کشمیر: ’فرضی جھڑپ میں ملوث بھارتی فوجیوں کو پھانسی دی جائے‘

18 جولائی کو بھارتی فوجیوں نے کشمیر میں تین نامعلوم ’عسکریت پسندوں‘ کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا اور ان کی لاشیں غیر ملکی عسکریت پسندوں کے لیے مخصوص قبرستان میں دفنا دیں۔ اس مقابلے کے فرضی ہونے کا اعتراف اب خود بھارتی فوج نے کیا ہے۔

'ایک تو مجھے بچوں کی لاشیں چاہئیں۔ میرا دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ ملوث فوجیوں کو پھانسی کی سزا دی جائے تاکہ آئندہ اس طرح کے دردناک واقعات پیش نہ آئیں۔'

یہ مطالبات بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع راجوری سے تعلق رکھنے والے محمد یوسف کے ہیں جن کے بیٹے ابرار احمد سمیت تین قریبی رشتہ دار نوجوانوں کو بھارتی فوج نے رواں برس 17 اور 18 جولائی کی درمیانی رات کو ضلع شوپیاں میں ایک 'فرضی' جھڑپ میں ہلاک کیا ہے۔

سری نگر میں تعینات بھارتی فوج کے ترجمان کرنل راجیش کالیا نے ضلع شوپیاں کے امشی پورہ میں ہونے والی اس 'فرضی' جھڑپ پر جمعے کو ایک بیان جاری کیا ہے۔

اس میں ان کا کہنا ہے کہ مجاز انضباطی اتھارٹی نے بادی النظر میں جھڑپ میں تین نوجوانوں کے قتل میں ملوث اہلکاروں کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت انضباطی کارروائی شروع کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

فوج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ 'فرضی' جھڑپ کے دوران بادی النظر میں متنازعہ آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ (افسپا) 1990 کا حد سے زیادہ استعمال ہوا ہے نیز بھارتی فوجی سربراہ کی آپریشنز سے متعلق ہدایات کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔

مقتول نوجوانوں میں سے 25 سالہ ابرار احمد کے والد محمد یوسف نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا: 'مجھے سول انتظامیہ اور فوج پر بھروسہ ہے کہ وہ تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔ کیس کی اب تک کی تحقیقات قابل بھروسہ نظر آ رہی ہیں۔ مجھے یہ یقین ہی نہیں تھا کہ فوج کی جانب سے اعترافی بیان جاری ہوگا۔ اعتراف کے لیے میں ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں'۔

بھارتی فوج اور کشمیر پولیس نے 18 جولائی کو اپنے بیانات میں جنوبی ضلع شوپیاں کے امشی پورہ میں تین عدم شناخت عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

اس 'فرضی' جھڑپ کے تین ہفتے بعد شوپیاں میں لاپتہ ہونے والے راجوری کے تین نوجوان مزدوروں کے والدین نے لاشوں کی تصویریں دیکھ کر ان کی شناخت اپنے تین 'بے گناہ بیٹوں' کے طور پر کی تھی۔

محمد یوسف نے 'فرضی' جھڑپ میں مارے گئے دیگر دو نوجوانوں کی شناخت اپنی سالی اور اپنے سالے کے لڑکوں بالترتیب 16 سالہ محمد ابرار اور 21 سالہ امتیاز احمد کے طور پر کی ہے۔

انہوں نے واقعے کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا: 'ابرار احمد، محمد ابرار اور امتیاز احمد کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے۔ امتیاز احمد مزدوری کرنے کے لیے شوپیاں گیا ہوا تھا۔ امتیاز نے ابرار احمد اور محمد ابرار کو بھی فون کر کے وہاں بلا لیا۔ دونوں یہاں سے 15 جولائی کو روانہ ہو کر 130 کلو میٹر کا دشوار گزار پہاڑی راستہ طے کرتے ہوئے 17 جولائی کو وہاں پہنچے۔

