مزار قائد کے تقدس کا آرڈیننس کیا کہتا ہے؟

بہت کم لوگوں کو معلوم ہو گا کہ 1971 میں مزارِ قائد کے تقدس کے تحفظ کا آرڈیننس جاری گیا تھا جس میں ان سرگرمیوں کا ذکر ہے جو اس کے احاطے میں ممنوع ہیں۔

یہ مزار کراچی کی علامت بن گیا ہے (اے ایف پی)

کیپٹن صفدر کی گرفتاری کے واقعے سے قبل شاید بہت سے لوگوں کو معلوم نہ ہو کہ مزارِ قائد کے تقدس کے تحفظ اور دیکھ بھال کے لیے 1971 میں ایک خصوصی آرڈیننس جاری کیا گیا تھا۔

اس آرڈیننس کے شروع میں لکھا ہوا ہے کہ اس کا مقصد ’مزارِ قائد کے تقدس کی پامالی کو روکنا‘ ہے۔ آرڈیننس کے مطابق مزار اور اس کا ملحقہ علاقہ وفاقی حکومت کی ملکیت رہے گا اور اس میں مزارِ قائد اور اس کے اردگرد کے احاطے کی بھی تعریف کی گئی ہے، اس کا رقبہ 71 ایکڑ مقرر کیا گیا ہے اور اسے قومی اہمیت کی حامل عمارت قرار دیا گیا ہے۔ 

اب آ جائیے اصل معاملے پر۔ آرڈیننس کی شق نمبر 6 میں درج ہے:

کسی شخص کو اجازت نہیں ہو گی کہ وہ کسی قسم کا جلسہ، مظاہرہ یا جلوس نکالے یا اس کا اہتمام کر سکے، یا مزار کے احاطے کی بیرونی دیوار کے دس فٹ کے اندر کسی قسم کے سیاسی عمل میں ملوث ہو سکے۔

اسی آرڈیننس کی شق نمبر 8 کے مطابق:

مزار کا تقدس: کسی شخص کو کسی بھی ایسے عمل میں ملوث ہونے کی اجازت نہیں ہو گی جو قائد اعظم کے مزار کے تقدس اور وقار کے لیے توہین آمیز ہو۔

شق نمبر 10 میں سزاؤں کا ذکر ہے۔

سزا وغیرہ: جو کوئی اس آرڈیننس کی شقوں کے برخلاف عمل کرے گا، اسے تین سال قید کی سزا، یا جرمانہ، یا دونوں، دیے جا سکیں گے۔

اس آرڈیننس میں کہا گیا ہے کہ اس احاطے کی دیکھ بھال ایک خصوصی فنڈ کے ذریعے کی جائے گی جسے مزارِ قائد فنڈ کا نام دیا گیا ہے۔ اس فنڈ کے رقم قائد اعظم میموریل فنڈ اور وفاقی حکومت کی جانب سے عطیات کے ذریعے فراہم ہو گی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کیپٹن صفدر کے خلاف مقدمہ

مسلم لیگ ن کے رہنما کیپٹن (ر) صفدر کو گذشتہ رات حراست میں لیا گیا تھا۔ کراچی کی عدالت میں پیر کو تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ کیپٹن صفدر نے سیاسی نعرے لگا کر مزار قائد کا تقدس پامال کیا اور وہاں اسلحے کی نمائش کی۔

اس کے جواب میں کیپٹن صفدر کے وکیل یاسین آزاد نے کہا کہ یہ الزامات جھوٹے ہیں، اور ان کے موکل کے خلاف سیاسی مقدمہ بنایا گیا ہے۔ 

وہ عمارت جسے بننے میں 23 برس لگے

قائد اعظم کا مزار پاکستان کی سب سے زیادہ شناخت کی جانے والی عمارتوں میں سے ایک ہے اور اسے اکثر کراچی کی نمائندگی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

پاکستان کے دوسرے علاقوں سے جو لوگ کراچی جاتے ہیں، ان کی اولین منزلوں میں سے ایک یہ مزار ہوتا ہے، جب کہ بیرونِ ملک سے آنے والی اہم شخصیات بھی مزار پر حاضری دیتی ہیں۔

ہر سال قائد اعظم کی برسی اور دوسرے اہم قومی دنوں کے موقعے پر یہاں گارڈ آف آنر دیا جاتا ہے۔ 

1948 میں قائد اعظم محمد علی جناح کے انتقال کے ایک سال بعد ہی مزارِ قائد فنڈ قائم کر دیا گیا تھا جس نے شایانِ شان عمارت بنانے کے لیے تگ و دو شروع کر دی۔

اس کے بعد عمارت کے متعدد ڈیزائن تجویز ہوتے اور مسترد ہوتے رہے۔ بالآخر 1957 میں ڈیزائن کا ایک بین الاقوامی مقابلہ منعقد کروایا گیا جس میں برطانیہ کے ماہرِ تعمیرات ولیم وٹلفید کا ڈیزائن اول نمبر پر آیا۔ تاہم مسئلہ یہ تھا کہ یہ ڈیزائن جدیدیت (ماڈرنزم) کے نظریے کے زیرِ اثر تھا۔ یہ مجوزہ عمارت چھ پہلوؤں سے آسمان کی طرف یوں اٹھتی دکھائی دیتی تھی جیسے کوئی جدید سٹیلتھ طیارہ پر کھولے اڑان بھرنے کے لیے تیار ہو۔ 

جب اس ڈیزائن کے ماڈل اخباروں میں چھپے تو لوگوں نے اسے پسند نہیں کیا۔ پاکستان کے اس وقت کے روایتی معاشرے کے لیے یہ الٹرا ماڈرن عمارت ناقابلِ قبول تھی۔ بہت سے لوگوں کو لگا جیسے یہ عمارت قائد اعظم کی شخصیت اور ان کے ورثے سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ 

جب عوامی تنقید میں تیزی آئی تو فاطمہ جناح یک دم منظر عام پر آ گئیں اور اس ڈیزائن کی سخت مخالفت شروع کر دی۔ ان کا موقف تھا ان کے بھائی کے مزار کے لیے بننے والی اس عمارت کا نمونہ ایک انگریز فرم نے تیار کیا ہے اور یہ مغرب کا نمائندہ ہے، اس لیے قائد اعظم کے وژن اور اصولوں سے یکسر متصادم ہے۔

اس کے بعد مقابلے کا ایک اور راؤنڈ شروع ہوا اور آخر کار 12 دسمبر 1959 میں قائد اعظم میموریل فنڈ کی مرکزی کمیٹی نے قائد اعظم کے بمبئی کے زمانے کے دوست ماہرِ تعمیرات یحییٰ قاسم مرچنٹ کے ڈیزائن کی منظوری دے دی۔

اس ڈیزائن کی تیاری کے لیے یحییٰ مرچنٹ نے بخارا میں واقع 10ویں صدی کے سامانی مزار کے ڈیزائن سے استفادہ کیا، تاہم اس مزار کا رنگ بھورا ہے، جب کہ قائد کے مزار کے لیے سفید رنگ کا انتخاب کیا گیا جو اسے تقدس اور وقار کی فضا عطا کرتا ہے۔

مشہور تاریخ دان پروفیسر دانی نے اس ڈیزائن کی عمدہ وضاحت کی ہے: ’اس کا ماخذ ماضی میں ہے لیکن یہ قدیم روایت کی غلامانہ نقالی نہیں ہے۔ اصل میں ماضی کی مسلم روایت سے استفادہ کرتا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی یہ حال کے نئے تقاضوں اور جدید دور کی تکنیک کے تحت تعمیر کیا گیا ہے۔‘

ایک مزار، تین ڈکٹیٹر

فوجی صدر ایوب خان نے 31 جولائی 1960 کو مزار کا سنگِ بنیاد رکھا۔ تاہم عمارت کو تعمیر ہوتے ہوتے 11 برس بیت گئے اور ایک اور فوجی سربراہ جنرل یحییٰ خان نے 18 جنوری 1971 میں مزارِ قائد کا افتتاح کیا۔ مزار کے اصل نقشے کے مطابق مزار کے چاروں طرف باغات بھی شامل تھے، تاہم انہیں بننے میں مزید تین عشرے صرف ہوئے اور ایک اور فوجی ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف نے ان کا افتتاح کر کے 24 دسمبر 2000 کو مزار کی تعمیر مکمل کر دی۔ 

اس وقت قائد اعظم کو دنیا سے گزرے 52 برس گزر چکے تھے۔ 

اس مزار کے علاوہ قائد اعظم کو خراج پیش کرنے کے لیے اصل مزار کی تعمیر کے علاوہ قائدِ اعظم میموریل فنڈ نے 1952 میں تین دوسرے منصوبوں کی تعمیر کی بھی منظوری دی تھی، جن میں کراچی میں ایک مسجد، پنجاب میں ایک دارالعلوم اور مشرقی پاکستان میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی یونیورسٹی کا قیام شامل تھے۔ 

یہ منصوبے کبھی دن کی روشنی نہیں دیکھ سکے۔ 

 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان