مسواک بیچنے والا بچہ جو ایک پولیس والے کی مدد سے اب سکول جائے گا

سات سالہ عمیر علی شیخوپورہ کے ایک پیٹرول پمپ پر مسواکیں بیچ کر اپنے گھر کے خرچے میں ہاتھ بٹا رہا تھا مگر ایس ایچ او خرم شہزاد سے ایک ملاقات نے اس کی زندگی بدل دی۔

سات سالہ عمیر علی پنجاب میں ہاؤسنگ کالونی شیخو پورہ کے ایک پیٹرول پمپ پر مسواکیں بیچتا ہے۔ اس کا قد اور صحت دیکھ کر صاف دکھائی دیتا ہے کہ خوراک کی کمی نے اسے اپنی عمر کے مطابق بڑھنے نہیں دیا۔

عمیر علی اسی علاقے میں موجود جھگیوں میں رہتا ہے۔ اس کے چھ، سات بہن بھائی ہیں اور والدین کی کمائی کا کوئی مستقل ذریعہ نہیں۔ مالی حالات سے تنگ آ کر اس کی ماں نے اسے مسواک بیچنے پر لگا دیا مگر اس بچے کی زندگی میں چند روز قبل کچھ ایسا ہوا جو شاید وہ زندگی بھر یاد رکھے گا۔ ایک پولیس والے سے ملاقات نے اس کی زندگی کو ایسے بدل دیا کہ اب وہ 30 ستمبر سے علاقے کے ایک پبلک سکول میں پہلی بار اپنی پڑھائی کا آغاز کرے گا۔

شیخوپورہ کے تھانہ ہاؤسنگ کالونی کے ایس ایچ او خرم شہزاد عرف 'ایس ایچ او ڈوگر' ایک نوجوان پولیس افسر ہیں اور بیشتر پولیس افسروں سے مختلف ہیں۔ ایس ایچ او ڈوگر چند روز قبل عمیر سے اسی پیٹرول پمپ پر ملے جہاں وہ اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں میں مسواک کا گٹھا اٹھائے، انہیں بیچنے کے لیے ادھر سے ادھر گاڑیوں کے پیچھے بھاگتا ہے۔

انڈپینڈینٹ اردو سے بات کرتے ہوئے خرم شہزاد نے بتایا: 'میں نے جب اس بچے کو دیکھا تو سوچا کہ اسے تو سکول میں ہونا چاہیے، میں اس قابل ہوں کہ کم از کم ایک بچے کو تو سکول میں داخل کروا سکتا ہوں۔ میں نے اس کے والدین سے بات کی اور اسے قریبی پبلک سکول میں داخل کروا دیا، یونیفارم، کتابیں سب لے کر دیں اور اب یہ 30 ستمبر سے پہلی بار سکول جائے گا۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایس ایچ او ڈوگر کے کھاتے میں یہ پہلا اچھا کام نہیں ہے بلکہ یہ سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے علاقے کے بیشتر مسائل اور عمیر جیسے کئی ضرورت مندوں کی کہانیاں شیئر کرتے رہتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں: 'ٹوئٹر پر ایک ڈیڑھ برس سے میں یہ کام کر رہا ہوں۔ پاکستانی بہت بڑے دل کے لوگ ہیں چاہے وہ ملک کے اندر رہتے ہوں یا سات سمندر پار۔ میں جب سوشل میڈیا پر اس طرح کی کہانیاں شیئر کرتا ہوں تو بہت سے لوگ مجھ سے رابطہ کرتے ہیں۔ چیرٹی میں سب سے بڑا فقدان اعتماد کا ہوتا ہے اسی لیے میں کبھی خود اس معاملے میں نہیں پڑتا بلکہ میں مدد کرنے والوں کا ضرورت مندوں سے براہ راست رابطہ کروا دیتا ہوں یا ان کا نمبر بھی ان کی کہانی کے ساتھ لکھ دیتا ہوں تاکہ جس نے مدد کرنی ہے وہ خود ہی ان سے رابطہ کر لیں۔'

 

خرم شہزاد کہتے ہیں: 'پولیس والوں کا تاثر ہمارے معاشرے میں بے حد منفی ہے۔ میں اسی تاثر کو غلط ثابت کرنا چاہتا ہوں۔ ہم بھی جذبات رکھتے ہیں دوسروں کی تکالیف کو محسوس کرتے ہیں اور ہم بھی لوگوں کے لیے پولیس کی نوکری کے علاوہ بھی اچھا کرنا چاہتے ہیں۔ جب سے میں نے سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کی بھلائی کا کام شروع کیا ہے تب سے اس علاقے میں پولیس کے حوالے سے منفی تاثر کافی حد تک تبدیل ہوا ہے۔'

ان کا مزید کہنا تھا کہ اب جو  نئے نوجوان پولیس افسران آرہے ہیں وہ پڑھے لکھے بھی ہیں اور سوشل میڈیا پر بھی متحرک ہیں۔ 'زیادہ تر وہ اپنے اچھے کاموں کا پرچار کرتے ہیں کیونکہ پولیس اگر کوئی برا کام کر دے تو سارا میڈیا رپورٹ کرتا ہے لیکن اچھے کام کے حوالے سے کوئی بات نہیں کرتا۔'

خرم شہزاد کے ٹوئٹر پر شیئر کی گئی کئی ضرورت مندوں کی کہانیاں دیکھ کر لوگ ان کی مدد کرتے ہیں جبکہ دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سے صحافی بھی انہیں سوشل میڈیا پرفالو کرتے ہیں تاکہ انہیں یہاں سے اچھے سٹوری آئیڈیاز مل سکیں۔

عمیر علی کی کہانی کو دیکھ کر ایک پاکستانی نژاد امریکی کاشان خان نے بھی خرم شہزاد سے رابطہ کیا اور اپنے سکول میں عمیر علی کو مفت تعلیم کی پیش کش کی اور عمیر سے ملاقات بھی کی۔ کاشان کچھ عرصہ قبل پاکستان آئے اور غریبوں کے لیے ایک سکول قائم کیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی نئی نسل