'رات کے آٹھ بجے انہوں نے ہمیں فون کیا کہ ہم یہاں پہنچ گئے ہیں۔ پونے نو بجے سے ہمارا ان کے ساتھ رابطہ منقطع ہوگیا۔ یہی وہ رات ہے جس دوران انہیں قتل کیا گیا ہے۔'

محمد یوسف کے مطابق تینوں نوجوانوں کے پاس شناختی دستاویزات تھے لیکن فوج نے ان کی شناخت کو چھپاتے ہوئے انہیں ضلع بارہمولہ کے علاقے گانٹہ مولہ میں واقع غیر ملکی عسکریت پسندوں کے لیے مخصوص قبرستان میں دفن کروایا۔

'جب ہمارا اپنے بچوں کے ساتھ رابطہ منقطع ہوگیا تو ہمیں لگا کہ انہیں شاید قرنطینہ میں بھیجا گیا ہے۔ تین ہفتے انتظار کرنے کے بعد میں نے 9 اگست کو کوٹرنکہ پولیس تھانے میں گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی۔ اس کے بعد ہی کیس کی تحقیقات شروع کی گئی۔'

بھارتی فوج کا پہلی بار اعتراف

کشمیر میں انسانی حقوق کے معروف کارکن پرویز امروز نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ یہاں فرضی جھڑپوں کا وقوع پذیر ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ فوج نے فرضی جھڑپ میں نوجوانوں کی ہلاکت کا اعتراف کیا ہے۔

'اس سے بھارتی فوج کی ساکھ تھوڑی بہتر ہوسکتی ہے۔ ان کو اب اپنی تحقیقات پبلک ڈومین میں بھی لانی چاہئیں۔ ملوثین کی فہرست جاری کرنی چاہئیں۔ کیونکہ فرضی جھڑپ میں کسی کو مارنا ایک سنگین جرم ہے۔'

پرویز امروز کے مطابق تحقیقات کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا کام پولیس کا ہے لیکن یہاں یہ مسئلہ ہے کہ پولیس آزاد نہیں ہے۔

'کشمیر پولیس وہی کچھ کرتی ہے جو اس کو کرنے کو کہا جاتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ مقامی پولیس فوج سے ڈرتی ہے۔ معاملے میں پولیس کی طرف سے ہمیں ابھی تک کوئی پیش رفت دیکھنے کو نہیں ملی ہے۔'

پرویز امروز کہتے ہیں: 'ہم نے یہاں 1990 سے صرف تحقیقات کے احکامات جاری ہوتے ہوئے دیکھے ہیں۔ ہمارے پاس بے نتیجہ تحقیقات کی لمبی فہرستیں پڑی ہیں۔ ایسے واقعات کی تحقیقات پایہ تکمیل کو نہیں پہنچائی جاتی ہے۔

'ہمارے ہاں فرضی جھڑپ کا ایک معاملہ سنہ 2000 میں پتھری بل میں سامنے آیا تھا جس میں ضلع اننت ناگ سے تعلق رکھنے والے پانچ عام شہریوں کو مارا گیا تھا۔ بھارتی سپریم کورٹ نے اس فرضی جھڑپ میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کورٹ مارشل کارروائی کرنے کے احکامات جاری کیے تھے لیکن کسی کو سزا نہیں ہوئی۔'

ضلع راجوری سے تعلق رکھنے والے نوجوان سماجی کارکن گفتار احمد چوہدری، جو مقتول نوجوانوں کے لیے انصاف کی لڑائی لڑ رہے ہیں، نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ فوج کی جانب سے اعترافی بیان جاری کرنا ایک بڑی بات ہے۔

'میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے تو یہ چیزیں دیکھتے آیا ہوں۔ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ فوج نے اتنا جلدی کسی فرضی جھڑپ کے معاملے میں اعترافی بیان جاری کیا ہے۔ اب باقی کی تحقیقات پولیس کو کرنی ہے۔ اب تک پولیس بھی اچھا کام کر رہی ہے۔ ہم فوج کے بیان سے کافی مطمئن ہیں۔'

