کوئی پاکستانی غدار نہیں ہو سکتا: اسلام آباد ہائی کورٹ

غداری الزامات کی منظم مہم اور ہراساں کیے جانے کے حوالے سے صحافی فخر درانی کی درخواست پر جمعے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی جس میں چیف جسٹس نے حکومتی اداروں کو صحافی کو ہراساں کرنے سے روک دیا۔

عدالت نے چئیرمین پیمرا اور آئی جی اسلام آباد کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت دو ہفتے کے لیے ملتوی کر دی۔ (اے ایف پی)

اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکومتی اداروں کو صحافی فخر درانی کو ہراساں کرنے سے روک دیا ہے اور سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری اطلاعات، ڈی جی ایف آئی اے کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کر لیا۔

جمعے کو صحافی فخر درانی کی ان کے خلاف غداری الزامات کی منظم مہم اور ہراساں کیے جانے کے حوالے سے درخواست پر سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی صدارت میں ہوئی۔ 

سماعت کے آغاز میں چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ ان کے خلاف الزام کیا ہے؟ اس سوال کے جواب میں فخر درانی کے وکیل عمران شفیق نے عدالت کو بتایا کہ عاصم باجوہ کے اثاثوں کے معاملے پر فخر درانی کا بھارتی آرمی کے سابق افسر سے تعلق جوڑا جا رہا ہے۔ را سے تعلق کا جھوٹا الزام لگا کر صحافی اور ان کے خاندان کی جان کو خطرے میں ڈال دیا گیا ہے۔

وکیل نے مزید کہا کہ فخر درانی کا عاصم باجوہ کے اہل خانہ کی ایس ای سی پی میں رجسٹرڈ کمپنیوں کے ڈیٹا لیک ہونے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا: ’فخر درانی نے وفاقی وزیر فیصل واوڈا کے خلاف حقائق پر مبنی خبر کی جس کا انہیں رنج ہے۔ فیصل واوڈا اپنے رنج کی وجہ سے اس معاملے کو اس کے ساتھ لنک کر کے مہم چلا رہے ہیں۔ غداری کےالزامات لگائے جا رہے ہیں اور بھارتی خفیہ ایجنسی را سے تعلق جوڑا گیا ہے۔‘

اس پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا: ’کوئی پاکستانی غدار نہیں ہو سکتا۔‘

 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

واضح رہے وزیر اعظم کے سابق معاون اور چئیرمین سی پیک عاصم سلیم باجوہ کے اہل خانہ کے بیرون ملک اثاثوں سے متعلق صحافی احمد نورانی نے خبر دی تھی جس کے بعد عاصم باجوہ نے اس خبر کو مسترد کرتے ہوئے اپنی وضاحت جاری کی تھی۔ بعد میں انہوں نے وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات کے عہدے سے بھی استعفیٰ دے دیا تھا۔

عاصم باجوہ کے اثاثاجات پر بھارتی ریٹائرڈ آرمی افسر گوروو آریا نے احمد نورانی کی خبر سے پہلے پروگرام کیے تھے۔ عدالت میں جب ایس ای سی پی کے ریکارڈ تک رسائی کی درخواست دی گئی وہ بھارتی افسر کے پروگرام کرنے سے پہلے کی ہے۔ ایس ای سی پی میں عاصم باجوہ کے ریکارڈ کی درخواست فخر درانی کے توسط سے دائر ہونے کا بھی الزام ہے جس کی وجہ سے یہ تانے بانے بُنے گئے۔

عدالت نے چئیرمین پیمرا اور آئی جی اسلام آباد کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت دو ہفتے کے لیے ملتوی کر دی۔

درخواست کا متن

صحافی فخر درانی نے عدالت میں درخواست گذشتہ روز دائر کی تھی جس میں انہوں نے موقف اپنایا کہ ایک چینل پر گھنٹوں تک ایس ای سی افسر، ریٹائرڈ بھارتی آرمی افسر اور ان کی تصاویر دکھائی گئیں جنہیں دیکھا کر الزام لگایا گیا کہ یہ ٹرائیکا پاکستان کے مفادات اور قومی سلامتی کے خلاف کام کر رہا ہے. انہوں نے کہا کہ مذکورہ چینل نے انہیں اپنے پروگرام میں ایس ای سی پی ڈیٹا لیکج میں ملوث قرار دیا۔

درخواست میں مزید کہا گیا کہ کابینہ ممبر اور ایک میڈیا ہاؤس کی تضحیک آمیز مہم سے ان کی جان کو خطرہ ہے۔

درخواست کے مطابق: ’میرے خلاف جھوٹی مہم چلائی جا رہی ہے۔ میری زندگی کو سنجیدہ نوعیت کے خطرات اور پروفیشنل کیرئیر کو چیلنجز کا سامنا ہے۔ اپنے ہی وطن میں خود کو غیر محفوظ تصور کرتا ہوں۔‘

انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ اُن کے خاندان کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرنے کی ہدایت کی جائے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان