چترال کی فٹ بالر کرشمہ علی تنقید کی زد میں کیوں؟

حال ہی میں امریکی میگزین ’فوربس‘ کی ابھرتے کھلاڑیوں اور اداکاروں کی فہرست میں شامل کیے جانے والی کرشمہ علی اپنے علاقے چترال میں خواتین کو یکسان مواقع فراہم کرنے کی کوششیں کر رہی ہیں۔

کرشمہ نے اپنی تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رکھا ہوا ہے۔(انسٹاگرام)

کرشمہ علی پاکستان کی وادی چترال سے تعلق رکھنے والی پہلی نوجوان خاتون فٹ بال کھلاڑی ہیں جو قومی اور بین الاقوامی سطح پر کھیل چکی ہیں۔

امریکی میگزین ’فوربس‘ نے گذشتہ دنوں انہیں انڈر 30 (30 سال سے کم عمر) ابھرتے کھلاڑیوں اور اداکاروں کی فہرست میں شامل کیا۔ اس شہرت کی وجہ سے کرشمہ علی کو خاندان اور اپنے علاقے کے لوگوں کی مکمل حمایت حاصل ہے اور وہ سب خوش بھی ہیں لیکن کچھ قدامت پسندوں کی طرف سے انہیں سوشل میڈیا پر تنقید کا نشانہ بھی بنایا جا رہا ہے۔

’فوربس‘ کی فہرست میں شامل کیے جانے کے بعد ٹوئٹر پر انہوں نے اپنے والد کو مخاطب کرکے جو ردعمل دیا اس پر سب نے ان کی تعریف کی۔ انہوں نے لکھا: ’بابا دیکھیں ہم کتنے دور تک آ گئے ہیں۔‘

کرشمہ اپنے علاقے میں خواتین کو یکسان مواقع فراہم کرنے کی کوششیں کر رہی ہیں جو ایک چیلنج بھی ہے۔ وہ چترال ویمنز سپورٹس کلب کی بانی بھی ہیں۔

 کرشمہ نے ایک بین الاقوامی ٹورنامنٹ میں بھی پاکستان کی نمائندگی کی ہے۔ انہوں نے 2016 میں دبئی میں جوبلی گیمز میں پاکستان کی طرف سے کھیلا۔ تاہم  یہ پاکستان فٹ بال فیڈریشن کے تحت نہیں تھا۔

کرشمہ علی کے والد کے مطابق کرشمہ اپنے علاقے کی خواتین کے لیے چترال ویمن ہینڈی کرافٹ کے نام سے اپنا ادارہ بھی چلاتی ہیں تاکہ خواتین کو روزگار مل سکے اور ان کی حوصلہ افزائی ہو۔ کھیل کے علاوہ وہ کرونا (کورونا) وبا کے دوران لوگوں کی مدد میں بھی پیش پیش رہی ہیں۔

یہ نوجوان اپنی تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وہ بزنس مینیجمنٹ کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ پاکستان میں دیگر متحرک خواتین کی طرح کرشمہ بھی تنقید کی زد میں آتی رہتی ہیں لیکن میگزین کے اعلان کے بعد اس میں اضافہ دیکھا گیا۔

ایک شوسل میڈیا صارف کہتے ہیں ’ظاہر ہے جیسی گیم ویسا لباس اب وہ برقہ پہن کے تو کھیلنے سے رہیں تاہم یقیناً کوئی بھی زی شعور آدمی ایسے کپڑوں کی حمایت نہیں کرے گا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان پر کی جانے والی تنقید کے بارے میں چترال میں شعبہ تعلیم سے منسلک ظفر احمد نے کہا کہ کچھ لوگ بلاجواز انہیں نشانہ بنا رہے ہیں۔ ’پہاڑوں کے دامن میں واقع ایک چھوٹے سے گاؤں سے ایک لڑکی رسموں کی زنجیروں سے نکل کر فٹ بال جیسے کھیل میں حصہ لینا بھی بڑی بات ہے۔ یہاں ایک نئی سوچ پروان چڑھتی ہے کہ لڑکیاں بھی نئے نئے شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کو آزما سکتی ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ لگ بھگ 20 سال سے پہلے لڑکیوں کی تعلیم اور کام کرنے کو بھی مسئلے کے طور پر لیا جاتا تھا لیکن اب لڑکیاں پڑھ لکھ اور کام کر کے ماں باپ کا سہارا اور بھائیوں یا شوہروں کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہیں۔ ’اس چیز کو بھی اسی طرح لینا چاہیے۔ کسی بھی رسم، نظریے اور ٹرینڈ کو صرف اس لحاظ سے جانچنا چاہیے کہ اس سے لوگوں کی زندگی میں کتنی بہتری آتی ہے۔ اور آسکتی ہے۔‘

 چترال سے تعلق رکھنے والے فیڈرل یونیورسٹی اسلام آباد کے اسسٹنٹ پروفیسر شفیق الملک کہتے ہیںـ: ’اس دور میں بھی ہمارے معاشرے میں مرد اور عورت کو برابر نہیں سمجھا جاتا۔ صحت مند مشاغل خواتین کا بھی حق ہے۔ یہ ہمارے لیے فخر کی بات ہے کہ چترال سے تعلق رکھنے والی بیٹی نیشنل اور انٹرنیشنل لیول پر نام بناتی ہے اور ہماری نمائندگی کرتی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا: ’باقی یہ ہماری سوچ ہے۔ جو مسائل ہوتے ہیں ان پہ دھیان نہیں دیتے اور کسی کامیاب شخص کو بلاجواز تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ خواتین کو بھی مردوں کی طرح ہر شعبے میں آگے آنا چاہیے اور ملکی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔ یہ ہمارے قابل فخر اور خوش آئند بات ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین