گلگت بلتستان صوبہ بننے پر کشمیریوں کو اعتراض کیوں؟

کشمیری قیادت کا خیال ہے کہ گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے سے پاکستان کا کشمیر پر ستر سالہ موقف کمزور ہو گا تاہم گلگت بلتستان کی قیادت کا خیال ہے انہیں تنازعہ کشمیر سے اسی دن علیحدہ کر دیا گیا تھا جب وہاں سٹیٹ سبجیکٹ رول کا خاتمہ ہوا۔

(اے ایف پی)

گلگت بلتستان کو پاکستان کا باقاعدہ آئینی صوبہ بنانے کے لیے عسکری اور سیاسی قیادت کے درمیان مشاورتی ملاقات کی خبریں سامنے آنے اور بعض وفاقی وزراء کی جانب سے اس ملاقات کی تصدیق کے بعد جہاں گلگت بلتستان میں اس مجوزہ فیصلے کو سراہا جا رہا ہے وہیں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں بعض حلقوں کو تشویش ہےکہ اس فیصلے سے تنازعہ کشمیر پر پاکستان کا ستر سالہ موقف کمزور ہو گا اور 'تحریک آزادی کشمیر' پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق عسکری اور سیاسی قیادت کے درمیان ملاقات میں اتفاق ہوا ہے کہ اس فیصلے پر عملدرآمد کو اس سال 15 نومبر کو ہونےوالے گلگت اسمبلی کے انتخابات تک موخر کیا جائے اور اس دوران اس منصوبے کے مختلف پہلووں کا بھی جائزہ لیا جائے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نجی ٹیلی ویژن کے ایک پروگرام میں اس معاملے پر کشمیری سیاسی جماعتوں کے اتحاد کل جماعتی حریت کانفرنس اور مسلم کانفرنس سمیت کشمیری سیاسی قیادت کے تحفظات دور کرنے کے لیے مشاورت کا عندیہ دے چکے ہیں تاہم حریت کانفرنس اور مسلم کانفرنس کے عہدیداروں نے تصدیق کی ہے کہ ابھی تک ان سے کوئی باقاعدہ رابطہ نہیں کیا گیا۔

ماضی میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت اور سیاسی قیادت کے علاوہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی حریت پسند قیادت بھی گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت میں تبدیلی کی مخالف رہی ہے تاہم اس مرتبہ ابھی تک پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت اور حریت کانفرنس کا کوئی واضح موقف سامنے نہیں آیا۔

 البتہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے سابق وزیر اعظم اور مسلم کانفرنس کے سپریم ہیڈ سردار عتیق احمد خان نے گذشت دنوں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کے دوران کہا تھا کہ گلگت بلتستان اور 'آزاد کشمیر' کے داخلی مسائل کا حل حکومت پاکستان کی ذمہ داری ہے تاہم اگر ان علاقوں کی آئینی حیثیت کو چھیڑا گیا تو عمران خان اور نریندر مودی میں کوئی فرق باقی نہیں رہے گا۔

سردار عتیق کو خدشہ ہے کہ اگر پاکستان نے گلگت بلتستان کو باقاعدہ آئینی صوبہ بنایا تو اس سے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا دیرینہ موقف کمزور ہو گا اور اسے ہندوستان پر حاصل 'اخلاقی برتری' ختم ہو جائے گی۔

انڈیپنڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے سردار عتیق کا کہنا تھا کہ: 'ہم گلگت بلتستان کے عوام کو ان کے حقوق دینے کےخلاف ہر گز نہیں بلکہ ہم تو یہ چاہتے ہیں کہ وہاں 'سٹیٹ سبجیکٹ رول' بحال ہو اور گلگت بلتستان کے شہریوں کو تمام بنیادی حقوق ملیں۔ مگر اس کے لیے گلگت بلتستان کو صوبہ بنانےیا اس کی آئینی حیثیت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی ضرورت نہیں۔'

'اگر صوبہ بننے سے حقوق ملنے کا کوئی تعلق ہوتا تو پھر بلوچستان آج تک محرومی کا شکار نہ ہوتا۔'

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی حکومت اور ریاستی اداروں کو ایسا کوئی بھی اقدام اٹھانے سے پہلے حریت کانفرنس اور مسلم کانفرنس کی قیادت کو اعتماد میں لے کر ان کے خدشات دور کرنے چاہئیں۔ ان کے بقول، 'حریت کانفرنس تحریک آذادی کے لیے میدان عمل میں قربانیاں دے رہی ہے اور مسلم کانفرنس عالمی طور پر تسلیم شدہ کشمیریوں کی نمائندہ جماعت ہے۔'

 سردار عتیق کی نسبت کل جماعتی حریت کانفرنس کی قیادت گو مگو کا شکار ہے اور اس معاملے پرکوئی واضح موقف اپنانے سے گریزاں ہے۔

کل جماعتی حریت کانفرنس کے عہدیدار پرویز احمد ایڈوکیٹ نے اسلام آباد میں صحافی دانش ارشاد سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان نے ابھی تک گلگت بلتستان کے حوالے حریت کانفرنس سے کسی سطح پر کوئی بات چیت نہیں کی۔ 'ہمیں بھی میڈیا کے ذریعے سے گلگت بلتستان کے صوبہ بنانے کے منصوبے کی خبر ملی ہے۔ حریت کانفرنس نے وزیر اعظم پاکستان کو خط لکھ کر صورتحال وضاحت کے لیے ملاقات کا وقت ماناگا ہے.'

ان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم پاکستان سے ملاقات کے بعد ہی ( اس معاملے پر) کوئی موقف دیا جا سکے گا۔

گلگت بلتستان کے لوگ کیا چاہتے ہیں؟

 سکردو ضلع سے تعلق رکھنے والے سماجی و سیاسی کارکن علی شفاء کے بقول گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کی اطلاعات کے حوالے سے اس علاقے کے لوگوں میں ابھی تک بے یقینی کی سی کیفیت ہے۔ 'پہلے بھی الیکشن کے قریب ایسی خبریں سامنے آتی رہی ہیں اور اب بھی اس معاملے کو تحریک انصاف کی قیادت الیکشن مہم لوگوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے میں استعمال کر رہی ہے جبکہ باقی جماعتیں اس معاملے میں خاموش ہیں۔'

تاہم پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے صوبائی ایڈشنل سیکرٹری محمد تقی اخوانزادہ علی شفاء کی بات سے متفق نہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ماضی میں ایسا ضرور ہوتا رھا ہے تاہم اس مرتبہ فرق یہ ہے کہ عسکری اور سیاسی قیادت اس معاملے پر یکسو ہیں۔

'اس مرتبہ ریاستی ادارے اور سیاسی جماعتیں متفق ہیں کہ گلگت بلتستان کے لوگوں کو ان کے مطالبات کے مطابق ان کے جائز حقوق ملنے چاہیں اور ایسا صرف باقاعدہ آئینی صوبہ بنا کر ہی ممکن ہے'

تاہم تقی اخوانزادہ کے بقول ابھی تک واضح نہیں کہ اس کے لیے پاکستان کے آئین میں ترمیم کر کے گلگت بلتستان کو باقاعدہ صوبہ بنایا جائے گا یا صدارتی آرڈیننس کے ذریعے عبوری صوبہ بنا کر قومی اسمبلی اور سینٹ کے علاوہ دیگر قومی سطح کے فورمز میں نمائندگی دی جائے گی۔

کشمیری قیادت کو اعتراض کیا ہے؟

سردار عتیق احمد خان کا کہنا ہے کہ 1947 تک گلگت بلتستان ریاست جموں وکشمیر کا حصہ تھا۔ اس کی متنازعہ حیثیت کواقوام متحدہ کی قرادادوں کے علاوہ آئین پاکستان کے تحت بھی تسلیم کیا گیا ہے اور اس کا انتظام 1949 میں حکومت پاکستان اور مسلم کانفرنس کی سربراہی میں 'آزاد کشمیر' کی حکومت کے درمیان ہونے والے 'معائدہ کراچی' کے تحت حکومت پاکستان کو سونپا گیا۔ تنازعہ کشمیر کے حل تک گلگت بلتسان کا انتظام عبوری طور پر حکومت پاکستان کے پاس ہی رہنا چاہیے تاہم اسے مکمل طور پر پاکستان میں ضم کرنے یا صوبہ بنانے سے پاکستان کا اپنا موقف کمزور ہو گا۔

 پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں پیپلز پارٹی کے صدر چودھری لطیف اکبر نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کو تبدیل کرنا تقسیم کشمیر کی جانب ایک قدم ہو گا ۔ 'پہلے ہندوستان نے تقسیم کشمیر کی بنیاد رکھی اور اب عمران خان کی حکومت نریندر مودی کی حکومت کے اقدام کو آگے بڑھا رہی ہے۔'

'انڈیا پہلے ہی اقوام متحدہ کی قرارداوں کی خلاف ورزی کرتا چلا آ رہا ہے۔ پاکستان کو ایک اخلاقی برتری حاصل رہی ہے کہ اس جانب سے ان قرارداوں کی پاسداری کی گئی ہے۔ اب اگر یہاں سے بھی ان قراداروں سے متصادم فیصلے ہوں گے تو پھر فرق کیا رہے جائے گا؟'

سردار عتیق احمد خان کے بقول: 'ہم تو پوری ریاست جموں وکشمیر کو آزاد کروا کر پاکستان کا حصہ بنانے کے حق میں ہیں اور اسی لیے ستر سال سے قربانیاں دے رہے ہیں تاہم یہ صرف اور صرف اقوام متحدہ کی قرارداوں کے تحت استصواب رائے کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اس سے قبل اگر کسی تسلیم شدہ متنازعہ علاقے کو پاکستان میں ضم کیا جاتا ہے تو اس سے نہ صرف ہندوستان کے جبری اقدامات کی تائید ہو گی بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے سفارتی مفادات کو نقصان پہنچے گا۔'

تاہم تقی اخوانزدہ سردار عتیق اور چودھری لطیف اکبر سے اختلاف کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ: ' گلگت بلتستان کے لوگوں کو تو اس وقت ہی تنازعہ کشمیر سے علیحدہ کردیا گیا تھا جب وہاں سٹیٹ سبجیکٹ رول ختم کر کے ہمیں ریاست جموں کشمیر کے کسی مقام پر جائیداد خریدنے کے حق سے محروم کیا گیا۔'

ان کا اعتراض ہے کہ 1947 سے لیکر 1949 کے معائدہ کراچی ہونے تک کے درمیانی عرصے میں قائم کشمیر کی عبوری حکومت میں بھی گلگت بلتستان کو نمائندگی نہیں دی گئی۔ جموں وکشمیر کے مہاجرین کو  آزاد کشمیر اسمبلی میں نمائندگی اور ملازمتوں میں کوٹہ ملا، مگر گلگت بلتستان کو لوگ اس سے محروم رہے۔ اب اگر انہیں ان کے حقوق ملنے کی بات ہو رہی ہے تو کشمیری قیادت کو اس میں رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیے۔

'تنازعہ کشمیر کی اپنی ایک اہمیت اور حیثیت ہے اور وہ گلگت بلتستان کے صوبہ بننے سے کسی طرح بھی متاثر نہیں ہو گی۔'

تاریخی پس منظر

ماضی میں شمالی علاقہ جات کے نام سے جانا جانے والا خطہ گلگت بلتستان کا خطہ، 1947 سے قبل ریاست جموں و کشمیر کا حصہ رہا ہے تاہم 1947 میں اس علاقے کے لوگوں نے مہاراجہ کشمیر کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے 'اسلامی جمہوریہ گلگت' کے قیام کا اعلان کیا اور حکومت پاکستان کو الحاق کے لیے خط لکھا۔ تاہم اس الحاق کا کوئی دستاویزی ثبوت موجود نہیں ہے۔ 16نومبر 1947 کوحکومت پاکستان کا نمائندہ گلگت پہنچا اورانتظام سنبھالا۔

اگرچہ یہ خطہ نومبر1947سے پاکستان کے زیر انتظام ہے تاہم پاکستان نے آئینی طور پر اسے ہمیشہ سے ریاست جموں و کشمیر کا حصہ اور متنازعہ علاقہ قرار دیا ہے۔  1948اقوام متحدہ کے کمیشن برائے انڈیا پاکستان (یواین سی آئی پی)نے جنگی بندی معاہدہ کرایا اور 5جنوری 1949کو اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل نے پاکستان اور بھارت کے مابین سمجھوتے کے لیے منظور کی گئی قرار داد میں بھی گلگت بلتستان کو ریاست جموں وکشمیر کا حصہ تسلیم کیاگیا۔

حکومت پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں قائم مسلم کانفرنس کی حکومت کے مابین 28اپریل 1949 کوہونے والے معاہدہ کراچی کی شق نمبر ایک کی ذیلی شق7کے تحت پاکستان نے اس خطے کو ریاست کا حصہ قرار دیتے ہوئے گلگت بلتستان کا انتظام عارضی طور پر اپنے کنٹرول میں لیا۔

2مارچ 1963 کو پاکستان اور چین کے مابین ہونے والے سرحدی معاہدے میں بھی اس بات کو تسلیم کیا گیاہے ۔

گلگت بلتستان کا رقبہ لگ بھگ  73 ہزار مربع کلومیٹر  اور  2015 کی مردم شماری کے مطابق کل آبادی لگ بھگ 18 لاکھ ہے۔

آئینی اور قانونی پہلو کیا ہیں؟

آئنی ماہر اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس، جسٹس(ر) منظور حسین گیلانی کے بقول گلگت بلتستان کو صوبہ بنانا پاکستان کے آئین میں ترمیم کیے بغیر کسی طرح بھی ممکن نہیں۔ 'گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر دونوں متنازعہ علاقے میں اور پاکستان کو ان دونوں علاقوں کو یکساں نظر سے دیکھنا چاہیے۔ حکومت پاکستان نے جو حالیہ سیاسی نقشہ جاری کیا ہے اس کی بھی اس وقت تک کوئی حیثیت نہیں جب تک اسے آئین کی سطور میں شامل نہیں کیا جاتا۔'

جسٹس گیلانی کی تجویز ہے کہ آئینی ترمیم کے ذریعے دونوں متنازعہ علاقوں میں سٹیٹ سبجیکٹ رول برقرار رکھتے ہوئے انہیں پاکستان کے عبوری صوبے بنا کر مقامی لوگوں کو ان کے بنیادی حقوق دیے جانے چاہیے اور یہ فیصلہ کسی طرح بھی اقوام متحدہ کی قراردادوں سے متصادم نہیں ہو گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

'ہندوستان نے اپنے زیر قبضہ علاقوں کو ضم کر لیا جبکہ پاکستان کے زیر انتظام علاقوں کو نہ تو داخلی خود مختاری حاصل ہے اور نہ انہیں کی کوئی باقاعدہ آئنی حیثیت ہے۔ مبہم آئینی حیثیت کی وجہ سے یہاں کے مقامی وسائل پر مقامی حکومتوں کو اختیار حاصل نہ ہونے کی وجہ سے کئی اعتراضات جنم لیتے ہیں۔'

ان کے بقول مناسب حل یہی ہے کہ تنازعہ کشمیر کے حتمی حل تک صرف گلگت بلتستان کو نہیں بلکہ آزاد کشمیر کو بھی عبوری صوبہ بنا دیا جائے۔

تحریک انصاف کا امتحان

اگرچہ گلگت بلتستان میں تحریک انصاف صوبہ بنانے کے مجوزہ فیصلے کو الیکشن مہم میں لوگوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے تاہم پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جماعت کے عہدیدار اس معاملے پر کوئی بات کرنے کو تیار نہیں۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں لوگوں کی اس معاملے میں رائے یکسر مختلف ہے۔ اگر چہ گلگت بلتستان میں مجوزہ فیصلے کا فائدہ پاکستان تحریک انصاف کو ہو سکتا ہے اور وہ آئندہ ماہ الیکشن میں فتح حاصل کر سکتی تاہم پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں اس کے نتائج مختلف ہوں گے۔

عہدیدار کے بقول: 'پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے پی ٹی آئی کی جماعتی تنظیم نے مرکزی تنظم کو ان ممکنہ نتائج سے آگاہ کر دیا ہے اب یہ مرکزی قیادت کا امتحان ہے کہ وہ اس مشکل معاملے پر کیا پالیسی اختیار کرتے ہیں۔'

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان