بلتستان سے لداخ تک لاش کا سفر

گلگت بلتستان کے ہوم سیکرٹری محمد علی رندھاوا نے جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ دریائے شیوک سے برآمد ہونے والی لداخی خاتون کی لاش پاکستان کی فوجی حکام نے لواحقین کے حوالے کر دی ہے۔

بھارت کے زیر انتظام لداخ کے دارالحکومت لیہہ سے 185 کلو میٹر دور وادی نوبرا میں بونگ ڈنگ نامی گاؤں آباد ہے۔

یہ گاؤں 1971 میں پاکستان اور بھارت کی جنگ سے قبل بھارت کے زیر انتظام لداخ کا آخری گاؤں تھا لیکن متذکرہ جنگ کے دوران بھارت نے پاکستان کے زیر انتظام گلگت بلتستان کے چار دیہات پر قبضہ کر کے کنٹرول لائن کی لکیر ہی تبدیل کی۔

سلسلہ کوہ قراقرم کے دامن میں بہنے والے دریائے شیوک کے کنارے پر آباد بونگ ڈنگ اور دیگر چار دیہات ترتوک، تھنگ، چلونکھا اور تیاکشی (جن پر بھارت نے قبضہ کیا تھا) آج کل ایک خاتون کی لاش کی وجہ سے خبروں میں ہیں۔

امر واقعہ یہ ہے کہ 26 اگست کو ایک 30 سالہ خاتون خیر النساء بونگ ڈنگ میں اپنے شوہر عباس علی کے گھر سے لاپتہ ہوئی۔ اس خاتون کی لاش دس دن بعد یعنی 6 ستمبر کو کنٹرول لائن کی دوسری طرف گلگت بلتستان میں ضلع گانچھے کے سرحدی گاؤں چھوربٹ تھونگموس میں دریائے شیوک کے کنارے سے برآمد ہوئی۔

چھوربٹ تھونگموس سے بھارت کے زیر انتظام لداخ کا تھنگ گاؤں محض سات کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے لیکن متوفی خاتون کے لواحقین کے مطابق بھارتی فوج نے تھنگ اور پاکستان کے زیر انتظام گلگت بلتستان کے آخری گاؤں فرانو کو منقسم کرنے والی خاردار تار کو کاٹنے سے انکار کیا جس کی وجہ سے پاکستان کو خیر النساء کی لاش زائد از 1400 کلو میٹر کے طویل راستے سے واپس بھیجنی پڑی ہے۔

گلگت بلتستان کے ہوم سیکرٹری محمد علی رندھاوا نے جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ دریائے شیوک سے برآمد ہونے والی لداخی خاتون کی لاش پاکستان کی فوجی حکام نے لواحقین کے حوالے کر دی ہے۔

ٹوئٹ میں انہوں نے بلتستان انتظامیہ بالخصوص ضلع مجسٹریٹ ضلع گانچھے و ضلع سکردو، ڈسٹرک ہیڈکوارٹر ہسپتال خپلو و سکردو کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹز اور ریسکو 1122 کی کوششوں کے لیے ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔

تاہم متوفی خاتون کے ایک قریبی رشتہ دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ وہ جب زائد از 700 کلو میٹر کا دشوار گزار سفر طے کرنے کے بعد جمعے کی رات بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے سرحدی قصبہ اوڑی پہنچے تو انہیں وہاں بتایا گیا کہ لاش ضلع کپواڑہ کے کرناہ سیکٹر میں کنٹرول لائن پر دی جائے گی۔

'ہمیں اوڑی پہنچنے کے لیے کہا گیا تھا۔ اوڑی پہنچے تو بتایا گیا لاش کپواڑہ کے کرناہ سیکٹر میں ہے۔ مقامی پولیس نے اوڑی میں ہمارے لیے قیام کا انتظام کیا۔ ہفتے کی صبح ہم کپواڑہ کے لیے روانہ ہوئے جہاں قانونی و طبی لوازمات کی ادائیگی کے بعد لاش ہمارے حوالے کی گئی۔ اب ہم لیہہ کی جانب روانہ ہوچکے ہیں۔'

ضلع انتظامیہ کپواڑہ کے ایک سینیئر افسر نے بتایا کہ پاکستانی حکام نے متوفی خاتون کی لاش ہفتے کو دوپہر کے وقت کرناہ میں ٹیٹوال کراسنگ پوائنٹ پر بھارتی حکام بشمول پولیس، فوج اور سول انتظامیہ کے حوالے کر دی۔

ان کا مزید کہنا تھا: 'لیہہ سے پولیس کی ایک ٹیم اور متوفی خاتون کا ایک قریبی رشتہ دار آیا تھا۔ قانونی و طبی لوازمات کی ادائیگی کے بعد لاش ان کے حوالے کی گئی ہے اور لیہہ کے لیے روانہ بھی ہوچکے ہیں۔'

پراسرار گمشدگی سے لاش کی برآمدگی تک

خیر النساء کے چچا غلام محمد نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ان کی بچی 26 اگست کی شام کو اپنے سسرال سے لاپتہ ہوئی اور ان کے شوہر عباس علی نے چوبیس گھنٹوں تک خاموشی اختیار کی۔

'خیر النساء کے سسرال والوں نے چوبیس گھنٹے بعد یعنی 27 اگست کی شام ہمیں فون کر کے بتایا کہ بچی لاپتہ ہے۔ یہ اطلاع ملتے ہی ہم انہیں ڈھونڈنے نکلے۔ کوئی پہاڑوں کی طرف گیا تو کوئی جنگلوں کی طرف۔ کوئی کھیتوں میں ڈھونڈتا رہا تو کوئی دریائے شیوک کے کناروں کو تکتا رہا۔

'بونگ ڈنگ سے کنٹرول لائن قریب 25 کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے۔ ہم میں سے کئی افراد ڈھونڈتے ڈھونٹے کنٹرول لائن کے بالکل نزدیک پہنچے لیکن ان کا کوئی اتہ پتہ نہیں ملا۔'

غلام محمد نے انکشاف کیا کہ بے شک بلتی قوم کنٹرول لائن کی وجہ سے منقسم ہے لیکن واٹس ایپ اور فیس بک جیسے پلیٹ فارمز نے انہیں آپس میں جوڑے رکھا ہے۔

'جب ہمیں خیر النساء کا کوئی اتہ پتہ نہیں ملا تو ہم نے بلتستان میں اپنے رشتہ داروں اور جان پہچان کے لوگوں کو بذریعہ واٹس ایپ مطلع کیا کہ ہماری بچی لاپتہ ہوئی ہے اور آپ برائے مہربانی دریائے شیوک کے کناروں پر نظر رکھیں۔

'اتفاق سے پانچ ستمبر کی شام کو بلتستان کے چھوربٹ تھونگموس میں اپنی ایک رشتہ دار خاتون کی بیٹی نے دریائے شیوک کے کنارے پر ایک لاش دیکھی۔ اگلی صبح گاؤں کے نوجوان موقع پر پہنچے اور پولیس کو بھی مطلع کیا جس کے بعد وہاں کی مقامی پولیس نے لاش کو اپنی تحویل میں لے لیا۔'

ادھر ضلع لیہہ میں پولیس تھانہ ترتوک یہ پتہ لگانے میں جٹی ہے کہ آیا خیر النساء کو قتل کیا گیا ہے یا اس نے 'موت کا دریا' کہلائے جانے والے دریائے شیوک میں چھلانگ لگا کر خود کشی کی ہے۔

پولیس نے خیر النساء کے والد محمد ابراہیم کی شکایت پر مقدمہ درج کر کے عباس علی اور ان کے بھائی کو حراست میں رکھا ہے۔ عباس علی جموں اینڈ کشمیر بینک میں بحیثیت چوکیدار نوکری کرتے ہیں۔

بھارتی فوج کا مختصر راستہ کھولنے سے انکار

غلام محمد نے بتایا کہ لواحقین اور مقامی نمائندوں نے حکام سے گزارش کی تھی کہ لاش کو سات کلو میٹر کے مختصر تھنگ – فرانو راستے سے واپس لایا جائے لیکن بھارتی فوج نے اس کی اجازت نہیں دی۔

'بھارتی فوج کے مقامی کمانڈنگ افسر نے ہمیں بتایا کہ خاردار تار کاٹنی پڑے گی اور یہاں پر کوئی دروازہ بھی نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ رسک نہیں لے سکتے ہیں۔ غیر مبہم الفاظ میں کہوں تو فوج نے راستہ کھولنے سے انکار کیا۔

'اگر بھارتی فوج اجازت دیتی تو لاش دریائے شیوک کے کنارے سے واپس لائی جا سکتی تھی۔ تھنگ گاؤں سے بلتستان کا فرانو گاؤں بالکل نزدیک ہے۔ ہم یہاں سے فرانو کے لوگوں کو دیکھتے ہیں لیکن بات نہیں کر پاتے ہیں۔'

خیر النساء کے چچا کے مطابق بلتی قوم بہت جذباتی ہے اور بلتستان کے سرحدی دیہات کے لوگ لاش کی درآمدگی کے بعد ہم سے کافی ناراض ہیں۔

'اُن کا کہنا ہے کہ ہم نے لاش کی مختصر راستے سے واپسی کے لیے کوششیں نہیں کیں۔ پھر ہم نے انہیں وہ تمام درخواستیں بھیجیں جو ہم نے یہاں حکام کے سامنے رکھی تھیں۔'

غلام محمد نے بتایا کہ بونگ ڈنگ اور دیگر سرحدی دیہات میں اکثریت نوربخشی مسلمانوں کی ہے اور اتفاق سے جن لوگوں نے چوربٹ تھونگموس میں خیر النساء کی لاش دیکھی وہ بھی نوربخشی مسلمان ہیں۔

'لداخ اور بلتستان میں اکثریت شیعہ مسلمانوں کی ہے لیکن ہمارے سرحدی دیہات چاہیے وہ سرحد کے اس پار ہیں یا دوسری طرف میں اکثریت نوربخشی مسلمانوں کی ہے۔ چھوربٹ تھونگموس میں ہماری بچی کی لاش برآمد کرنے والے لوگ بھی نوربخشی مسلک سے وابستہ ہیں۔'

والد کی فریاد اور پاکستانی حکام کی دریا دلی

خیر النساء کے والد محمد ابراہیم نے بلتستان کے چھوربٹ تھونگموس میں لاش کی برآمدگی کی اطلاع ملتے ہی دونوں ممالک کی حکومتوں سے لاش گھر بھیجنے کی مودبانہ اپیل کی تھی۔

ان کا اپنے ایک مختصر تحریری بیان میں کہنا تھا: 'میں دونوں ممالک یعنی حکومت بھارت اور حکومت پاکستان سے پرنم آنکھوں سے دونوں ہاتھ جوڑ کر اپیل کرتا ہوں کہ مجھ غریب پر رحم فرما کر میری بیٹی کی میت کو مجھ تک پہنچائیں تاکہ غریب والدین کے دلوں میں جلتی ہوئی آگ تھوڑی کم ہوجائے۔'

محمد ابراہیم نے دونوں ممالک کی حکام اور سرحد کے آر پار کی بلتی قوم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا تھا: 'میں ان تمام سربراہان کا شکریہ ادا کرتا ہوں جو میری بیٹی کی میت کو مجھ تک پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں ساتھ ہی بلتی قوم کے ان تمام نوجوانوں اور خواتین کا شکریہ ادا کرتا ہوں وہ چاہے سرحد کے اس طرف ہوں یا دوسری طرف آپ تمام نے میری مرحوم بیٹی کی میت کا احترام کیا اور اس کی میت کو مجھ تک پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔'

محمد ابراہیم اور بلتی نمائندوں کی اپیل اور سوشل میڈیا پیغامات کے بعد پاکستانی حکام نے لاش واپس بھیجنے کی کوششیں شروع کیں۔ بظاہر بھارتی حکام سے اجازت نہ ملنے کے بعد پاکستان نے متوفی خاتون کی لاش پاکستان زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کے راستے واپس بھیجنے کا اعلان کیا۔

محمد علی رندھاوا نے خاتون کی لاش لواحقین کے سپرد کرنے کے بارے میں 9 ستمبر کو اپنے ایک ٹوئٹ میں جانکاری فراہم کرتے ہوئے کہا تھا: 'فوجی حکام نے اپنے بھارتی ہم منصبوں کو مطلع کیا ہے اور یہ طے پایا ہے کہ لاش "آزاد جموں و کشمیر" کے چلیانہ کراسنگ پوائنٹ پر ان کے (بھارتی حکام کے) حوالے کی جائے گی۔ لاش کو بذریعہ روڈ مظفرآباد روانہ کیا گیا ہے اور انشااللہ کل دوپہر تک وہاں پہنچ جائے گی۔'

قبل ازیں انہوں نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا تھا: 'محترمہ خیر النساء زوجہ عباس علی ساکنہ بوگ ڈنگ 26 اگست 2020 سے لاپتہ تھی۔ چھوربٹ کے مقامی لوگوں نے اس کی لاش کو دریائے شیوک سے برآمد کیا۔ تصدیق کے بعد لاش کو پہلے ڈی ایچ کیو گانچھے اور بعد میں ڈی ایچ کیو سکردو روانہ کر کے لاش گھر میں رکھا گیا۔'

بہہ کر پاکستان پہنچنے والی لاشوں کا مسئلہ

بھارت کے زیر انتظام لداخ اور کشمیر سے نکلنے والے تقریباً تمام دریاؤں کا پانی پاکستان کے زیر انتظام گلگت بلتستان اور کشمیر میں بہتا ہے۔ پاکستان میں ان دریاؤں سے سرحد کے اس پار سے تعلق رکھنے والے افراد کی لاشیں ملنا ایک معمول ہے۔

لداخ سے تعلق رکھنے والے مورخ عبدالغنی شیخ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا: 'لداخ اور کشمیر سے نکلنے والے تقریباً تمام دریا پاکستان میں ہی بہتے ہیں۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا ہے کہ کوئی لاش پانی میں بہہ کر پاکستان پہنچی ہے۔ ایسا درجنوں بار ہوا ہے۔ اکثر لاشیں وہیں پر سپرد خاک کی جاتی ہیں۔

'تاہم ماضی قریب میں ایسا پہلی بار ہوا ہے جب لاش واپس لائی گئی ہے لیکن جس راستے سے لائی گئی ہے وہ کافی لمبا ہے۔ اچھا ہوتا اگر لاش چند کلو میٹر کے مختصر راستے سے ہی واپس لائی جاتی۔'

عبدالغنی شیخ کے مطابق دریائے شیوک دریائے سندھ کا ایک معاون دریا ہے۔ دریائے شیوک کا پانی سیاچن گلیشیر سے ملحق ریمو گلیشیر سے نکل کر لداخ اور گلگت بلتستان میں ضلع گانچھے سے بہتا ہوا دریائے سندھ میں گرتا ہے۔

'بلتستان کا سرحدی گاؤں چھوربٹ کنٹرول لائن کے بالک نزدیک دریائے شیوک کے کنارے پر واقع ہے۔ 1971 کی جنگ سے قبل لوگ بہ آسانی بلتستان سے لداخ اور لداخ سے بلتستان جاتے تھے۔'

1971 کی جنگ

پاکستان اور بھارت کے درمیان 1971 میں ہونے والی مختصر جنگ کے دوران جہاں بنگلہ دیش پاکستان سے الگ ہو کر ایک علیحدہ ملک بن گیا وہیں بھارتی فوج نے لداخ میں پاکستان زیر انتظام بلتستان کے چار دیہات پر قبضہ کیا۔

مورخ عبدالغنی شیخ کہتے ہیں: 'جب 1971 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ ہوئی تو بھارت نے بلتستان کے چار دیہات ترتوک، تھنگ، چلونکھا اور تیاکشی پر قبضہ کیا۔ پاکستان کا سرحد کے اس حصے میں دفاعی نظام مستحکم نہیں تھا اور اسی وجہ سے بھارت چار دیہات پر قبضہ کرنے میں بہ آسانی کامیاب ہوا۔

'سننے میں آیا کہ وہاں پاکستان نے صرف تیس چالیس فوجی جوان تعینات کر رکھے تھے جن کے پاس اسلحہ و گولہ بارود بھی کم تھا۔ سننے میں یہ بھی آیا ہے کہ ان فوجیوں کی کمان ایک بنگلہ دیشی افسر کے ہاتھوں میں تھی جنہوں نے مزاحمت دکھانے میں دلچسپی نہیں دکھائی۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عبدالغنی شیخ کے مطابق جب بھارت نے ان دیہات پر قبضہ کیا تو کئی افراد پاکستان کے مختلف علاقوں میں روزگار کے سلسلے میں مقیم تھے۔ وہ پھر ان دیہات میں قدم نہیں رکھ سکے۔ کسی کے والد یہاں ہیں تو بیٹا وہاں بلتستان یا پاکستان کے کسی شہر میں رہتا ہے۔

'گزشتہ پچاس برسوں کے دوران ان دیہات نے کافی ترقی کی ہے۔ ان دیہات میں سینکڑوں افراد سرکاری ملازمت کرتے ہیں۔ چونکہ ان دیہات میں سیاح آتے ہیں اس لیے وہاں گیسٹ ہائوسز بھی تعمیر کیے  ہیں۔ وہاں تقریباً سبھی لوگوں کی اقتصادی حالت کافی بہتر ہے لیکن خاندان بٹے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے یہ لوگ کافی پریشان رہتے ہیں۔'

عبدالغنی شیخ کہتے ہیں: 'یہ ایک سنگین انسانی مسئلہ ہے۔ اپنے عزیز و اقارب سے ملنے کے لیے جو سفر چند گھنٹوں میں طے کیا جاسکتا ہے اس کے لیے یہاں کے لوگوں کو ہزاروں کلو میٹر کا سفر کرنا پڑتا ہے۔ پہلے تو ویزا بمشکل ہی ملتا ہے اور جب ملتا ہے تو واہگہ بارڈر کے راستے سے جانا پڑتا ہے۔

'میں نے ان دیہات کا دورہ بھی کیا ہے۔ آخری گاؤں تھنگ ہے۔ وہاں سے بلتستان کے دیہات نظر آتے ہیں۔ مسجدیں نظر آتی ہیں۔ اکا دکا آدمی بھی نظر آتے ہیں۔ وہ دیہات کافی سرسبز و شاداب ہیں۔ تاہم آپس میں بات نہیں ہوتی ہے کیونکہ وہاں چپے چپے پر فوج تعینات ہے۔ یہ دیہات 2010 میں سیاحوں کے لیے بھی کھول دیے گئے ہیں۔'

وہ مزید کہتے ہیں: 'دلچسپ بات یہ ہے کہ جہاں لداخ کے اکثر مسلم دیہات میں شیعہ مسلمان رہتے ہیں وہیں ان دیہات میں نوربخشی مسلمان یا سنی مسلمان رہتے ہیں۔ ان دیہات میں کوئی شیعہ مسلمان نہیں رہتا ہے۔ بلتستان میں تو تقریباً 90 فیصد آبادی شیعہ مسلمانوں کی ہے۔'

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا