کراچی: کچرہ کنڈی سے پانچ سالہ بچی کی سوختہ لاش برآمد

مروہ نامی بچی جمعے کی صبح سات بجے قریبی دکان سے بسکٹ لینے کے لیے گھر سے نکلی اور پھر لاپتہ ہوگئی، جس کے 48 گھنٹے بعد بچی کی جلی ہوئی لاش کچرہ کنڈی سے برآمد ہوئی۔

پانچ سالہ مروہ  جمعے کی صبح بسکٹ لینے نکلیں اور پھر لاپتہ ہوگئی تھیں (تصویر: سوشل میڈیا)

صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں اتوار کو ایک پانچ سالہ بچی کی سوختہ لاش کچرہ کنڈی سے برآمد ہونے کے واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر لوگ غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں اور 'جسٹس فار مروہ' کے ہیش ٹیگ کے ساتھ انصاف کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس (ڈی آئی جی) ضلع شرقی نعمان صدیقی نے انڈپیندنٹ اردو کو تصدیق کی کہ پولیس کو  پرانی سبزی منڈی سے متصل عیسیٰ نگری کی پیر بخاری کالونی میں کچرہ کنڈی سے ایک کمسن بچی کے جلی ہوئی لاش برآمد ہوئی ہے۔

نعمان صدیقی نے مزید بتایا: 'یہ واقعہ آج پیش آیا ہے، ابھی ابتدائی تفتیش کی جا رہی ہے اور ڈی این اے ٹیسٹ بھی لیا جا رہا ہے۔ فی الحال مزید تفصیل نہیں بتاسکتے، مگر جیسے ہی کچھ حقائق سامنے آتے ہیں تو میڈیا تو تفصیلات سے آگاہ کیا جائے گا۔'

پولیس کے مطابق پانچ سالہ بچی مروہ جمعہ (4 ستمبر) کو صبح سات بجے قریبی دکان سے بسکٹ لینے کے لیے گھر سے نکلی اور پھر لاپتہ ہوگئی، جس کے 48 گھنٹے بعد بچی کی سوختہ لاش کچرہ کنڈی سے برآمد ہوئی، جسے پوسٹ مارٹم کے لیے جناح ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

پولیس نے مزید بتایا کہ بچی کی گمشدگی کا مقدمہ ان کے والد عمر صادق کی مدعیت میں پی آئی بی کالونی تھانے میں درج کیا گیا تھا، جس کے بعد حال ہی میں اس علاقے میں منتقل ہونے والے ایک شخص کو شک کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا جبکہ پولیس کو ان کے بیٹے کی تلاش ہے۔ 

پی آئی بی کالونی کے ایس ایچ او شاکر حسین نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ پولیس علاقے میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج بھی حاصل کر رہی ہے، تاکہ یہ دیکھا جائے کہ بچی کو کون اپنے ساتھ لے گیا تھا۔

مقتولہ مروہ کے چچا غنی رحمٰن نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے خاندان کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع بونیر سے ہے اور وہ کئی سالوں سے کراچی میں مقیم ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید بتایا کہ ان کے بھائی عمر صادق رکشہ ڈرائیور ہیں، جن کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی مروہ تھیں۔

غنی رحمٰن کے مطابق: 'ہمارے ساتھ بہت ظلم ہوا ہے، یہ کیسا شہر ہے جہاں پانچ سال کی بچی کو ایسی درندگی اور بے دردی سے قتل کیا جاتا ہے، اب تو ہم صرف امید ہی کرسکتے ہیں کہ یہ ریاست ہمیں انصاف دلاسکے۔'

مقتولہ مروہ کے چچا نے مزید بتایا کہ واقعے کے بعد پولیس نے ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لے کر میڈیکل معائنے کے لیے ہسپتال روانہ کیا ہے۔

بچی کی لاش ملنے کے بعد علاقہ مکینوں نے اتوار کو یونیورسٹی روڈ پر تقریباً چھ گھنٹے طویل احتجاج بھی کیا اور بعدازاں پولیس اور رینجرز سے مذاکرات کے بعد تین روز کا الٹی میٹم دیتے ہوئے منتشر ہوگئے۔ بچی کو بعد نماز ظہر نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد مواچھ گوٹھ قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پر لوگ مروہ کے لیے انصاف کا تقاضا کررہے ہیں۔

علشبہ نامی ایک صارف نے قومی اسمبلی میں بچوں سے ریپ کے مجرموں کو سرعام پھانسی کی قرار منظور ہونے کے حوالے سے لکھا کہ 'آخر قوانین پر عملدرآمد کب ہوگا؟'

نقیب عابد نامی صارف نے وزیراعظم عمران خان سے اس معاملے پر ایکشن لینے کی درخواست کی۔

 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان