پر پارک کر لی، وہ وہاں ایک گھنٹے کے قریب موجود رہیں اسی دوران ان کے ساتھ یہ واقعہ پیش آگیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان