’مزار قائد وفاق کے زیر انتظام ہے، سندھ پولیس کی حدود ہی نہیں‘ 

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلی سندھ کے ترجمان عبدالرشید چنا نے بتایا: 'جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ سمیت دیگر وفاقی اداروں کی مانند مزار قائد کا تمام رقبہ وفاقی حکومت کے زیر انتظام ہے، مزار کا کوئی بھی حصہ سندھ پولیس کی حدود میں نہیں آتا۔

(اے ایف پی)

سندھ حکومت نے کہا ہے کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے مزار کے ’تقدس کو پامال‘ کرنے کے الزام میں مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز، ان کے شوہر کیپٹن (ر) محمد صفدر کی گرفتاری وفاقی حکومت کی ہدایت پر عمل میں آئی، سندھ حکومت تیکنیکی طور پر اس معاملے پر کوئی گرفتاری کروا ہی نہیں سکتی۔ 

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلی سندھ کے ترجمان عبدالرشید چنا نے بتایا: 'جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ سمیت دیگر وفاقی اداروں کی مانند مزار قائد کا تمام رقبہ وفاقی حکومت کے زیر انتظام ہے، مزار کا کوئی بھی حصہ سندھ پولیس کی حدود میں نہیں آتا۔ اس لیے مزار پر ہونے والے کسی بھی واقعے پر وفاقی حکومت کی ہدایت پر ہی کوئی مقدمہ درج ہوسکتا ہے، سندھ حکومت اگر چاہے تو بھی مقدمہ درج نہیں کرسکتی'۔ 

اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی جانب سے اتوار کو حکومت مخالف دوسرا جلسہ کراچی میں مزار قائد سے متصل باغ جناح میں رکھا، جس میں شرکت کرنے سے پہلے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز مزار قائد پہنچیں، جہاں ان کے ہمراہ ایک ویڈیو میں کیپٹن (ر) محمد صفدر کو نعرے لگاتے دیکھا گیا۔ 

بعد میں کراچی کے ضلعی شرقی کی پولیس تھانہ بریگیڈ نے وقاص احمد نامی شخص کی مدعیت میں کیپٹن (ر) محمد صفدر اور دیگر200 نامعلوم افراد کے خلاف قائداعظم مزار پروٹیکشن اینڈ مینٹیننس آرڈیننس 1971 کی دفعات 6، 8 اور 10جبکہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 506 بی کے تحت درج کیا۔ 

بعد ازاں پولیس نے کیپٹن صفدر کراچی کو آواری ہوٹل سے گرفتار کرلیا۔ 

عبدالرشید چنا کے مطابق: 'مزار قائد پر کسی واقعے کے بعد سندھ پولیس وفاقی حکومت کی ہدایت پر مقدمہ درج کرسکتی ہے، مگر مقدمے کے باجود مزار کے اندر جاکر کسی کو گرفتار نہیں کرسکتی، انھیں انتظار کرنا ہوگا کہ جس شخص پر الزام ہے وہ باہر آئیں تو انھیں گرفتار کیا جائے'۔ 

' جس انداز میں کراچی پولیس نے کیپٹن صفدر کو گرفتارکیا ہے وہ نامناسب ہے، یہ مقدمہ اور گرفتاری پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں میں خلا پیدا کرنے کی سازش ہے'۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

واضح رہے کہ قائداعظم مزار پروٹیکشن اینڈ مینٹیننس آرڈیننس 1971 کی دفعہ 6 کے تحت کسی شخص کو بھی مزار قائد کے اندر اور بیرونی احاطے سے 10 فٹ کے فاصلے تک کوئی اجلاس، مظاہرہ، جلسہ یا کسی قسم کی سیاسی سرگرمی کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ جب کہ آرڈیننس کی دفعہ 10 کے تحت خلاف ورزی کرنے والے فرد کی سزا قید ہے جس کی مدت 3 سال تک بڑھائی جاسکتی ہے یا جرمانہ اور یا پھر دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔ 

پاکستان مسلم لیگ ن سندھ کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی وفاقی حکومت کے وزرا رات بھر تھانہ برگیڈ میں کیپٹن صفدر کو گرفتار کروانے کے لیے بیٹھے رہے اور قائد اعظم محمد علی جناح کے مزار کوئی سیاسی نعرہ نہیں لگایا گیا۔ 

دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی نائب صدر وسابق گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا ہے کہ سندھ پولیس پر دباو کے ذریعے مقدمہ درج کرایا گیا ہے۔ 

مقامی میڈیا کے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے محمد زبیر نے کہا: 'وزیراعلی سندھ سے بات ہوئی ہے جلد حقائق سامنے لائیں گے، پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت کو مورود الزام ٹھرانے کیلئے سارا ڈرامہ رچایا گیا،وزیرعلی سندھ نے تصدیق کی ہے کہ پولیس پر بے پناہ دباو ڈالا گیا'۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان