جو بائیڈن نے ’انشاء اللہ‘ کیوں کہا؟

امریکی صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے صدارتی مباحثے کے دوران یہ الفاظ اس وقت استعمال کیے، جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے ٹیکس ریٹرنز کے بارے میں بتا رہے تھے جو انہوں نے ابھی تک جاری نہیں کیے۔

امریکی صدارتی امیدوار جو بائیڈن (تصویر: اے ایف پی)

امریکی صدارتی امیدوار جو بائیڈن کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مباحثے کے دوران ’انشاء اللہ‘ کہنے کے بعد سوشل میڈیا پر خاصی گرماگرم بحث جاری ہے۔ 

کئی لوگ اسے مسلمانوں کے حق میں سمجھ رہے ہیں جبکہ بعض کا خیال ہے کہ یہ اسلام کے خلاف ہے۔ دوسری جانب کچھ کو حیرت ہے کہ بائیڈن نے یہ عربی اصطلاح سیکھی کہاں سے۔ 

بائیڈن نے یہ اصطلاح کس موقعے پر استعمال کی؟

منگل کے روز ہونے والے مباحثے کے دوران ایک موقعے پر صدر ٹرمپ اپنے ٹیکس ریٹرنز کے بارے میں بتا رہے تھے جو انہوں نے ابھی تک جاری نہیں کیے۔ جب انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’میں نے کئی ملین ڈالر (ٹیکس ادا کیا ہے) اور آپ انہیں (ٹیکس ریٹرنز کو) جلد دیکھیں گے۔‘

اس پر بائیڈن نے کہا: ’کب؟ ان شاءاللہ؟‘

بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بائیڈن نے یہ فقرہ طنزاً کہا تھا۔ یاد رہے کہ بائیڈن رومن کیتھولک ہیں۔

ایک اردو مزاح نگار کا یہ فقرہ مشہور ہے کہ جب مسلمانوں نے کوئی کام نہیں کرنا ہوتا تو وہ کہتے ہیں، ’ان شاء اللہ۔‘ اس سے مطلب یہ لیا جاتا ہے اگر اللہ نے چاہا تو کام کر دوں گا، ورنہ اپنا تو کوئی ارادہ نہیں۔‘

بادی النظر میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بائیڈن نے بھی کچھ اسی معنی میں یہ فقرہ استعمال کیا تھا۔ 

اب بائیڈن کا جو بھی مطلب ہو لیکن سوشل میڈیا پر لوگ اس کے مختلف معنیٰ بیان کر رہے ہیں۔

صحافی مہدی حسن نے لکھا: ’کسی کو پتہ ہے کہ بائیڈن کو ’ان شاء اللہ‘ کی سطر کہاں سے ملی ہے اور انہوں نے کیسے اسے مناسب طنزیہ طریقے سے استعمال بھی کر لیا؟‘

بیس نامی ایک سوڈانی نژاد ریپر نے کہا، ’کیا بائیڈن نے انہیں ان شاءاللہ کہا؟ میں یہی کچھ سننا چاہتا تھا۔‘

اسی طرح جاڈ نامی ایک صارف نے لکھا: ’بائیڈن نے جس طرح انشاء اللہ کہا، یہ اسی طرح تھا جیسے میرے والدین کرتے ہیں۔‘

انیسہ صوبیدار نامی صارف نے بھی لکھا کہ جوبائیڈن کے یہ الفاظ بالکل مسلمان والدین کی طرح ہیں، جب انہوں نے کوئی کام نہ کرنا ہو تو وہ کہتے ہیں، ’انشاء اللہ۔‘

 

زیادہ پڑھی جانے والی سوشل