میں ہاتھ جوڑ کر آپ لوگوں سے معافی مانگتی ہوں: ندا یاسر

کراچی میں ریپ کے بعد قتل کی جانے والی پانچ سالہ مروہ کے والدین کو شو میں بلا کر ان سے ’نازیبا‘ سوالات کرنے پر نجی ٹی وی چینل کی میزبان ندا یاسر نے معافی مانگی ہے۔

گذشتہ دنوں میزبان ندا یاسر نے عمر صادق اور ان کی اہلیہ کو اپنے شو میں مدعو کیا اور ان سے سوالات پوچھے کہ ان کی بچی کےساتھ کیا ہوا تھا (سکرین گریب)

کراچی میں ریپ کے بعد قتل کی جانے والی پانچ سالہ مروہ کے والدین کو شو میں بلا کر ان سے ’نازیبا‘ سوالات کرنے پر نجی ٹی وی چینل کی میزبان ندا یاسر نے معافی مانگی ہے۔

نجی ٹی وی چینل اے آر وائی ڈیجیٹل پر مارننگ شو کرنے والی میزبان اور اداکارہ ندا یاسر نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ ’سب سے پہلے تو میں معافی مانگنا چاہوں گی۔ میں آپ لوگوں کو ناراض نہیں دیکھ سکتی۔ تو اگر جانے انجانے میں مجھ سے کوئی ایسی بات یا کوئی ایسا سوال ہوا ہے تو میں ہاتھ جوڑ کر آپ لوگوں سے معافی مانگتی ہوں۔‘

شو کی میزبان ندا یاسر نے یہ ویڈیو پیغام سوشل میڈیا پر انہیں تنقید کا نشانہ بنائے جانے اور ان سے معافی کے مطالبے کے بعد جاری کیا ہے۔

واضح رہے کہ حال ہی میں کراچی میں اغوا کے بعد قتل ہونے والی بچی مروہ کے والدین کے ’تاثرات‘ جاننے کے لیے ان کو اپنے شو میں مدعو کرنے اور کچھ 'نازیبا' سوال کرنے پر ندا یاسر پر پابندی لگانے کا مطالبہ بھی کیا جارہا ہے۔

پانچ سالہ بچی مروہ رواں ماہ چار ستمبر کو صبح سات بجے قریبی دکان سے بسکٹ لینے کے لیے گھر سے نکلی اور پھر لاپتہ ہوگئی، جس کے 48 گھنٹے بعد یعنی چھ ستمبر کو بچی کی سوختہ لاش کچرہ کنڈی سے برآمد ہوئی تھی۔

اس واقعے کے بعد گذشتہ دنوں میزبان ندا یاسر نے عمر صادق اور ان کی اہلیہ کو اپنے شو میں مدعو کیا اور ان سے سوالات پوچھے کہ ان کی بچی کے ساتھ کیا ہوا تھا۔

تاہم اب ندا یاسر نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے مروہ کے والدین کو اپنے شو پر نہیں بلایا تھا بلکہ انہوں نے خود رابطہ کیا تھا۔

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Nida Yasir (@itsnidayasir.official) on

’میں وضاحت دینا چاہتی ہوں۔ ہم لوگ ایک ہفتہ پہلے اپنا شو پلان کر لیتے ہیں اور میں زیادہ تر ایسے شو کرتی ہوں جو انٹرٹینمنٹ اور انفوٹینمنٹ سے بھرپور ہوں تاکہ آپ کی صبح خوشگوار گزرے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ہم نے مروہ کی فیملی سے رابطہ نہیں کیا تھا بلکہ صارم برنی کے ذریعے انہوں نے ہم سے رابطہ کیا تھا کیونکہ انہیں میڈیا سپورٹ کی ضرورت تھی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شو میں ندا نے بچی کے ساتھ مبینہ ریپ کے حوالے سے بھی سوال کیے جبکہ ایک موقع پر برقعے میں ملبوس بچی کی والدہ روتی ہوئی دکھائی دیں۔

سوشل میڈیا پر ندا یاسر کے اس شو کی مختلف ویڈیو کلپس گردش کر رہے ہیں، جس پر صارفین غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے ان پر پابندی لگانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

زرشال طارق نے لکھا: 'ندا یاسر پر پابندی عائد کردینی چاہیے، انہوں نے مظلوم والدین سے مضحکہ خیز سوالات پوچھ کر ان کا مذاق اڑایا۔'

محمد حضران نامی صارف نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 'تمام مارننگ شوز پر پابندی لگا دینی چاہیے۔ یہ شوز صرف غریبوں کا مذاق اڑانے اور فحاشی پھیلانے کے لیے ہیں۔ ان کی بجائے سائنس اور ٹیکنالوجی کے شوز نشر ہونے چاہییں۔'

ایک صارف نے لکھا: 'اس لمحے جب ندا نے پوچھا کہ آپ کو کیسے پتہ ہے کہ آپ کی بیٹی کے ساتھ ریپ کیا گیا، تو ان کی والدہ اپنےآنسوؤں پر قابو نہیں رکھ سکیں۔ یہ خاتون صرف مظلوم خاندان کی مشکلات کو کیش کروا رہی تھیں۔'

 

سوشل میڈیا پر تنقید کے ردعمل میں ندا نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ جاری کی جس میں انہوں نے کہا کہ ’دیکھنے میں آ رہا ہے کہ کچھ لوگ مجھ سے ناراض ہیں۔ وہ ناراض اس لیے ہیں کیونکہ ان کو ایسا لگتا ہے کہ مروہ کے والدین کو بلا کر میں نے ان سے کچھ ایسے سوال کیے جو مجھے نہیں کرنے چاہیے تھے۔‘ 

ندا کے بقول: 'اگر آپ شو پورا دیکھیں تو ان کی تو ایف آئی آر بھی نہیں کاٹی جا رہی تھی مگر جب انہوں نے احتجاج کیا تو دوسرے دن ایف آئی آر کاٹی گئی۔ جب میڈیا سپورٹ ملتی ہے اس طرح کے کیسز کو تو اداروں کا کام زیادہ تیز ہو جاتا ہے۔'

انہوں نے کہا کہ جب مروہ کے اہل خانہ نے ان سے رابطہ کیا تو انہوں اپنا فرض سمجھ کر انہیں پروگرام میں بلایا کہ ان کو ایک پیلٹ فارم مل سکے۔

ان کے مطابق ان کے شو کے دو دن بعد ہی مروہ کے ریپ میں ملوث شخص پکٹرا گیا اور مروہ کے خاندان نے ان کو بہت دعائیں دیں۔

whatsapp channel.jpeg
مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی سوشل