فوج کے بیان کا متن

سری نگر میں تعینات بھارتی فوج کے ترجمان کرنل راجیش کالیا کی جانب سے جاری بیان کا متن کچھ یوں ہے۔

'امشی پورہ شوپیاں میں ہونے والے آپریشن کی تحقیقات مکمل کر لی گئی ہیں۔ تحقیقات سے بادی النظر میں کچھ ثبوت سامنے آئے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ آپریشن کے دوران فوج کو افسپا 1990 کے تحت حاصل اختیارات کا حد سے زیادہ استعمال ہوا ہے نیز چیف آف آرمی سٹاف کے "کرو یا نہ کرو" ہدایات، جن کو عزت مآب سپریم کورٹ نے منظوری دی ہے، کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔

'اس کو دیکھتے ہوئے مجاز انضباطی اتھارٹی نے بادی النظر میں جوابدہ پائے جانے والے اہلکاروں کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت انضباطی کارروائی شروع کرنے کی ہدایت دے دی ہے۔

'تحقیقات کے دوران حاصل ہونے والے ثبوتوں سے بادی النظر میں پتہ چلا ہے کہ امشی پورہ آپریشن کے دوران مارے گئے تین عدم شناخت دہشت گردوں کا تعلق راجوری سے ہے اور ان کے نام امتیاز احمد، ابرار احمد اور محمد ابرار ہیں۔ ان کی ڈی این اے رپورٹ کا انتظار ہے۔ ان تینوں کے دہشت گردانہ یا متعلقہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے متعلق پولیس تحقیقات کر رہی ہے۔

'بھارتی فوج آپریشنز کے اخلاقی طرز عمل پر کاربند ہے۔ کیس سے متعلق دیگر تفصیلات وقتاً فوقتاً فراہم کی جائیں گی۔'

فوج کے بیان پر ردعمل

کشمیر پولیس کے سابق سربراہ ڈاکٹر شیش پال وید نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا: 'بے گناہ نوجوانوں کو مارنا اور پھر انہیں دہشت گرد بتانا ایک انتہائی سنگین جرم ہے۔ ملوثین کے خلاف قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جانا چاہیے۔'

کشمیر کی سب سے پرانی سیاسی جماعت نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا: 'مقتول نوجوانوں کے لواحقین مسلسل یہ کہتے آئے ہیں کہ ان کے بچے بے گناہ ہیں۔ انضباطی کارروائی شروع کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ فوج ان کے کنبوں کے بیان سے اتفاق کرتی ہے۔ کارروائی کا عمل شفاف طریقے سے پایہ تکمیل کو پہنچنا چاہیے اور قصورواروں کو قرار واقعی سزا ملنی چاہیے۔'

کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کے کشمیری رہنما اور سابق رکن اسمبلی محمد یوسف تاریگامی کا کہنا تھا: 'فوجیوں کے خلاف انضباطی کارروائی شروع کرنے سے واضح ہوجاتا ہے کہ یہ ایک فرضی جھڑپ تھی۔ تاہم کورٹ آف انکوائری کو یہ بات یقینی بنانی چاہیے کہ کسی بہانے بھی انصاف کے حصول میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔'

کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے چند روز ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ راجوری کے تین لاپتہ نوجوانوں کے غمزدہ خاندانوں کو ہر حال میں انصاف فراہم کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا: 'جہاں تک راجوری کے غمزدہ خاندانوں کا سوال ہے تو میں یہ کہنا چاہوں گا کہ تحقیقات جاری ہیں۔ فوج اپنی طرف سے تحقیقات کر رہی ہے جبکہ پولیس نے بھی الگ سے ایک جانچ کمیٹی قائم کی ہے۔ میں آپ کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ان غمزہ کنبوں کو ہر حال میں انصاف فراہم کیا جائے گا'۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا